تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کا سادہ سا منصوبہ کیا ہے؟

پی ٹی ائی کو الیکشن سے باہر رکھنے کے لئے بہت سادہ حکمت عملی بنائی گئی۔ جس کے تحت تحریک انصاف کے ووٹر کو کنفیوز کیا جائے۔ 1990 ماڈل کی طرح ون ٹو ون مقابلے کرائے جائیں، 97 ماڈل کی طرح مایوسی پھیلائی جائے جب پی پی کا جیالا ووٹ دینے ہی نہیں آیا اور پیپلز پارٹی 18 سیٹ تک محدود ہو گئی۔ 2002 ماڈل اختیار کیا جائے جب مسلم لیگ نون مقبول تھی اور اس کے پاس الیکٹیبل نہیں تھے۔ اگر ون ٹو ون مقابلے کی حکمت عملی کو چیک کرنا ہے تو دیکھ لیں کے نون لیگ پوری پشاور وادی سے غائب ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی کے لیے میدان چھوڑ دیا ہے۔ جہاں کوئی پارٹی مشکل میں ہے ادھر اس کو دوسری بڑی پارٹی نے مدد فراہم کر رکھی ہے۔
پی ٹی آئی جب بلے کے نشان کا اپنا کیس سپریم کورٹ سے ہار گئی۔ اس کے بعد پنجاب میں ایسی جگہوں پر جہاں مسلم لیگ نون کمزور تھی۔ مخالف امیدوار کے دھڑے سے لوگ لڑھک کر نون لیگ کی طرف آ گئے کہ انہوں نے نہیں جیتنا۔ یہ الیکشن پی ٹی آئی کا الیکشن نہیں ہے۔ یہ پارٹی کو بھی معلوم ہے اور ان سیاسی لوگوں کو بھی جو اس کی طرف سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ووٹر بڑا سیانا ہے اسے اپنے اگلے 5 سال بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ اسے پتا ہے کہ کام کرانے ہیں تو کدھر جانا ہے۔ مخالفت کرنی ہے تو کس حد تک کرنی ہے تاکہ رگڑے نہ لگیں الیکشن کے حوالے سے یہ تجزیہ نیوز ویب سائٹ وی نیوز میں کی گیا ھے تحریر میں کہا گیا ھے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ جو دوسروں نے کیا وہ تو کیا۔ خود عمران خان نے اپنی پارٹی کا جو حشر کیا ہے اس کا جواب نہیں۔ اب اپنے امیدواروں کے دل پر گیدڑ بٹھا دیا ہے کہ 28 فروری کو جو امیدوار سڑکوں پر نہ نکلا اس کا ٹکٹ تبدیل ہو جائے گا ۔ پی ٹی آئی کا ووٹر اور سپورٹر تو کنفیوز ہے ہی کپتان نے خود امیدواروں کو بھی ڈرا رکھا ہے۔ عمران خان مسلم لیگ نون کی جتنی مدد کر چکا ہے اس کے بعد یہ سوچنا کہ کسی آزاد امیدوار کی دال گلے گی ایک انہونی بات ہی ہو گی ۔ کپتان نے جیل سے دھوم مچا رکھی ہے۔ جب عدالت لگتی ہے تو یہ کوئی سین بنا کر ہیڈ لائن لگوا دیتا ہے۔ ایک خبر آئی ھے کہ کپتان نے اپنے ملنگوں کو اتوار کے دن باہر نکلنے کا کہا ہے۔ یقین نہیں آتا تھا مگر شاہ محمود قریشی کے حوالے سے بیان آ گیا کہ اتوار 28 جنوری کو پی ٹی آئی کے تمام امیدوار باہر نکلیں۔ انتخابی مہم شروع کریں۔ جو الیکشن فالو کرتے ہیں ان کے لیے یہ بیان خوشی کا باعث تھا۔ لیکن اس بیان کے ساتھ ایک دم بھی لگی ہوئی تھی۔ جو امیدوار باہر نہ نکلا اس کا ٹکٹ واپس لے کر دوسرے کو دے دیا جائے گا۔ یہ وہ پارٹی ہے جو اپنے الیکشن نشان کے لیے 4 دن پہلے کچہری چڑھی ہوئی تھی کہ ہمارا بلا ہمیں واپس کرو، الیکشن کمیشن ہائے ہائے۔ اس جماعت کی حالت یہ ہے کہ ابھی تک پارٹی کے اہم ترین دونوں لیڈر ٹکٹ تبدیل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ٹکٹ بھی اتوار کی کارکردگی دیکھ کر بدلنا ہے جوانوں نے۔ اب خبر پہنچنے اور ٹکٹ تبدیل ہونے کا وقت شمار کریں۔ ٹکٹ انشاء الله تب تبدیل ہو رہے ہونگے جب الیکشن مہم ختم ہونے میں 6 دن باقی ہونگے۔ لیڈر خود جیل پہنچے ہوئے ہیں۔ان کا کوئی بندہ جیل کے باہر دکھائی نہیں دیتا۔ ایک ایک حلقے سے چار چار امیدوار میدان میں ہیں ٹکٹ تبدیل ہو رہے ہیں۔ مزید ٹکٹ بدلنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس جماعت نے اپنے مضبوط حلقوں میں امیدوار وکیلوں کو بنا رکھا ہے۔ یہ وہ شہزادے ہوتے ہیں جو اپنی چائے بھی اس مسکین سے منگواتے ہیں جس کا کیس لڑ رہے ہوں۔ ساری چالاکیاں ،ہوشیاریاں اور چکر بازیاں یہ اپنے گاہکوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی قانونی اور ذہنی حالت سپریم کورٹ کے مقدمات میں کی گئی لائیو نشریات میں سب نے دیکھ لی ہے۔ایک بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پی ٹی آئی اور کپتان بہت مقبول ہیں۔ سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ مقبولیت کے اس پلس پوائنٹ کے بعد ان کو اگلا ایسا پوائنٹ سوچنا پڑتا ھے جسے ان کی برتری قرار دیا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر یہ ایکٹیو ہیں۔ سوشل میڈیا پر فیک نیوز چلانے پر حکومت نے ایکشن لینے کا اعلان کیا ہے۔ جو پاکستان سے من گھڑت خبریں دیتے تھے اب وہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کرتے پھر رہے ہیں۔ لے دے کر باہر بیٹھے پاکستانی بچتے ہیں۔ ان سے باتیں جتنی مرضی کروا لیں، چندہ انہوں نے کوئی نہیں دیا پی ٹی آئی کو الیکشن کے لیے۔ فنڈ ریزنگ ڈھیلی ماٹھی ہی رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے برعکس مسلم لیگ نون نے صرف ہوم ورک کیا ہے۔ ٹکٹ دینے کی صرف ایک شرط تھی کہ کیا وہ بندہ سیٹ نکال سکتا ہے؟۔ سیٹ نکالتا دکھائی نہ دینے پر ہی مسلم لیگ نون نے اپنے بڑے ناموں کو ٹکٹ نہیں دیا۔ بہت محنت سے پینل بنائے گئے ہیں۔ جہاں قومی اسمبلی کا امیدوار کمزور ہے اس کے پینل میں صوبائی امیدوار دیکھیں تو صورت حال واضح ہو جاتی ہے۔ مسلم لیگ نون نے اپنی الیکشن مہم سب سے لیٹ شروع کی ہے۔ ان کو رسپانس بھی ٹھیک مل رہا ہے۔ اب بھی مہم چلانے سے زیادہ الیکشن ڈے پرفارمنس اور اس سے بھی پہلے ان امیدواروں کو بٹھانے پر کام ہو گا۔ جو پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر کے لیے مسئلہ ہوں گے۔

Related Articles

Back to top button