آشیانہ ہاؤسنگ ریفرنس، وزیراعظم شہباز شریف کو ریلیف مل گیا

احتساب عدالت نے آشیانہ ہائوسنگ ریفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف کو ریلیف دیتے ہوئے ان کی عدالت حاضری سے مستقل معافی کی درخواست منظور کر لی ہے۔
شہباز شریف نے مستقل حاضری معافی کے لیے درخواست دائر کر رکھی تھی ، شہباز شریف کی جانب سے امجد پرویز نے دلائل دیے۔شہباز شریف کو سرکاری مصروفیات کی وجہ سے ریلیف دیا گیا۔
اس سے قبل لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال اور رمضان شوگر ملز ریفرنسز میں وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی ایک دن کی حاضری معافی کی درخواست منظور کی تھی۔ لاہور کی احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز جبکہ شہباز شریف کے خلاف آشیانہ اقبال اور رمضان شوگر ملز ریفرنسز پر سماعت کی۔
درخواست میں کہا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اسلام آباد میں سرکاری امور میں مصروف ہیں جبکہ حمزہ شہباز بیٹی کی عیادت کے لیے لندن گئے ہیں۔وکلا ء نے بتایا کہ حمزہ شہباز نے11 اگست کو واپس آنا تھاتاہم ڈاکٹروں نے بیٹی کی طبیعت بہتر ہونے تک وہیں رہنے کا کہا ہے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر رمضان شوگر ملز میں بریت کی درخواستوں پر وکلا ء سے دلائل طلب کرلیے جبکہ آشیانہ ریفرنس میں نیب کے گواہوں کو طلب کیا۔
گزشتہ سماعت پر وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے عدالت میں جمع درخواست میں کہا گیا کہ جب بھی عدالت نے طلب کیا اپنی پیشی یقینی بنائی، یہ میرا فرض بھی ہے اور ذمہ داری بھی، اب میرے کندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے، قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست دی ہے. وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دی گئی مستقل حاضری معافی کی درخواست کی نیب نے مخالفت کی نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کو مستقل حاضری معافی دینے کی ٹھوس وجوہات نہیں، شہباز شریف کا حاضری معافی کی درخواست میں میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی نہیں دیا گیا. اس دوران شہباز شریف روسٹرم پر آگئے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتے ہوں، میں نے کبھی بلاجواز حاضری معافی کی درخواست دائر نہیں کی، میں اس عدالت کے حکم پر فوری پیش ہوتا رہا ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے بڑی ذمہ داری سے نوازا ہے، مجھ پر 15کروڑ روپے سے نالا تعمیر کرانے کا الزام ہے، ایسے کروڑوں روپے کے نالے میں نے پورے پنجاب میں بنوائے، میرے ترقیاتی کاموں کے حقائق آپ کے سامنے ہیں، مجھے 15 یا 18 کروڑ کی کرپشن کرنی ہوتی تو یہ کام نہ کرتا۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014,15 میں ایک صوبے نے گنے کی قیمتیں کم کردیں مجھے قیمتیں کم کرنے کا کہا گیا مگر میں نے گنے کی قیمتیں کم نہیں کیں،گنے کی قیمت مقرر کرتے وقت شوگرملز کے بجائے کاشت کار کے مفادات کو مدنظر رکھا، مجھے آئی ایم ایف کے وفد اور دیگرعالمی وفود سے ملاقات بھی کرنی ہوتی ہے، مجھے قومی ذمہ داریاں اداکرنی ہیں، آپ میری حاضری معافی کی درخواست مسترد کریں گے توپھرپیش ہوجاﺅں گا میں آپ کے حکم کا تابع ہوں میں بیرون ملک تھا تو کورونا کے دنوں میں آخری فلائٹ پر وطن واپس آیا میں نے کبھی بلاجواز حاضری معافی کی درخواست دائر نہیں کی.

Related Articles

Back to top button