استعفوں کے باوجود نئے الیکشن کا امکان کیوں نہیں رہا؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی سے استعفوں کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی معیاد پوری کرے گی اور اب وقت سے پہلے نئے الیکشن کا کوئی امکان نہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عمران خان نے پارلیمنٹ کے ہاتھوں ووٹ آؤٹ ہونے کے بعد قومی اسمبلی سے استعفے دے کر نئے انتخابات کے لیے جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران کے خیال میں ان کے استعفوں کے بعد ”امپورٹڈ حکومت“ کا ٹکنا ناممکن ہو جائے گا اور نئی حکومت کو مجبور ہو کر ملک میں فوری انتخاب کروانا ہی پڑیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ دورِ حاضر میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے کوئی جاہل شخص ہی انکار کرسکتا ہے۔ لیکن سیاست میں کامیابی کے لئے محض سوشل میڈیا پر انحصار ہی کافی نہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی وائٹ ہائوس میں صرف ایک ٹرم گزارنے کے بعد ناکامی اس کی واضح ترین مثال ہے۔ اسے ایک ایسے شخص نے شکست سے دو چار کیا جو سوشل میڈیا سے عموماًدور رہتا ہے۔ پرانی وضع کا سیاست دان ہے۔ برجستہ گفتگو کرتے ہوئے بسا اوقات ”بونگیاں“ بھی مار جاتا ہے۔ اپنے اہداف کے حصول کے لئے مگر بنیادی طورپر سیاسی حربوں پر ہی تکیہ کرتا ہے۔ جوبائیڈن اپنے طویل سیاسی تجربے کی بنیاد پر یہ حقیقت جبلی طور پر جانتا ہے کہ سوشل میڈیا بنیادی طورپر چسکہ فروشی ہے۔ اس کے ماہرانہ استعمال کے ذریعے اگرچہ سیاست دان اپنے لئے جنونی مداحین کا ایک گروہ بھی تیار کرسکتا ہے۔ یہ گروہ اپنے ”دیوتا“ کی ہر بات سر جھکائے تسلیم کرلیتا ہے۔ اس کی بات سے اختلاف کرنے والوں کو حقارت سے ”بکائو“ وغیرہ بھی قرار دیتا ہے۔ جنونی مداحین کے گروہ چاہے وہ عددی اعتبار سے بہت طاقت ور بھی نظر آئیں کسی بھی ملک کی آبادی کا وہ حصہ ہوتے ہیں جو ہمہ وقت ہیجان برپا کرنے کو بے چین رہتے ہیں۔ عوام کی اکثریت مگر امن وسکون کی متلاشی ہوتی ہے۔
بقول نصرت جاوید ہمارے جیسے ممالک میں روزمرہ زندگی کے مسائل سے نبردآزما ہونا ان کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہیں ان مسائل سے غافل رکھتے ہوئے دن کے 24 گھنٹے ”عوامی تحریک“ چلانے میں مصروف نہیں رکھا جاسکتا۔
میری عمر کے صحافی جب تاریخ کے حوالے دیتے ہیں تو ہمارے نوجوانوں کی اکثریت نفرت وحقارت سے یہ کہتے ہوئے ان پر غورکرنے کو آمادہ نہیں ہوتی کہ ”زمانہ بدل چکا ہے“۔زمانہ واقعتاً بدل چکا ہے۔ بدل جانے کے باوجود وہ مگر جمود کا شکار نہیں ہوا۔ آج سے کئی دہائیاں قبل اقبال ”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں“ کہتے ہوئے یہ سمجھا چکے ہیں کہ زمانے کا سفر کبھی رکتا نہیں۔ اسے مسلسل آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ آگے بڑھنے کے سفر والی حقیقت کو نگاہ میں رکھیں تو آپ کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ کار چلاتے ہوئے آپ کو ”بیک مرر“ پر بھی مسلسل نگاہ رکھنا پڑتی ہے۔ محض سامنے والے شیشے کے اس پار دیکھتے رہیں تو حادثہ ہوجاتا ہے۔ نصرت کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو ہماری تاریخ کے ذہین ترین سیاستدان تھے۔ ان کی مخالف سیاسی جماعتیں باہمی اختلاف کی نذر ہوچکی تھیں۔ ان جماعتوں کو ان جیسا قدآور لیڈر بھی میسر نہیں تھا۔ اقتدار کے کھیل پر اپنی کامل گرفت پر اعتماد کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے مارچ 1977 میں قبل از وقت انتخاب منعقد کروانے کا اعلان کردیا وگرنہ آئینی اعتبار سے وہ مزید ایک برس تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہ سکتے تھے۔ ان کی جانب سے انتخاب کا اعلان ہوتے ہی باہمی اختلافات میں بٹی اپوزیشن جماعتیں راتوں رات ”پاکستان قومی اتحاد“ نامی تنظیم میں یکجا ہو گئیں۔ ان جماعتوں میں تین بڑی مذہبی جماعتوں کے علاوہ اصغر خان جیسے ”لبرل“ اور ولی خان کے ”سیکولر“ اور ”قوم پرست“ حامی بھی شامل تھے۔ نظر بظاہر ”نوستاروں“ والا اتحاد ”بھان متی کا کنبہ“ نظر آتا تھا۔ مار چ میں ہوئے انتخاب کو تاہم دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے مذکورہ اتحاد نے ”نظام مصطفی“ والی تحریک چلادی۔ ریاستی جبر کابھرپور استعمال اسے قابو میں لانے میں ناکام رہا۔ بالآخر ملک کو ”خانہ جنگی“ سے بچانے کی منطق پیش کرتے ہوئے 4 جولائی 1977کی رات جنرل ضیاءنے مارشل لاءلگا دیا۔ اگرچہ نئے انتخابات ”90 روز“ کے دوران کروانے کا وعدہ بھی کیا۔ ”نوے روز“ کا وعدہ کرتے ہوئے جنرل ضیاء اور ان کے ساتھیوں کو یقین تھا کہ اب کی بار ”صاف ستھرے انتخاب“ ہوئے تو کوئی ایک جماعت بھرپور اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی۔مارشل لاءکے نفاد کے محض دو ماہ بعد مگر ذوالفقار علی بھٹو 1977 کے ستمبر میں لاہور آئے تو اس شہر میں ان کے استقبال کے لئے عوام کا حیران کن ہجوم سڑکوں پر امڈ آیا۔ جنرل ضیاءاس کی وجہ سے ”نوے روز“ والے وعدے کو بھلانے کو مجبور ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف 1974 میں دائر ہوا قتل کا ایک مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلانے کا فیصلہ ہوا۔ اس کے علاوہ ”پہلے احتساب پھر انتخاب“ کا راگ بھی الاپا گیا۔ بالآخر 4 اپریل 1979 کی صبح بھٹو صاحب تختہ دار پر لٹکا دئیے گئے۔ انتخاب کے ذریعے ”جمہوریت“ کی بحالی کے لئے ہمیں 1985 تک انتظار کرنا پڑا۔
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے ”امپورٹڈ گورنمنٹ“ ٹھہرائی فی الوقت یقیناً ”بھان متی کا کنبہ“ ہی نظر آتی ہے۔ اسے کمزور تر کرنے کا لیکن میری دانست میں واحد واولین حربہ تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی سے مستعفی ہو جانا نہیں بلکہ وہاں موجود رہنا ہے۔ قومی اسمبلی سے کنارہ کش ہو کر تحریک انصاف فوری انتخاب کے حصول کے لئے ”عوامی تحریک“ چلانے میں مصروف ہو گئی تو ”بھان متی کے کنبے“ میں شامل ہر فریق ”امپورٹڈ حکومت“ قائم رکھنے کے لئے ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کرنے کو مجبور ویکجا ہو جائے گا۔ وہ ”غیر سیاسی“ قوتیں بھی چوکنا ہو جائیں گی جنہیں عمران خان اشاروں کنایوں میں ”امپورٹڈ حکومت“ کے ”سہولت کار“ اور امریکہ کے ”آلہ کار“ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہذا شہر شہر ہوئے جلسوں کے باوجود فوری انتخاب مسلط کرنا انتہائی دشوار ہوتا نظر آتا ہے۔

Related Articles

Back to top button