آصف زرداری اب بلاول کی سیاسی تربیت کیوں نہیں کرنا چاہتے؟

بلاول بھٹو ملک کے نوجوان وزیر خارجہ رہے ہیں، انہوں نے 18 ماہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بلاول کو سیاست سکھانے کی ضرورت نہیں ہے سابق وزیر اعظم عمران خان نے افغانوں کا پاکستان کی جعلی شہریت دے کر … کے پی کے … کی ووٹر لسٹوں میں ان کا اندراج کروایا اپنے اسی مفاد کی خاطر عمران خان افغانوں کی حمایت کرتا ہے ، بیرون ملک بیٹھے ہوئے ولاگرز کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی جیتے گی، ’ان ولاگرز کو عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما، پیسے دے رہی ہے، الیکشن آٹھ دس روز ملتوی ہو بھی جائیں تو فرق نہیں پڑتا ، ان خیالات کا اظہار سابق صدر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف علی زرداری نے ایک انٹرویو کے دوران کیا . سینئر صحافی عاصمہ شیرازی سے انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ عمران خان افغانوں کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے پی ٹی آئی کو سہولت فراہم کرنے کے لئے افغانوں کو پاکستانی شہری قرار دیا گیا تھا اور مبینہ طور پر ووٹر لسٹوں میں افغانوں کو رجسٹر کرایا تھا الیکشن کمیشن اس معاملے کو دیکھ رہا ہے، میں اپنی پارٹی کو پہلے ہی یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر چکا ہوں۔انہوں نے ملک میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکر جھنگوی کے دفاتر کھولنے کی مبینہ حمایت کرنے پر عمران خان پر تنقید کی اور کہا کہ عمران خان سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہے تھے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پی ٹی آئی اب بھی ملک میں مقبول ہے،زمینی حقائق ان تاثرات سے مختلف ہیں۔ یہ مقبولیت نہیں ہمدردی ہے کیونکہ عمران خان جیل میں ہیں، پی ٹی آئی کو صرف چند وکلا کی حمایت حاصل ہے، کسی ایک حلقے میں پولنگ اسٹیشنوں سنبھالنے کے لیے بھی ان کے پاس کوئی کارکنان نہیں ہیں۔سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ سیاست میں کرکٹر کو لانچ کرنے کے منصوبے کے پیچھے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو غیر ملکی لابیوں کی حمایت بھی حاصل ہے، ان کی سابقہ اہلیہ جمائما اب بھی ان کے ساتھ ہیں اور وہ بلاگرز کے ذریعے عمران خان کو ایک مقبول رہنما کے طور پر پیش کرنے کے لیے پروپیگنڈہ کر رہی ہیں۔

آصف زرداری نے دعویٰ کیا کہ 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد پی ٹی آئی نے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے ان سے رابطہ کیا تھا اور انہیں پی ٹی آئی حکومت کی بقیہ مدت میں نصف حصہ دینے کی پیشکش کی تھی، جسے انہوں نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ’آپ نے بہت دیر کردی‘۔ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے 8 فروری کے انتخابات میں کچھ تاخیر کے امکان کا اشارہ دیا تاہم انہوں نے کہا کہ انتخابات ضرور ہوں گے۔اگر انتخابات میں مزید 8 سے 10 دن کی تاخیر ہو جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس سے زیادہ نہیں، تاہم انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا آئینی اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ملک کے کچھ علاقوں میں موسم کی شدید صورتحال کے حوالے سے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ خراب موسم کے علاوہ سابقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو سیکیورٹی مسائل کا بھی سامنا ہےایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ وہ بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔ بلاول امیدوار ہو سکتا ہے اور میں بھی امیدوار ہو سکتا ہوں، خورشید شاہ بھی کہتے ہیں کہ وہ وزیراعظم کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔

آصف زرداری نے دعویٰ کیا کہ پیپلزپارٹی آئندہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نمایاں نشستیں حاصل کرے گی اور وزیراعظم کے انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی، تاہم انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر فیصلہ کیا جائے گا۔ کراچی میں ہم سب سے بڑی پارٹی ہیں، ہم نے میئر کا انتخاب جیت لیا ہے جو کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔سابق صدر نے ایک بار پھر میثاقِ معیشت پر اتفاق رائے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے بعد تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر ملک کی معاشی بہتری کے لائحہ عمل پر بات کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہی شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا تھا، میں نے ہی شہباز شریف کو نمبرز پورے کرکے دیئے، وزیراعظم میں بنوں گا یا بلاول یہ وقت بتائے گا۔ آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف سے صرف ایک ملاقات ہوئی ہے، میں تو شہبازشریف کو اپوزیشن لیڈر بھی نہیں بنانا نہیں چاہتا تھا، ’خورشید شاہ نے اس کو مروا دیا اور میرے بیٹے سے سائن لے لیے میں کچھ کر نہیں سکتا تھا‘۔ ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ بلاول بھٹو ملک کے نوجوان وزیر خارجہ رہے ہیں، بلاول نے 18 ماہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بلاول کی وجہ سے ہی امریکا آپ سے بات کر رہا ہے بلاول کو سیاست سکھانے کی ضرورت نہیں۔بلاول نوجوانوں کا لیڈر ہے، میری خواہش ہے کہ آصفہ بھٹو الیکشن میں آئیں، آصفہ ابھی ہمارا سوشل میڈیا دیکھتی ہے۔

Related Articles

Back to top button