اسٹیبلشمنٹ کی الیکشن والی تجویز پراتفاق کیا

سابق وزیر اعظم اور تحریک انصا ف کے چیئرمین عمران خان نےایک بار پھر کہا ہے اسٹیبلشمنٹ کی 3 تجاویز میں سے الیکشن والی تجویز پر اتفاق کیا،میں استعفے اور تحریک عدم اعتمادکی تجویز کیسے مان سکتا تھا،میرے خلاف اس وقت سازش ہوئی جب چیزیں ٹھیک ہورہی تھیں،میری اس مافیا سے لڑائی تھی جو قیمتیں اوپرلےجارہی تھی۔
خیال رہے کہ چند روز قبل پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ میں کہا تھا تجاویز وزیر اعظم ہائوس کی جانب سے بھیجی گئی تھیں.
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہاجسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس اس وقت وزارت قانون کی جانب سے بھیجا گیا تھا، وزیرقانون نےجسٹس قاضی کے مختلف فلیٹس اور اثاثوں پربریف کیا تھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی غیر ضروری سمجھتا ہوں، ان کے خلاف دائر کیس غلطی تھی،ہمیں غیر ضروری طورپرعدالتی محاذآرائی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہاتوشہ خانہ سے جو کچھ لیا وہ ریکارڈ پر ہے، ایک غیر ملکی صدر نے گھر آکر تحفہ دیا وہ بھی جمع کرا دیا،ساڑھے تین سال بعد ان کو توشہ خانہ ملا ہے تو یہ اللہ کا احسان ہے، توشہ خانہ سے چیزیں 50 فیصد قیمت ادا کرکے خریدیں، ہم نےتوشہ خانہ کی چیزوں کی قیمت 15سے بڑھا کر 50 فیصد کی۔
عمران خان نے کہا فرح خان کے پاس عہدہ تھا نہ وزارت ، وہ کیسے پیسے لے سکتی ہے، اس سلسلے میں کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے۔
انکا کہنا تھاپچھلے انتخابات میں ٹکٹوں پر توجہ نہیں دی تھی، اس بار ٹکٹس خود دیکھ کردوں گا جب کہ اتحادیوں کوٹکٹ دے کرسبق سیکھا ہےکہ اتحادی نہیں ہونے چاہئیں، کسی الیکٹ ایبل کو ٹکٹ نہیں دوں گا۔ہمارے خلاف کرپشن یاکوئی اسکینڈل نہیں آیا،کوئی ڈیل کی ہے تو بتائیں، پی ٹی آئی کے سوا کسی جماعت کے پاس فارن فنڈنگ کا ریکارڈ نہیں، ہم نے کوئی فارن فنڈنگ نہیں لی، پارٹی سے نکالے گئے شخص نے غلط کیس کیا، فارن فنڈنگ کیس تمام جماعتوں کے اکٹھا چلائیں،ایف آئی اے میں تبدیلیاں ہورہی ہیں اور 24 ارب کی تفتیش کرنے والوں کو تبدیل کیا جارہا ہے، جب کہ شہبازشریف ابھی سے انجینرنگ کررہا ہے، یہ اپنے افسران لگا کرمیچ فکس کریں گے،یہ کوشش میں ہیں نواز شریف کے کیس ختم ہوں، یہ نیب ایف آئی سے کیسز ختم کرائیں گے۔انہوں نے کہا کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے ملک کو نقصان ہو، ہمارے لیے مضبوط فوج بہت ضروری ہے، میں اس لیے نہیں بول رہاکہ مضبوط ،متحد فوج پاکستان کی ضرورت ہے، ہم مسلمان ملک ہیں، مضبوط فوج ہماری سلامتی کی ضامن ہے
عمران خان کا کہنا تھا کراچی اور پشاور میں جتنے لوگ نکلے پاکستان میں پہلے نہیں دیکھا، جب یہ میچ کھیلتے ہیں تو امپائرساتھ ملا کرکھیلتے ہیں، قوم سے اپیل ہے انہیں تسلیم نہ کیا جائے، اگر قوم نے اس سازش کو تسلیم کرلیا تو ملک کے ساتھ برا ہوگا،انڈیا امریکا نے ڈو مور کی بات کی تو کوئی نہیں بولا، پاکستان نے امریکی جنگ سے بہت نقصان اٹھایا، روس سے ہتھیار، تیل،گندم اور گیس کی بات کی، روس گندم تیل 30 فیصد سستا دینے کو تیار تھا۔
انہوں نے کہا میرے خلاف نومبر سے سازش شروع ہوئی اور جنوری میں تحریک عدم اعتمادلانے کا پلان ہوا، امریکی سفارتخانے نے ہمارے ناراض ایم این ایز سے ملاقاتیں کیں، امریکی دھمکی آنے کے بعد اتحادی بھی ان کے ساتھ مل گئے، ہمیں کہا گیا روس نہ جائیں، دوسری جانب ان کا اتحادی انڈیا تیل خرید رہا تھا، ہمیں کہا گیا روس کے خلاف یو این میں ووٹ دیں،آزاد خارجہ پالیسی عوام کے مفاد کے لیے ہوتی ہے، قوم کو آزادی کےلیے نکلنا ہوگا، آزاد خارجہ پالیسی ہوتی تو یہ نہ ہوتا۔
انہوں نے کہا چیف الیکشن کمشنر کا نام اسٹیبلشمنٹ نے دیا تھا لیکن الیکشن کمشنر کا انتخاب آزاد باڈی کو کرنا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button