ہینڈلرز کو کہہ دیا تھامیری حکومت گرانے کا تجربہ فیل ہوگا

تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہےسازش کرکے حکومت گرائی تو ہمیں تو پتا تھا کیا ہونا ہے، جو ہینڈلرز بیٹھے ہوئے ہیں، ان کو بھی کہا تھا کہ سمجھ جاؤ، یہ جو تجربہ کیا ہے، یہ ناکام ہوگیا ہے، آج ساری قوم سمجھتی ہے کہ فیل ہو گیا ہے، بدقسمتی یہ ہے کوئی کوشش نہیں کی گئی کہ ہاں غلطی ہوگئی، ہاں ہم اس کو ٹھیک کر لیں اور ٹھیک کرنے ایک راستہ ہے، وہ ہے صاف اور شفاف انتخابات کا، یہ مارچ اس کے لیے ہے۔

کھاریاں میں موجود لانگ مارچ کے شرکا سے لاہور سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے عمران خان نےکہا کہ میں کسی سے لڑائی نہیں بلکہ آزاد خارجہ پالیسی چاہتا تھا، ایسی پالیسی جو پاکستان اور پاکستانیوں کے مفاد میں ہو، ہم امریکا سے ہندوستان والی خارجہ پالیسی چاہتے ہیں،زندگی میں کبھی میرٹ پر کام نہ کرنے والے مفرور لندن میں بیٹھ کر آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کررہے ہیں۔

انہوں نےکہا میرے دورِ حکومت میں چار لانگ مارچ ہوئے کیا وہ غیر جمہوری تھے؟ انہوں نے لانگ مارچ این آر او لینے کیلیے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں مارچ آہستہ چل رہا ہے، میرے اوپر حملے کے بعد مارچ کو آہستہ تو ہونا ہی تھا، نوازشریف اپنے فائدے اور چوری کا پیسہ بچانے کیلیے ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے، انہوں نے کبھی زندگی میں کوئی کام میرٹ پر نہیں کیا اور اب یہ مفرور لندن میں بیٹھ کر آرمی چیف کا فیصلہ کررہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ انہیں ای سی ایل میں نام شامل کرنے کا خوف ہے جبکہ میری پیش کش کے باوجود ای سی ایل میں نام نہیں ڈالتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا پیسہ، شاپنگ علاج سب کچھ بیرون ملک میں ہوتا ہے جبکہ میرا سب کچھ پاکستان میں ہی ہے، 7 ماہ میں انڈسٹریز صنعتیں سب بند ہوگئیں، ہر پاکستانی پریشان ہے، موجودہ حکومت نے تین ماہ میں اُس سے زیادہ قرض لے لیا جتنا ہم نے 9 ماہ میں لیا تھا۔

انہوں نے کہاعمران خان نے کہا کہ لانگ مارچ کا مقصد قوم کو جگانا ہے، نوجوانوں کو اگر ہم نے آئینی طریقے سے احتجاج کا طریقہ نہ سکھایا تو یہ ملک سری لنکا بن جائے گا، شکر کریں ہم لانگ مارچ اور آئین کے درمیان میں رہتے ہوئے عوام کا غصہ پچھلے سات ماہ سے اس طرح سے لے کر جارہے ہیں اور وہ اب پُرامن احتجاج کررہے ہیں۔

عمران خان نے حکومت کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے 7 ماہ میں عالمی سطح پر پاکستان کا کوئی فائدہ نہیں کروایا، مجھے انگلینڈ کے دورے کی دو بار دعوت ملی جبکہ میرے بچے بھی وہاں تھے، مگر میرے ملک کا فائدہ نہیں تھا اس لیے پیش کش کو مسترد کردیا،میں کسی سے لڑائی نہیں بلکہ آزاد خارجہ پالیسی چاہتا تھا، ایسی پالیسی جو پاکستان اور پاکستانیوں کے مفاد میں ہو، ہم امریکا سے ہندوستان والی خارجہ پالیسی چاہتے ہیں۔

عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ ملک کے تمام مسائل کا حل صاف اور شفاف الیکشن ہیں جبکہ لندن میں بیٹھا شخص اس حمایت میں نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر انتخابات ہوئے تو پی ڈی ایم کو شکست ہوگی،انہوں نے معزز ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا، قوم وزیراعظم کو نہیں بلکہ سپریم کورٹ کو جانتی ہے، آپ کو ارشد شریف کے معاملے میں انصاف فراہم کرنا ہوگا۔

Related Articles

Back to top button