بشریٰ بی بی ،لطیف کھوسہ کی آڈیو ٹیپ کیسے ہوئی؟تحقیقاتی رپورٹ طلب

آڈیو لیکس کیخلاف کیس میں اسلام آبادہائیکورٹ کاحکم جاری کردیاگیا۔عدالت نے ڈی جی آئی بی ،ڈی جی ایف آئی اے کو 19فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔دونوں ڈی آئی جیزآڈیولیکس کیس میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

جسٹس بابرستار کا تحریری حکم نامے میں کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اور لطیف کھوسہ کی آڈیو ٹیپ کیسے ہوئی؟آڈیو کس نے لیک کی؟اکاؤنٹ ہولڈرز کون ہے؟آئی بی اس حوالے سے تحقیقات کرکے تفصیلی رپورٹ جمع کرائے۔خفیہ ایجنسی نے وزارت دفاع کے ذریعے آڈیو لیکس پر اپنی رپورٹ جمع کرائی۔بتایاگیا کہ خفیہ ایجنسی کے پاس سوشل میڈیا پرمعلومات جاری کرنے کے سورس کے تعین کی صلاحیت نہیں۔آئی بی بھی غیرقانونی طورپرآڈیو لیک کرنیوالے اکاؤنٹس،شیئرکرنے والوں کا تعین کرے گی ۔

عدالت کا تحریری حکمنامے میں کہنا ہے کہ آئی بی تحقیقات کرکے 3ہفتے میں رپورٹ جمع کرائے۔ڈی جی آئی بی آئندہ سماعت پر بتائیں شہریوں کی سرویلنس کون کر سکتاہے۔کیا ریاست پاکستان کے پاس اس غیرقانونی سرویلنس کو روکنے کی صلاحیت ہے؟اٹارنی جنرل نے بتایا وفاقی حکومت نے کسی ایجنسی کوکالزریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی۔تمام شہریوں کی پرائیویسی اور حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت طلب کی۔

Related Articles

Back to top button