باشوں کانیاسپیل، کراچی پھر ڈوب گیا،کوہستان میں 50 گھر بہہ گئے

مون سون بارشوں کے نئے سپیل نے ملک کے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی ہے ،شہر قائد کو ایک بار پھر ڈوب گیا ہے، کرنٹ لگنےکے مختلف واقعات میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں سیلابی ریلا50 گھر بہا کر لے گیا۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش سے اہم شاہرات زیر آب آگئیں، موٹر سائیکلیں، گاڑیاں خراب ہوگئیں، نالے بھر گئے، نشیبی علاقوں میں صورتحال زیادہ خراب ہوگئی، حیدر آباد اور دیگر شہروں میں بھی ساون کی جھڑی نے جل تھل ایک کردی، نکاسی آب نہ ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف پڑگیا اور متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب بہنے لگا ہے، واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب حب نہرکا حصہ ٹوٹا ہے، اس نہر سےکراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا پانی منگھوپیرکے غیر آباد علاقے میں جا رہا ہے، شگاف کو پرکرنے کے لیے مشینری لائی جارہی ہے، حب کینال کی مرمت تک پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش قائد آباد میں 55 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، پی اے ایف بیس مسرور پر 48، اورنگی ٹاؤن میں 45، کیماڑی 42، گلشنِ حدید 36، ناظم آباد 29، نارتھ کراچی 26، کورنگی24، سعدی ٹاؤن21 ملی میٹر، ایئرپورٹ اولڈ ایریا 18، ڈی ایچ اے فیز ٹو17، جناح ٹرمینل 16، صدر 9 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ 20، پی اے ایف فیصل بیس 19 اور گلشنِ معمار 18 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

ادھر حکومت سندھ نے کل بروز پیر (25 جولائی) کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں صبح 5 بجے سے مسلسل بارش ہورہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں حکومت سندھ نے کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں کل (بروز پیر) کی عام تعطیل کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ یہ مون سون کا تیسرا سپیل ہے، اس بارش کو پکنک نہ سمجھا جائے، لوگ خود اور اپنے بچوں کو گھروں تک محدود رکھیں۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مون سون کی مسلسل جاری بارش کے دوران شہر کراچی کا دورہ کیا ہے، دورہ کے دوران انہوں نے نکاسی آب کے کاموں کا بھی جائزہ لیا۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ عوام کو چاہئے کہ بارشوں میں خود اور اپنے بچوں کو گھروں تک محدود رکھیں کیونکہ بارشوں میں ندی نالوں میں تغیانی اور پانی کی نکاسی کیلئے مین ہول بھی کھولے جاتے ہیں، ایسی صورتحال میں بچوں کو کسی صورت سڑکوں پر کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے، یہ بارش کا تیسرے اسپیل ہے، اس بارش کو پکنک نہیں سمجھا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو عوام کی ہر طرح سے مدد کرنی ہے۔ دورے کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ صوبائی وزیر، ناصرشاہ، شرجیل میمن اور مرتضیٰ وہاب بھی شامل تھے۔

ادھر بالائی کوہستان کی تحصیل کندیا میں شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 50 مکانات اور چھوٹے بجلی گھر بہہ گئے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے اربن فلڈنگ کا خدشہ برقرار ہے۔اُدھر کوئٹہ اور گردونواح میں موسلادھار بارش کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا، محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ کے بیشتر اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ ژوب، زیارت، بارکھان، لورالائی، بولان، کوہلو، قلات، خضدار، لسبیلہ، نصیر آباد، جعفر آباد میں مزید بارش جبکہ حب ڈیم پر مسلسل دباؤ کا امکان ہے۔

موسم کا حال بتانے والوں نے سبی، مستونگ، کوئٹہ، چمن، پشین، آواران، پنجگور، تربت، اورماڑا، پسنی، جیوانی اور گوادر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش جبکہ کہیں کہیں پر موسلادھار بارش کی بھی پیش گوئی کی ہے۔

دوسری جانب روجھان میں مسلسل بارشوں سے کوہ سلیمان سے نکلنے والی رود کوہی سے تباہی، سیلابی ریلا آبادی میں داخل ہوگیا، صفدر آباد کی کئی بستیاں زیر آب آگئیں، متاثرین کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر، اپر کوہستان میں بھی کئی گھر بہہ گئے، فصلیں تباہ، منی ہائیڈرل پاور سٹیشنز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو پیغام دیا کہ مشکل صورتحال میں سندھ حکومت کو وفاق ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔وزیراعظم نےاین ڈی ایم کو صوبائی حکومتوں اور اداروں کی بھرپور معاونت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کہ نشیبی علاقوں کے عوام کی جان اور مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ سندھ کو پیغام دیا کہ مشکل صورتحال میں سندھ حکومت کو وفاق ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔انہوں نے ہدایت کی کہ منتخب نمائندے متعلقہ اداروں کے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں کی موثر نگرانی کریں۔

Related Articles

Back to top button