توشہ خانہ اسکینڈل میں عمران کے خلاف کیس کی تیاری شروع


اپنے دور حکومت میں سابق وزیراعظم نوازشریف، یوسف رضا گیلانی اورآصف زرداری کے خلاف توشہ خانہ سے گاڑیاں خریدنے کے الزام پر نیب کے ریفرنس بنوانے والے عمران خان کے خلاف بھی توشہ خانہ سے تحائف سستے داموں خرید کر مہنگے داموں بیچنے کا کیس بنانے کا عمل شروع ہو گیا ہے اور ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان ان دنوں بیرون ملک سے ملنے والے قیمتی تحائف کم قیمت پر خرید کر مارکیٹ میں بیچ دینے کے حوالے سے حکومت کی شدید تنقید کی زد میں ہیں تاہم وہ پہلے وزیراعظم نہیں جنہوں نے سرکاری توشہ خانے سے تحائف خریدے ہوں۔
اس وقت دو سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی ،نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری نیب میں توشہ خانہ ریفرنسز کا سامنا کر رہے ہیں۔ لہٰذا اسی روایت پر چلتے ہوئے عمران خان کے خلاف بھی نیب ریفرنس تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ توشہ خانہ سے نصف قیمت پر تحائف خریدنے کا قانون دسمبر 2018 میں وزیراعظم عمران خان نے متعارف کروایا تھا ۔ تاہم یہ قانون لانے سے قبل عمران خان نے خود توشہ خانہ سے 14 کروڑ سے زائد مالیت کے قیمتی تحائف 15 فیصد سے کم قیمت پر خرید لیے تھے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے حال ہی میں جاری کی جانے والی دستاویزات کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ نے اگست 2018 سے دسمبر 2021 تک توشہ خانے سے 58 سے زائد تحائف خریدے۔ عمران نے یہ تحائف صرف تین کروڑ 81 لاکھ روپے ادا کر کے حاصل کیے اور بعد میں انہیں فروخت کرکے دس کروڑ روپے سے زائد کی کمائی کی۔ اسکے علاوہ خان صاحب نے آٹھ لاکھ روپے مالیت کے تحائف بغیر کوئی قیمت ادا کیے رکھ لیے کیونکہ قانون کے مطابق 30 ہزار سے کم مالیت کا تحفہ مفت میں لیا جا سکتا ہے۔
صدر مملکت عارف علوی اور ان کی اہلیہ کو اسی مدت میں کل 92 تحائف ملے جن کی قیمت 45 لاکھ 47 ہزار لگائی گئی۔ صدر علوی قومی خزانے میں 14 لاکھ 92 ہزار جمع کروا کر وہ تحائف گھر لے گئے۔ انہوں نے بھی توشہ خانہ سے نو لاکھ روپے مالیت کے مفت تحائف حاصل کیے۔
عمران خان نے جو تحائف بلامعاوضہ رکھ لیے ان میں 30 ہزار کا ٹیبل میٹ، 20 ہزار کا ڈیکوریشن پیس، 20 ہزار کا لاکٹ، 25 ہزار کا مکہ کلاک ٹاور کا ماڈل، نو ہزارکا ڈیکوریشن پیس، آٹھ ہزار کی وال ہینگنگ شامل ہیں۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے خریدے گئے مہنگے تحائف میں ایک آٹھ کروڑ 50 لاکھ کی گریف گھڑی شامل ہے جو انہوں نے صرف ایک کروڑ ستر لاکھ روپے خزانے میں جمع کروا کر لے لی۔ اسی طرح انہوں نے گھڑی سمیت چار تحائف لیے جن کی مجموعی قیمت کا سرکاری تخمینہ 10 کروڑ نو لاکھ روپے بنتا ہے تاہم عمران خان نے اس قیمت کا صرف 20 فیصد یعنی دو کروڑ دو لاکھ روپے دے کر خرید لئے۔ ان تحائف میں 56 لاکھ کے کف لنکس، 15 لاکھ کا ایک پین اور 87 لاکھ 50 ہزار کی انگوٹھی شامل ہیں۔ اسی طرح انہوں نے ایک 38 لاکھ کی رولیکس گھڑی سات لاکھ 54 ہزار میں خریدی۔
اگست میں حکومت سنبھالنے کے چھ ماہ کے اندر اندر دسمبر 2018 تک وزیراعظم دس کروڑ سے زائد مالیت کے تحائف 15 فیصد ادائیگی پر خرید چکے تھے۔ اس کے بعد قانون تبدیل کرکے تحفے کی لگائی گئی قیمت کا 50 فیصد ادا کرنا ضروری قرار دے دیا گیا تاہم اس نئے قانون کے بعد عمران نے صرف چار کروڑ کے تحائف خریدے۔ اس طرح متعدد اور گھڑیوں اور تحائف سمیت کل 14 کروڑ سے زائد مالیت کے تحائف موصوف نے تین کروڑ 81 لاکھ روپے میں خریدے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دعویٰ ہے کہ بعد میں یہی تحائف دبئی میں بیچ دیئےگئے اور دس کروڑ روپے سے زائد منافع کمایا گیا۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران کو توشہ خانہ کی خریدی اور بیچی جانے والی چیزوں کی رسیدیں دینا پڑیں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران نے اپنی ساری زندگی میں اتنا نہیں کمایا جتنا توشہ خانہ سے کمایا ہے۔ مریم کا کہنا تھا کہ صرف گھڑی کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ اس کو 18 کروڑ میں فروخت کیا گیا۔ ان کے بقول ’تحائف کو بازار میں بیچا نہیں جا سکتا۔‘ تاہم عمران خان نے ان تحائف کو خریدنے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا بلکہ قواعد کے مطابق ادائیگی کرکے سرکاری تحائف لیے۔
انکا کہنا تھا کہ میرے تحائف، میری مرضی، میں ان کے ساتھ جو بھی کروں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ریٹائرڈ فوجی افسران کو ڈی ایچ اے میں ملنے والے پلاٹس کی مثال دی اور کہا کہ افسران وہ پلاٹ لے کر انہیں بیچ بھی سکتے ہیں اور جو چاہے اس کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ لیکن سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ سکینڈل میں نیب ریفرنس کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یاد رہے کہ اس وقت احتساب عدالت میں نواز شریف، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف زرداری کے خلاف توشہ خانہ ریفرنسز زیرسماعت ہیں۔ گزشتہ سال مئی میں احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں پیش نہ ہونے پر نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے تھے جبکہ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کئی بار طلب کیا گیا ہے۔ توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت نے آصف زرداری اور نواز شریف کو سرکاری توشہ خانہ سے گاڑیاں لینے جب کہ یوسف رضا گیلانی کو گاڑیاں دینے کے الزام میں طلب کیا تھا۔ نیب نے عدالت کو بتایا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے تب کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کیں۔ یہ گاڑیاں غیر ملکی سربراہان مملکت کی طرف سے نواز شریف اور آصف زرداری کو تحفے میں دی گئی تھیں مگر قانون کے تحت یہ گاڑیاں پاکستان کے سرکاری توشہ خانہ یا گفٹ سنٹر میں جمع کروانی ہوتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button