تحریک انصاف کے امیدواروں کو لٹ دا مال کون بنانے والا ہے؟

آئندہ ملکی سیاست میں تحریک انصاف کا مضبوط کردار ختم ہو چکا ھے۔ عمران خان نے خود کو بھی ڈبویا اور اپنے ووٹرز، سپورٹرز کے ارمانوں کا خون بھی کیا۔ تحریک انصاف اب ایک بارایسوسی ایشن بن چکی ہے۔ یہاں کبھی گوہر علی خان نظرآئیں گے اور کبھی شیر افضل مروت یا بیرسٹرعلی ظفر اور لطیف کھوسہ ۔ پارٹی کارکن دربدر ھو چکے جبکہ الیکشن جیتنے والے پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار بطور لٹ دا مال انتخابات کے بعد مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔ جیسے 2018 کے الیکشن کے بعد مال لوٹ کر جہاز میں بھر بھر کر عمران خان کی جھولی میں ڈالا گیا تھا اب بھی صورت حال وہی ھو گی ۔۔ لوٹنے والوں نے تو بہت سے ممکنہ اراکین اسمبلی کی ایڈوانس بکنگ بھی کر لی ھے۔ روزنامہ جنگ کے ایک سیاسی تجزیے میں کہا گیا ھے کہ کھلاڑی بڑا اناڑی نکلا۔ اب اس کے پاس بلا رہا نہ ہی کوئی بلے باز۔ مخالف ٹیمیں خوش ہیں کہ ایک بڑی مضبوط ٹیم کے خلاف انہیں واک اوور مل گیا۔ اب کھلا میدان سامنے ہے۔ وہ بھاگیں ، دوڑیں، من مرضی کی فیلڈ سیٹ کریں اور ہوم گراؤنڈ پر جیسی چاہیں تیز ، سلو، ڈیڈ یا پھرا سپن وکٹیں تیار کرکے مستقبل میں ”ورلڈ کپ“ کی تیاری کریں۔ انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ تحریک انصاف والے کہہ سکتے ہیں کہ امپائر ان کے مخالفین کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ فیصلے ان کے خلاف آرہے ہیں۔ مستقبل قریب یا دور ایسے کوئی امکانات نظر نہیں آتے کہ امپائر کی انگلی ان کے حق میں اٹھ سکے۔ اب اس میدان میں ماضی کی چیمپئن دو ہی ٹیمیں باقی ہیں ۔ ایک (ن) لیگ تو دوسری پیپلز پارٹی۔ دونوں ٹیموں نے اپنے اپنے کپتانوں اور کھلاڑیوں کا پہلے ہی اعلان کررکھا ہے کہ (ن) لیگ کی کپتانی میاں محمد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے کپتان بلاول بھٹو ہوں گے۔ ایک تجربہ کار ہے تو دوسرا نوجوان۔ ایک کے پیچھے دہائیوں کی جدوجہد کے نتیجے میں مجھے تین بار کیوں نکالا گیا؟ کا نعرہ ہے تو دوسرے کے پیچھے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ بے نظیر بھٹو کی جمہوری جدوجہد میں دی گئی جانی قربانیاں شامل ہیں۔ یہی دونوں کے بنیادی بیانیے ہیں کہ جن کی بنیاد پر وہ عوام سے ووٹ مانگنے میدان میں نکلے ہیں اور ایک دوسرے پر انتخابات کے دوران الزامات بھی لگاتے ہیں اورضرورت پڑنے پر اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں۔ ایک کو سندھ اپنا مضبوط قلعہ نظر آتا ہے تو دوسرا پنجاب کی پگ کا اصل وارث ہونے کا دعویدار ہے۔ تجزیہ کار لکھتے ہیں کہ اسے بدقسمتی کہیں یا حالات کی ستم ظریفی کہ تحریک انصاف سے بلا اور بلے باز دونوں ہی چھن جانے کے بعد بچ جانے والی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کوئی ایسا مضبوط عوامی ووٹ بینک نہیں کہ جس کے نتیجے میں یہ دعویٰ کرسکیں کہ وہ وفاق کی علامت سیاسی جماعتیں ہیں۔ مستقبل میں اقتدارملنے کی صورت میں وہ خیبرپختونخوا ، بلوچستان کو درپیش سنگین مسائل بشمول دہشت گردی اور معاشی حالات کو کیسے سنبھال پائیں گی۔ مانگے تانگے کے ناقابل بھروسہ انتخابی اتحاد ایک غیر مستحکم حکومت کو جنم دیں گے اور مستقبل میں پاکستان کو درپیش بحران مزید سنگین ہوتے جائیں گے۔ عمران خان کوجو عزت عطا ہوئی وہ اس سے کہیں زیادہ کا حق دار تھا لیکن تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے؟ انسان کا اصل امتحان وہاں سے شروع ہوتا ہے جب اسے عروج ملتا ہے جسے قائم دائم رکھنا ہی اصل کامیابی ہے جس میں عمران ناکام ثابت ہوا۔ اس نے وقت ، حالات، تجربے سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ اپنی ضد اور انا پر اڑا رہا۔ اس کے چاہنے والے اسی ادا پر کپتان پر مر مٹے کہ وہ کبھی جھکے گا نہ بکے گا۔ ہم کوئی غلام ہیں؟ کا نعرہ اس کے چاہنے والوں کو جنون کی حد تک بھا گیا۔ یہ جنون بانی کپتان کے سر چڑھ کر بولا تو اسے بھی دیوانگی میں مبتلا کرگیا کہ یہی وہ مرحلہ تھا جب جمہوریت سے آمریت نے جنم لیا۔ چارسال اقتدار میں رہا ، ماحول بھی ساز گار ، امپائر بھی مکمل طور پر ساتھ، چیف الیکشن کمشنر بھی اسی کا مقرر کردہ، پھر بھی انٹرا پارٹی انتخابات قانونی و آئینی طور پر نہ کراسکا۔ اس سے زیادہ آمریت کیا ہوسکتی ہے کہ دو بار انٹرا پارٹی الیکشن کروائے دونوں بار ہی اپنے مقرر کردہ پارٹی الیکشن کمشنرز سے اختلافات پیدا ہوگئے اور انہیں پارٹی سے علیحدہ کرکے آمرانہ فیصلے مسلط کئے اور نام نہاد پارٹی انتخابات کے نتائج کا اعلان کرکے نہ صرف الیکشن کمیشن کو دھوکہ دیا بلکہ خود فریبی کا شکار بھی ہوا۔ بانی کپتان کے اناڑی پن کی انتہا تو دیکھئے کہ ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر مورچے کھولے رکھے۔ کبھی وہ اسٹیبلشمنٹ کا سب سے لاڈلہ، راج دُلارا اور اعلیٰ عدلیہ کی آنکھوں کا تارا تھا، عوام کے دلوں پر وہ پہلے بھی راج کرتا تھا اور اب بھی کرتا ہے۔ اسے بیورو کریسی میں بھی کسی حد تک قبولیت حاصل رہی لیکن جب اسے تحریک عدم اعتماد کی صورت اقتدار سے نکالا گیا تو وہ جنونی ثابت ہوا۔ امریکہ کے خلاف سائفر لے آیا، جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو اس کا سہولت کار بنا دیا ، جنرل سید عاصم منیر کی بطور آرمی چیف میرٹ پر ہونے والی تقرری کے خلاف سازشیں کرنے لگا ، اعلیٰ عدلیہ کو دھمکیاں دیتارہا، وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری پر بھی بڑا خوف زدہ تھا۔ بانی کپتان کی خوش قسمتی اور بدقسمتی ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ چار سالہ اقتدارمیں اس نے جو سیاسی طور پر کھویا تھا اقتدارسے نکالے جانے کے بعد اللہ نے توقع سے زیادہ نواز دیا۔ چار سال کے تمام گناہ ثواب میں بدل گئے،لیکن وہ یہ بات بھول گیا کہ خدا عزت ، شہرت، دولت دے کر ہی انسان کو بار بار آزمائش میں ڈالتا ہے، قسمت والے ہی اس آزمائش سے کامران گزرتے ہیں۔کپتان اس پر بھی پورانہ اتر سکا۔ ہم کوئی غلام ہیں؟ والوں کے لئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ آج سے آپ سب آزاد ہیں۔ آئندہ ملکی سیاست میں آپ کا مضبوط کردار ختم ہو چکا، بانی کپتان کی فاش غلطیاں انہیں اور ان کی پارٹی کو بھی لے ڈوبیں، کاش! وہ اس اہم مرحلے پر اپنے دوست جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی خاطر اپنا پورا سیاسی کیریئر داؤ پر نہ لگاتے اور ساری عمر کی طرح ایک اور بڑا یو ٹرن لیتے اور اس کٹھن امتحان سے نکل جاتے ۔

Related Articles

Back to top button