امریکہ اور یورپی ممالک اپنے "افغان اثاثے‘‘ پاکستان سے کیوں نہ نکال رہے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ طالبان کے افغانستان پر دوبارہ قبضے کے بعد امریکہ کے علاوہ نیٹو اتحاد میں شامل ممالک کے مدد گار افغان باشندے پاکستان چلے آئے . نیٹو اتحاد نے پاکستان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے ان ’’افغان اثاثوں‘‘ کو ہمارے ہاں زیادہ دنوں تک نہیں رھنے دیں گے ۔انہیں امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں طویل قیام کیلئے ویزے وغیرہ کوائف کی چھان بین کے بعد فراہم کردیے جائیں گے۔ فروری 2022ء میں لیکن روس یوکرین پر حملہ آور ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں یوکرینی اب یورپ اور مریکہ میں پناہ گزین ہوچکے ہیں۔ان کی دیکھ بھال میں الجھے ہونے کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی ’’افغان اثاثوں‘‘ سے کئے وعدے فراموش کرچکے ہیں۔ پاکستان کو مجبور کیا جارہا ہے کہ و ہ انہیں اپنے ہاں طویل المدت قیام کی اجازت دینے کو رضا مند ہوجائے ، اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ پاکستان میں امریکہ اور نیٹو کے ان ’’اثاثوں‘‘ کی تعداد ابتداَا میں 25ہزار افراد پر مشتمل بتائی گئی تھی۔ اب مگر اندازہ ہورہا ہے کہ 25ہزار افراد نہیں بلکہ ’’کنبوں‘‘ کی بات ہورہی ہے جن کے ذاتی ملازموں یعنی ڈرائیوروں اور خانساموں کو بھی شمار کیا جائے تو ان کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرجاتی ہے۔ پاکستان گویا دو طرفہ دبائو میں ہے۔ افغان طالبان اپنے ہم عقیدہ انتہا پسندوں کی سرپرستی سے باز نہیں آرہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اپنے ’’اثاثوں‘‘ کا غم کھائے جارہا ہے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ افغانوں کی اکثریت خواہ ان کا تعلق کسی بھی نظریے سے ہو پاکستان سے اندھی محبت میں مبتلا نہیں۔شہری متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت بلکہ شدت سے یہ محسوس کرتی ہے کہ 1947ء میں ’’برطانیہ کی مہربانی سے ‘‘ قائم ہوا پاکستان ان کے ملک کو اپنا مطیع بنانا چاہتا ہے۔سوویت یونین کے خلاف 1980ء کی دہائی میں ہوئے طویل ’’جہاد‘‘ کو وہ ہرگز پاکستان کے کھاتے میں نہیں ڈالتی۔اس کا واحد سبب افغانوں کی اجتماعی حمیت کو ٹھہراتی ہے۔ان میں سے بے تحاشہ متعصب افراد نہایت سنجیدگی سے اس سازشی تھیوری پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان نے افغانوں کی مدد کے نام پر امریکہ اور یورپ کے علاوہ عرب ممالک سے بھی بے پناہ ڈالر اور جدید ترین اسلحہ جمع کیا۔ افغانوں کو اس میں لیکن رتی برابر حصہ بھی نہ دیا۔ خبردار بھی کیا جاتا رہا کہ کہ اس گماں میں ہرگز مبتلا نہ رہا جائے کہ کابل میں طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان اور افغانستان ٹچ بٹنوں کی جوڑی کی طرح آپس میں مل جائیں گے۔ خدشہ اس کے برعکس یہ لاحق تھا کہ دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کو ذلت آمیز انداز میں اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے والے طالبان پاکستان کو اب کسی خاطر میں نہیں لائیں گے۔ ان کے ہم عقیدہ پاکستانی طالبان بلکہ امریکہ کی شکست کے بعد ریاست پاکستان کو بھی اپنی ترجیح کا ’’اسلام‘‘ نافذ کرنے کے لئے دبائو میں لانا شروع ہوجائیں گے۔ تاہم ہمارے پالیسی سازوں نے اس تنبیہہ کو کسی توجہ کے قابل ہی تصور نہ کیا۔
نصرت جاوید کے مطابق امریکہ ذلیل ورسوا ہوکر افغانستان سے نکل گیا تو سابق وزیراعظم عمران خان نے ’’غلامی کی زنجیریں ٹوٹنے‘‘ پر فخرو انبساط کا اظہار کیا۔ان کے حکم پر قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں نے افغانستان میں پناہ گزین ہوئے پاکستانی طالبان کو ’’گھر واپس‘‘ لاکر بسانے کی کاوشیں بھی شروع کردیں۔ ’’گھر واپسی‘‘ مگر پا کستان میں دہشت گردی کے احیاء کا سبب ہونا شروع ہوگئی۔ دہشت گردی کے واقعات میں شدت ا ور تسلسل نے ریاست پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ افغان طالبان کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائے۔ ان سے بات ہوئی تو وہ کندھے اچکاکر دہشت گردی کو پاکستان کا ’’اندرونی مسئلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ہمیں اپنے ہم عقیدہ بھائیوں سے مذاکرات کے مشورے دینا شروع ہوگئے۔ اپنے تئیں ان کے خلاف کسی کارروائی کو آمادہ نہ ہوئے۔ دریں اثناء پے در پے ہوئی دہشت گردی کی وارداتوں میں ا فغان شہریوں اور وہاں سے آکر پاکستان میںآباد ہوئے افغانوں کی شمولیت کثیر تعداد میں نما یاں ہونے لگی تو پاکستان نے اپنے ہاں غیر قانونی طورپر مقیم افغانوں کو پاکستان سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ ذاتی طورپر اس فیصلے کی وجوہات اور مبادیات سے میں کاملاََ متفق تھا۔ اس کے اطلاق کی حکمت عملی مگر پریشان کن حد تک ناقص تھی۔اس کی اہم ترین خامی یہ بھی تھی کہ دنیا بھر میں پھیلے افغانوں کو یہ پیغام گیا کہ حکومتِ پاکستان نے ’’تمام‘‘ افغانوں کو یکمشت اپنے ہاں سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حالانکہ فقط ان افغان شہریوں کو ٹارگٹ کرنا مقصود تھا جو کسی بھی دستاویزی ریکارڈ کا حصہ ہوئے بغیر پاکستان درآئے تھے۔ دریں اثناء دہشت گردی کی وارداتیں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہیں اور اس ہفتے کے آغاز میں ڈیرہ اسماعیل خان کو ژوب اور میانوالی سے ملانے والی اہم ترین شاہراہ پر واقع ایک فوجی چوکی کو خود کش بمبار اور بارود سے لدھی وین کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ڈیرہ ا سماعیل خان میں ہوئے دلخراش واقعہ کے بعد مگر اب طالبان کے ہم عقیدہ پاکستانیوں سے مذاکرات کی گنجائش ہرگز باقی نہیں رہی۔ ریاست پاکستان کو اب لازماََ چند جارحانہ اقدامات لیتے ہوئے دہشت گردوں اور ان کے افغانستان میں بیٹھے سرپرستوں کو تنبیہی پیغام دینا ہوگا۔

Related Articles

Back to top button