ایم کیو ایم رہنما بابر غوری7روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

انسداددہشتگردی کی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بابر غوری کو7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

گزشتہ رات لندن سے پاکستان واپسی پر بابر غوری کو کراچی ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جنہیں آج انسداد دہشتگردی کی عدالت کے منتظم جج کے روبرو پیش کیا گیا۔

عدالت میں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ بابرغوری پر اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کا الزام ہے اور ملزم کے خلاف سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں مقدمہ درج ہے۔

عدالت سے پولیس نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بابر غوری کو 7 روز کےجسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

عدالت پیشی کے موقع پر بابر غوری کا کہنا تھا کہ میرے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں، انہیں مسترد کرتا ہوں، اگر الزامات میں سچائی ہوتی تو واپس نہ آتا۔

ایم کیو ایم رہنما کو پولیس موبائل وین کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر لائی جب کہ انہیں ہتھکڑی بھی نہیں لگائی گئی تھی، اس موقع پر عدالت کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

یاد رہے کہ کراچی پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بابر غوری کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا انہیں ریاست مخالف سرگرمیوں پر حراست میں لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم رہنما بابر غوری کی انسداد دہشتگردی کے مقدمے میں باقاعدہ گرفتاری کی گئی اورانہیں ریاست کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ بابر غوری کے خلاف ایف آئی آر سال 2015 میں ان کی ملک سے جلاوطنی کے دنوں کی ہے اور ایف آئی آر نمبر 354 سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں درج ہے جب کہ مقدمے میں 120 اے بی / 121/122/505/123 ، ٹیلیگراف ایکٹ اور 6/7 ATA درج ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں بانی ایم کیو ایم اور فاروق ستار سمیت ایم کیو ایم کے 29 رہنما نامزد ہیں۔ پولیس بابر غوری کے ریمانڈ کے لیے انہیں آج انسداد دہشتگردی کی عدالت کے منتظم جج کے روبرو پیش کرے گی۔

Related Articles

Back to top button