آرمی چیف کی تقرری ہمارا مسئلہ نمبر 1 کیوں بن چکا ہے؟

سینئر صحافی اور اینکر پرسن جاوید چودھری نے کہا ہے کہ دنیا ترقی کرتی ہوئی کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم پاکستانی ایک گھن چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم ایک حکومت لاتے ہیں‘ اس کے مخالفین کو غدار اور کرپٹ ثابت کرتے ہیں اور پھر ان ’’کرپٹ‘‘ اور ’’غداروں‘‘ کو نہلا دھلا کر اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیتے ہیں اور پرانوں کو سڑکوں پر نکال دیتے ہیں‘ ہم نے دس سال سڑکوں کو آرام نہیں کرنے دیا‘ ہم دس سال سے ملک میں عدم استحکام بو اور کاٹ رہے ہیں اور اس کاشت کاری کے بعد ایک دوسرے سے یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ ہم ترقی کیوں نہیں کر رہے؟ ہم کشکول لے کر در در کیوں پھر رہے ہیں؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ مجھے بعض اوقات یہ ملک ایک ایسی گاڑی محسوس ہوتا ہے جسے ہم نے راؤنڈ اباؤٹ پر چلا چلا کر کھٹارہ بنا دیا‘ ہم میٹر دیکھتے ہیں توہم ہزاروں کلومیٹر سفر کر چکے ہیں لیکن جب باہر دیکھتے ہیں تو ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سے ہم چلے تھے لہٰذا ٹھنڈے دل سے سوچیے جو قوم 75 برسوں میں آرمی چیف کی تعیناتی کا فول پروف سسٹم نہیں بنا سکی‘ جو ہر تین سال بعد تعیناتی کے ہیجان میں مبتلا ہو جاتی ہے وہ دنیا کا کیا مقابلہ کرے گی۔

عمران خان کی احتجاجی سیاست کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم نے اسکام آباد میں 126 دن کا دھرنا کروا کر پوری دنیا میں ملک کا تماشا بنا دیا‘ دھرنے کے باوجود نواز شریف کم زور نہیں ہوئے تو پاناما کیس بنا دیا گیا‘ ٹی ایل پی کو بھی تین بار اسلام آباد لایا گیا‘ نگران جج بٹھا کر‘ ججوں کو واٹس ایپ پر فیصلے بھجوا کر نواز شریف کو اقتدار سے فارغ کیا گیا‘ الیکٹ ایبلز اکٹھے کر کے بنی گالا کی طرف ہانک دیے گئے۔

عمران خان کی سیف لینڈنگ کے لیے جہانگیر ترین کو بھی قربان کر دیا گیا اور الیکشن سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں بھی ڈال دیا گیا لیکن اس کے باوجود ٹاسک مکمل نہیں ہوا تو الیکشن کی رات آر ڈی ایس بٹھا دیا گیا‘ یہ بندوبست بھی کام نہیں آیا توچھ پارٹیوں کو اکٹھا بٹھا کر عمران خان کا اتحادی بنا دیا گیا اور یوں ایک ایسی حکومت بن گئی جس میں بیک سیٹ ڈرائیونگ فوج کر رہی تھی۔

فوج ملکوں ملکوں پیسے بھی مانگتی رہی اور معافیاں بھی مگر خان کی ہائیبرڈ حکومت پرفارم نہ کر سکی‘ حکومت کی بدانتظامی کی حالت یہ تھی کہ ورلڈ بینک کی ثالثی عدالت نے ریکوڈک کیس میں جولائی 2019 میں پاکستان کو پانچ ارب ڈالر جرمانہ کر دیا‘ لیکن حکومت مزے سے لیٹی رہی یہاں تک کہ جرمانے کی ادائیگی کا وقت آ گیا اور یہ معاملہ بھی دوسرے ایشوز کی طرح فوج کے سر پر آ گرا‘ آرمی چیف نے تحقیق کرائی‘ پتا چلا پاکستان کے فارن ریزروز نیویارک میں پڑے ہوئے ہیں اور امریکا کسی بھی وقت ان میں سے پانچ ارب ڈالر نکال کر آسٹریلین کمپنی کو دے دے گا‘ یہ جان کر جی ایچ کیو میں دوڑیں لگ گئیں۔ سٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ سے پوچھا گیا‘ وہ اس نزاکت سے واقف ہی نہیں تھے‘ وزیراعظم اس وقت سعودی عرب میں تھے‘ فوری طور پر خط لکھا گیا‘ خط جہاز پر سعودی عرب بھجوایا گیا‘ وزیراعظم کے سائن کرائے گئے‘خط بذریعہ جہاز نیویارک بھجوایا گیا اوریوں فارن ریزرو یو اے ای اور چین شفٹ کرائے گئے اور اس کے بعد فوج نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد معاملہ سیٹل کیا۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران دور حکومت میں حالات یہ تھے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سیشن تک فوج کرواتی تھی‘ حکومتی اتحادیوں کو قومی اسمبلی تک لانا اور بلوں کے حق میں ووٹ دلانا بھی فوج کی ذمے داری تھی اور اپوزیشن کو مخالفانہ تقریروں سے باز رکھنا بھی لیکن اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ پھر اسی حکومت کو نکالنا پڑا۔ لیکن کیا یہ کھیل یہاں ختم ہو جائے گا؟ جی نہیں! اب عمران خان کو تلوار بنا کر نواز شریف اور مریم نواز کے سر پر لٹکا دیا جائے گا تاکہ یہ بھی کام نہ کر سکیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اسی لیے ہمارا آج کا سب سے بڑا مسئلہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی اور عمران خان کا لانگ مارچ ہے‘ لوگ سارا دن ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے ہیں نیا آرمی چیف کون ہو گا؟ صدر کے پاس 48 (1) کے تحت اختیار ہے یہ حکومت کی کسی بھی ایڈوائس کو پندرہ دن اور پھر دس دن تک روک سکتا ہے چناں چہ یہ آرمی چیف کی تعیناتی 25 دن تک ڈیلے کر سکتا ہے۔ کیا عارف علوی ایسا کریں گے اور عمران اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی کیوں جا رہے ہیں؟ آپ ذرا سنجیدگی ملاحظہ کیجیے‘ دنیا کدھر جا رہی ہے اور ہم کس طرف دوڑ رہے ہیں‘ دنیا کے کیا کیا مسائل ہیں اور ہم مسائل کے ڈھیر پر بیٹھ کر کیا کر رہے ہیں؟ گوشت کو کوفتہ بناتے ہیں اور پھر کوفتے کو قیمے میں تبدیل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم ایک حکومت لاتے ہیں‘ اس کے مخالفین کو غدار اور کرپٹ ثابت کرتے ہیں اور پھر ان ’’کرپٹ‘‘ اور ’’غداروں‘‘ کو نہلا دھلا کر اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیتے ہیں اور پرانے حکمرانوں کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکال دیتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button