استعفوں کی تصدیق رولز کی خلاف ورزی، پیش نہیں ہونگے

تحریک انصاف نے استعفوں کی تصدیق کیلئے سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل فرح حبیب نے کہا کہ ان کی جماعت کے ارکان قومی اسمبلی استعفوں کی تصدیق کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، پی ٹی آئی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قومی اسمبلی سے مستعفی ہو چکے ہیں اور استعفوں کی تصدیق قائم مقام سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے ہو گئی تھی جس کا باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا۔
فرح حبیب نے کہا سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے استعفوں کی دوبارہ تصدیق رولز کی خلاف ورزی ہے۔ ایک بار استعفے منظور ہونے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوگیا تو دوبارہ تصدیق کے لیے پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلامیہ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے استعفیٰ دینے والے تحریک انصاف کے اراکین کو تصدیق کے لیے 6 جون کو طلب کیا ہے اور قومی اسمبلی سیکریٹری نے مستعفی اراکین کو مراسلے جاری کر دیے گئے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مراسلہ میں کہا گیا تھا کہ استعفوں کی تصدیق کا عمل 10 جون تک جاری رہے گا۔ روزانہ کی بنیاد پر 30 مستعفی اراکین اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ ہررکن کے لیے 5 منٹ کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے ارکان نے 11 اپریل کو قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اجتماعی استعفے سپیکر آفس میں جمع کروائے تھے،اوراس وقت کےقائم مقام سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے تحریک انصاف کے 123 ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرلیے تھے۔ استعفے منظور کرتے وقت قاسم سوری کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کے 125 ارکان کے استعفے موصول ہوئے تھے تاہم دو ارکان کی جانب سے استعفوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام کے رکن قومی اسمبلی پرنس محمد نواز خان اور اورکزئی ایجنسی کے جواد حسین نے سپیکر کو اپنے استعفوں کی تصدیق نہیں کی تھی۔ قاسم سوری کے مستعفی ہونے کے بعد راجہ پرویز اشرف سپیکر منتخب ہوئے تو انھوں نے استعفوں کی تصدیق پر نظرثانی کی رولنگ دیتے ہوئے استعفوں کی منظوری کو رولز کے خلاف ورزی قرار دیا تھا اور رولز کے مطابق استعفوں کی تصدیق عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

Related Articles

Back to top button