الیکشن سے پہلے ہی شرپسند عمرانڈوز کی ٹھکائی کا فیصلہ

ملک میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے۔بچی کھچی تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں انتخابی دنگل کی تیاریوں میں مصروف ہیں تاہم دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ خبریں زوروں پر ہیں کہ آٹھ فروری کو اعلان کردہ عام انتخابات سے قبل سانحہ نومئی میں گرفتار ایک سوتین ملزمان کے فوجی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا فیصلہ آجائے گا۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ملزمان کے زیر سماعت مقدمات کا فیصلہ آٹھ فروری سے پہلے آنے کے قوی امکانات ہیں۔ کیونکہ تمام ملزمان کے خلاف تفتیش اور ٹرائل کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب صرف فیصلہ سنانے کا مرحلہ باقی ہے، جس کی تیاری مکمل ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ برس اکتوبر میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سر براہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے چار ایک کی اکثریت سے سویلین کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے سے متعلق دائر درخواستوں پر آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیدیا تھا۔ اس شق کے تحت عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جاسکتے تھے۔ تاہم یہ فیصلہ آنے کے بعد سویلینز کےملٹری کورٹ مین کیسز چلانے کادروازہ بند ہو گیا تھا۔ تا ہم سپریم کورٹ کے ایک دوسرے بینچ نے اس فیصلے کو غیر موثر کر دیا، جب جسٹس سردار طارق مسعود کی سر براہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کا ٹرائل کا لعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر اپنا مشروط فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل جاری رہے گا، تا ہم فوجی عدالتیں اپیلوں کے فیصلے تک ٹرائل پر حتمی فیصلہ نہیں دیں گی۔ یہ فیصلہ پانچ ایک کی نسبت سے دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس مشروط فیصلے کے بعد فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے کا راستہ پھر ہموار ہو گیا تھا۔ یوں ملٹری کورٹس نے سانحہ نومئی کے ایک سو سے زائد ملزمان کے ٹرائل کا عمل جاری رکھا، جو ذرائع کے مطابق اب مکمل ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق قوی امکان ہے کہ عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل جاری رکھنے سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں کا فیصلہ جلد آ جائے گا۔ چونکہ سانحہ نومئی کے ملزمان کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلائے جانے سے متعلق زیادہ مضبوط دلائل دیئے گئے ہیں اور ملزمان کے خلاف انتہائی ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔ چنانچہ زیادہ امکان یہی ہے کہ انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا موجودہ پینچ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیدے گا، جس نے عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ختم کر دی تھی۔ اس صورت میں فوجی عدالتوں کوملزمان کے خلاف فیصلہ سنانے میں حائل رکاوٹ دور ہو جائے گی۔

دوسری جانب ماضی میں فوجی عدالتوں کا حصہ رہنے والے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کے مطابق سپریم کورٹ کے پہلے فیصلے کے بعد یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ ان ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چل ہی نہیں سکتے۔ لیکن سپریم کورٹ کے دوسرے بنچ کے فیصلے نے یہ رکاوٹ دور کر دی۔ اس کے بعد سے فوجی عدالتیں فنکشنل تھیں اور اب ان عدالتوں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔  ریٹائرڈ افسر کے بقول سب کو معلوم ہے کہ آٹھ فروری کو الیکشن ڈے کے موقع پر پی ٹی آئی نے گڑ بڑ کا پلان بنا رکھا ہے۔ اس سے قبل سانحہ نومئی کے ملزمان کو سزائیں سنادی جاتی ہیں تو اس کا ایک اثر یہ ہوگا کہ اگر دوبارہ کوئی فساد کا سوچ رہا ہے تو اسے واضح پیغام مل جائے گا کہ کس کو نہیں بخشا جائے گا۔ مذکورہ ریٹائرڈ افسر نے بتایا کہ فوجی عدالت میں فیصلہ سنانے کے لئے تین رکنی پینل موجود ہوتا ہے۔ جس کا سر براہ پریزائیڈنگ حج یا پریزیڈنٹ کہلاتا ہے اور وہ عموما کرنل رینک کا ہوتا ہے۔ فیصلہ لکھنے کے لئے فوجی عدالت میں اسٹینو گرافر بیٹھا ہوتا ہے۔ جبکہ وکیل دفاع اور پراسیکیوشن کا وکیل بھی موجود ہوتا ہے۔ ان تمام کی موجودگی میں تحریری فیصلہ سنادیا جاتا ہے۔ اس موقع پر کوئی سوال و جواب نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ مرحلہ دوران سماعت مکمل کیا جا چکا ہوتا ہے۔ اس سے قبل ملزم پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے اور اسے اپنے دفاع کا وقت دیا جاتا ہے۔جو زیادہ سے زیادہ سات روز کا ہوتا ہے۔فردجرم عائد کیے جانے کے بعد ملزم اپنے وکیل کے ذریعے پراسیکیوشن کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد یا گواہان پر جرح کا حق رکھتا ہے۔ جبکہ اسے اپنے دفاع میں کوئی گواہ یا دستاویز پیش کرنے کا بھی حق ہوتا ہے۔ کئی ملزمان اپنا وکیل خود کرتے ہیں اور جو اس آپشن کو اختیار نہیں کرتے ۔ انہیں سرکاری وکیل مہیا کر دیا جاتا ہے۔ سزاسنائے جانے کے بعد مجرم کے پاس چالیس روز کے اندرا پیل کا حق ہوتا ہے۔ یہ اپیل سننے کے لئے ایک عدالت قائم کی جاتی ہے۔ جسے کورٹ آف اپیل کہا جاتا ہے اور وہ سات روز کے اندر فیصلہ سنادیتی ہے۔ سزا برقرار رہنے کی صورت میں مجرم کے پاس پہلے ہائیکورٹ میں اپیل اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں جانے کا حق ہوتا ہے۔

Related Articles

Back to top button