القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں عمران خان کی نااہلی یقینی کیوں؟

 نیب کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری القادر یونیوسٹی کیس میں عمل میں لائی گئی ہے۔ القادر یونیورسٹی کے مقدمے کے تانے بانے پاکستان کے بڑے پراپرٹی ٹائیکون اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کے خاندان پر برطانیہ میں دائر ہونے والے ایک مقدمے سے ملتے ہیں۔  عمران خان کے دور حکومت میں بحریہ ٹاؤن کی رقم برطانیہ میں ضبط کی گئی جس کے بعد پاکستان کی وفاقی حکومت اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان خفیہ طور پر تصفیہ ہو گیا تھا۔  ان کے بعد نئی بننے والی اتحادی حکومت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن نے 50 ارب روپے غیرقانونی طور پر برطانیہ منتقل کیے جنہیں وہاں منجمد کر لیا گیا تھا۔عمران خان کی حکومت کی جانب سے یہ رقم واپس لانے کے بجائے برطانیہ میں بحریہ ٹاؤن کو ریلیف دیا گیا۔  حکومت کا دعویٰ تھا کہ ’بحریہ ٹاؤن کے جو پیسے برطانیہ میں پکڑے گئے وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کر دیے گئے تھے۔‘  جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔ اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے نیشنل کرائم ایجنسی، بحریہ ٹاؤن اور ایسیٹ ریکوری یونٹ کے مابین خفیہ معاہدے کی منظوری دی۔ حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کی ضبط کی گئی رقم پر ریلیف دیتے ہوئے بدلے میں بحریہ ٹاؤن سے القادر یونیورسٹی کے لیے 458 اراضی حاصل کی گئی۔ عطیہ کی گئی اس اراضی کا معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا۔متعلقہ دستاویزات پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کی جانب سے دستخط کیے گئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق عمران خان کے خلاف ’’القادر ٹرسٹ‘‘ اہم ترین کیس ثابت ہوگا اور اس کیس کا نتیجہ بھی ان کی نااہلی کی شکل میں ہوسکتا ہے گوکہ فی الوقت اسے 60 ارب روپے کی خطیر رقم کے عوض ایک خفیہ معاہدے کے تحت ایک بزنس ٹائیکون کو فائدہ پہنچانے اور اس کے عوض اراضی حاصل کرنے کے الزام کا معاملہ قرار دیا جارہا ہے لیکن اس کے کرداروں اور تفصیلات اس سے بھی زیادہ ہوشربا ہوسکتی ہیں بالخصوص وہ کردار جو اس وقت خاموش ہیں اورابھی تک پس منظر میں ہیں ان کے سامنے آنے کے بعد کئے جانے والے انکشافات عمران خان کیلئے مشکلات کھری کر سکتے ہیں۔تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کا القادر یونیورسٹی کا معاملہ کیا ہے؟ عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو فائدہ پہنچاکر سیکڑوں کنال اراضی کیسے حاصل کی؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے 26 دسمبر 2019 کو رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں میں القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ 2 دسمبر 2019 کو ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے تین ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے بزنس ٹائیکون اور فیملی کیس میں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات (اے ایف اوز) اور فنڈز کی پاکستان واپسی سے متعلق معاملہ اٹھایا۔

نیشنل کرائم ایجنسی انگلینڈ نے رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کے سی ای او کے خلاف تحقیقات بند کر دیں اور اور بیرون ملک بزنس ٹائیکون کے اکاؤنٹ سے تقریباً 140 ملین پاؤنڈز پاکستان واپس بھیجے گئے۔ بعد ازاں تقریباً 140 ملین پونڈ پاکستان کو واپس بھیجے گئے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رقم سپریم کورٹ کے نیشنل بینک آف پاکستان میں اکاؤنٹ میں گئی۔ اس پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا رقم سرکاری اکاؤنٹ میں منتقل کی جانی تھی یا سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی جانی تھی جیسا کہ بزنس ٹائیکون نے رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کراچی کیس میں جرمانے کے طور پر سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے ادا کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔

اسلام آباد کے سب رجسٹرار آفس میں ٹرسٹ ڈیڈ کی رجسٹریشن کے اگلے ہی مہینے میں رئیل اسٹیٹ ڈویلپر نے جہلم میں 460 کنال اراضی خریدی اور زمین زلفی بخاری کے نام منتقل کر دی۔ اسٹامپ ڈیوٹی کی مد میں اس وقت زمین کی قیمت 243 ملین روپے مقرر تھی۔ ٹرسٹ کی تشکیل کے بعد 22 جنوری 2021 کو زلفی بخاری نے یہ زمین ٹرسٹ کے نام منتقل کی۔ یہ 458 کنال اراضی موضع بکراالہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم میں ذوالفقار عباس بخاری کے نام پر القادر کے متولی کے نام پر واقع ہے۔

24 مارچ 2021 کو زمین کے اس عطیہ کے ساتھ دیگر عطیات جیسے انفرا اسٹرکچر اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کی دیگر دفعات کو بشریٰ بی بی اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپر پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان عمران خان کی رہائش گاہ پر ہونے والے ایک معاہدے کے ذریعے تسلیم کیا گیا جب عمران خان وزیر اعظم دفتر میں تھے۔ رئیل اسٹیٹ ڈویلپر نے معاہدے میں اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ مجوزہ القادر یونیورسٹی کے قیام اور اسے چلانے کے تمام اخراجات برداشت کرے گا اور یہ کہ وہ القادر پراجیکٹ کے قیام اور اسے چلانے کے لیے ٹرسٹ کو فنڈز/پیسہ فراہم کرے گا۔

جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک القادر ٹرسٹ کو 180 ملین روپے کے عطیات ملے۔ جولائی 2020 سے جون 2021 تک ٹرسٹ کی کل آمدنی بھی لاکھوں میں تھی جبکہ عملے اور کارکنوں کی تنخواہوں سمیت کل اخراجات صرف 8.58 ملین روپے کے لگ بھگ تھے۔ نیب نے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے کے بدلے ایک رئیل اسٹیٹ ڈویلپر سے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر حال ہی میں عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر کے خلاف سینکڑوں کنال اراضی مبینہ طور پر حاصل کرنے کی اپنی انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کر دیا ہے اور اسی میں رینجرز کے ذریعے عمران خان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Related Articles

Back to top button