تحریک انصاف اب ایک کمزور سیاسی جماعت ہی رہے گی ؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ فوج کی تقسیم عمران خان کی آخری امید تھی۔ ہوا مگر اس کے الٹ ۔ نو مئی فوج کو اور بھی یک سُو کر گئی۔ ۔ سوال یہ ہے کہ جس مقام پر عمران خان نے اپنی جماعت کو لا کھڑا کیا ہے کیا یہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے؟ ایک بات تو طے ہے کہ تحریک انصاف کچھ عرصہ بعد بہ طور سیاسی جماعت سنبھل بھی گئی تو شاید کبھی بھی اس طرح ’’پیا من راج‘’ نہ کر سکے۔ اپنے ایک کالم میں حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ نو مئی کی آگ میں جہاں اور بہت سی عمارتیں جلیں، پی ٹی آئی کے خوابوں کے محل بھی جل کر راکھ ہو گئے یہ بھی ایک غلط فہمی ہے کہ سیاسی جماعتیں مشکل وقت کاٹ کر دوبارہ ویسی ہی توانا ہو جاتی ہیں۔ تاریخ کا سبق کچھ اور ہے، پاکستان پیپلز پارٹی پر جب یہ قہر ٹوٹا اُس کے بعد آج تک وہ پنجاب میں قدم نہیں جما سکی، اور میاں نواز شریف اس وقت بھی جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بہرحال، اطلاع یہی ہے کہ ادارے نے عشق سے توبہ کر لی ہے، عساکر میں یہ احساس شدت سے پایا جاتا ہے کہ پروجیکٹ عمران صریحاً ایک غلطی تھی جس کو سدھارنے کی ہر ممکن سعی کی جائے گی۔ حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ ویسے تو نو مئی کو جو کچھ آنکھ نے دیکھا وہ بھی پی ٹی آئی اور افواج پاکستان کے درمیان مدتوں گہری خلیج قائم رکھنے کے لئے کافی تھا، مگر دراصل معاملہ اس سے کہیں زیادہ خوف ناک تھا، پی ٹی آئی اور اس کے ہینڈلرز نے فوج کی وحدت پر ضرب لگانے کی کوشش کی تھی، نہ صرف ادارے میں تقسیم کا زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا بلکہ ٹوٹی پھوٹی کوشش بھی کی گئی۔ یہ کوئی خفیہ بات نہیں ہے، اگر آپ عمران خان کی چیف مخالف سیاست کا جائزہ لیں تو صاف سمجھ آتا ہے کہ ادارے کی تقسیم عمران خان کی آخری امید تھی۔ ہوا مگر اس کے الٹ ۔ نو مئی فوج کو اور بھی یک سُو کر گئی۔ حماد غزنوی سوال پوچھتے ہیں کہ کیا عمران خان اب اپنی زندگی میں الیکشن کا منہ دیکھ پائیں گے؟ سچی بات یہ ہے کہ انتخابات کا انعقاد کچھ دھندلکے میں ہے۔ ہمارے گمان میں انتخابات کی کچھ ان کہی شرائط ہیں۔ مثلاً اگلا الیکشن میاں نواز شریف کے بغیر نہیں ہو گا، اگلا الیکشن عمران خان کے خلاف کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائے بنا نہیں ہو گا، اور یہ دونوں کام غالباً موجودہ چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے نہ ہو پائیں گے۔الیکشن کب ہوں گے اس کا جواب آپ کو مل گیا ہو گا۔ایک اور سوال بھی جواب طلب ہے، کیاقاضی فائز عیسیٰ کمیشن اپنا کام کر پائے گا؟اس کا سادہ سا جواب ہے ’جی نہیں‘۔ یہ کمیشن کام کرے گا تو کئی جج پکڑے جائیں گے، ثاقب نثار بھی پکڑے جائیں گے، اور اگر ثاقب نثار پکڑے گئے تو گروہِ عاشقاں پکڑا جائے گا۔ آخر میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ عمران خان کو آئندہ زندگی میں باچا خان کے روپ میں آنا چاہئے تاکہ خان صاحب کو کم از کم یہ تو پتا لگ جائے کہ سچ مچ کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بننے کے لئے کتنی دہائیاں جیل میں گزارنا پڑتی ہیں، اور یا پھر شہباز شریف کے روپ میں لوٹنا چاہئے تاکہ خان صاحب ہمیشہ ہمیشہ کے لئےاسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار سکیں۔

Related Articles

Back to top button