الیکشن وقت پر ہوں گے اور جنرل باجوہ توسیع نہیں لیں گے

اسلام آباد اور راولپنڈی کے باخبر حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دوبارہ سیاست میں گھسیٹنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہے اور فوجی قیادت نے فوری الیکشن کے لیے کوئی کردار ادا کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا یے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کو ایک بار پھر واضح الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ افواج پاکستان کا ملکی سیاست میں اب کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی وہ سیاسی معاملات میں اُلجھ کر اپنی ساکھ خراب کرنے کو تیار ہیں۔
عمران خان کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی متنازعہ بنانے کی کوششوں سے بھی باز آ جائیں کیونکہ ایسا کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران کی آرمی چیف سے کوئی ملاقات ہوئی ہے تو وہ خان صاحب کی خواہش پر ہوئی ہوگی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فوجی قیادت نے اپنے غیر سیاسی ہونے کے عزم سے یو ٹرن لے لیا ہے۔
اسلام آباد کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل باجوہ کی صدر عارف علوی کی موجودگی میں عمران خان سے ایوان صدر میں ایک مختصر ملاقات ہوئی تھی لیکن وہ صرف 15 منٹ میں ختم ہوگئی تاہم ان کا اصرار ہے کہ جنرل باجوہ کی عمران کے ساتھ جنرل فیض حمید کی موجودگی میں ایک اور ملاقات کی خبریں مصدقہ نہیں لیکن ذرائع نے تصدیق کی کہ جنرل فیض حمید اپریل 2020 میں اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہر صورت میں موجودہ حکومت کو گھر بھجوا کر عمران کو نیا وزیر اعظم بنتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اگلے آرمی چیف لگ پائیں۔
لیکن اب ایسا ہونا ممکن نہیں رہا، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل فیض حمید اپنے وقت پر ریٹائر ہوں گے اور عمران کے بھی دوبارہ وزارت عظمیٰ پر واپس آنے کا کوئی امکان نہیں۔ عمران خان پر واضح کردیا گیا ہے کہ نئے الیکشن اگلے برس جنوری میں ہونا ناممکن ہے اور انہیں اگست 2023 تک موجودہ حکومت کی معیاد پوری ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔
راولپنڈی کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے حال ہی میں آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے دیئے گئے بیانات کا مقصد اپنی مرضی کا فوجی سربراہ لگوانا ہے لیکن ایسا ہو نہیں پائے گا اور فیصلہ میرٹ پر ہو گا۔ باخبر حلقوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کسی بھی صورت دوبارہ عہدے میں توسیع نہیں لیں گے اور نئے فوجی سربراہ کا تقرر نومبر میں کر دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتدار سے محروم کئے جانے کے بعد عمران کی تمام تر توجہ خود کو نااہلی سے بچانے اور موجودہ حکومت کو گرانے پر مرکوز ہے۔ انکا کہنا یے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار کے ابتدائی ہفتوں میں قبل از وقت انتخابات کا امکان تھا اور اسٹیبلشمنٹ بھی اس بارے میں سنجیدہ تھی۔ لیکن عمران خان کی فوج مخالف مہم چلانے کے بعد یہی فیصلہ ہوا کہ اگلے انتخابات اپنے وقت پر ہوں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ وہ جس طاقت کے کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آئے تھے وہ اب ان پر دوبارہ کبھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہائبرڈ نظام حکومت کے ناکام تجربے سے سبق سیکھا ہے اور وہ اسی لیے سیاست سے دوری اختیار کر چکی ہے۔
دوسری جانب عمران خان نے آئندہ آرمی چیف کے انتخاب کو اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے سیاست زدہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمٹنٹ کو دعوت دی کہ وہ اقتدار میں واپس آنے کے لئے ان کی مدد کو آئے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے عمران ’’پروجیکٹ‘‘ سے اسٹیبلشمٹ نے واقعی سبق سیکھا ہے اور اب سیاست سے دوری اختیار کر کے وہ ماضی کی غلطیوں کا مداوا کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب عمران چاہتے ہیں کہ وہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی کردار ادا کرنے پر آمادہ کر لیں لیکن اب ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نومبر میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد بھی فوج اپنے غیر جانبدار رہنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہنے کے لیے پر عزم ہے۔

Related Articles

Back to top button