جنرل باجوہ بارے عمران سے سوال پر صحافی کو دھکے


30 جون کو ایک صحافی کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان سے جنرل باجوہ کے ساتھ رابطوں بارے سوال کیا گیا تو کپتان نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی لیکن انکے عمرانڈو چیف آف سٹاف شہباز گل نے سوال کرنے والے صحافی کو دھکا مار کر پرے کر دیا۔ عمران کا بدزبان اور بد تہذیب چیف آف سٹاف اپنی اس حرکت کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔

عمران خان سے سوال کر کے شہباز گل سے دھکا کھانے والے سینئر صحافی حیدر شیرازی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ سابق وزیراعظم عمران خان سے تلخ سوالات پوچھ رہے ہیں۔ حیدر شیرازی نے اپنی ٹویٹ میں اس واقعے کی تفصیل بتائی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ میں نے عمران خان سے پہلا سوال یہ کیا کہ کیا انکا جنرل باجوہ سے رابطہ ہے؟ خان خاموش رہا۔ پھر میں نے دوسرا سوال کیا کہ آپ نے توشہ خانہ سے کیا کچھ خریدا اور بیچا؟ اس کی کیا تفصیلات ہیں؟

لیکن شہباز گل نے اس سوال پر مجھے دھکا مار کے پرے دھکیل دیا جبکہ عمران خان نے جواب دیا کہ یہ توشہ نہیں ”ٹوشا خانہ” ہے۔ میں نے پھر پوچھا کہ خان صاحب آپ سوالوں کے جواب کیوں نہیں دیتے؟ اس پر وہ مسکرا کر اپنی گاڑی میں سوار ہوئے اور نکل گئے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شہباز گل نے کسی صحافی کے ساتھ بدتمیزی کی ہو۔ وہ ماضی میں بھی ایسی حرکات کرتے رہے ہیں اور اب ایک بار پھر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے عمران خان کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ انہوں نے جنرل باجوہ اور موجودہ آئی ایس آئی سربراہ کے فون نمبرز بلاک کر دیے ہیں چنانچہ سینئر صحافی نے اسی پیرائے میں ان سے سوال پوچھا تھا کہ کیا ان کا جنرل باجوہ سے کوئی رابطہ ہوا ہے۔ عمران نے اس سوال کا جواب نہ دیا تو صحافی نے ان سے توشہ خانہ کے تحائف کے حوالے سے سوال پوچھ لیا لیکن خان صاحب پھر بھی خاموش رہے۔ اسی دوران شہباز گل نے آگے بڑھ کر سوالات کرنے والے صحافی کو دھکا مارا اور پرے دھکیل دیا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا ایک اور توشہ خانہ سکینڈل سامنے آگیا ہے۔ خبریں ہیں کہ انہوں نے اپنی حکومت کی ترامیم کا فائدہ اٹھا کر 3 مزید گھڑیاں توشہ خانہ سے حاصل کیں اور ان کو کم قیمت کا بھی 20 فیصد قومی خزانے میں جمع کرایا تھا۔ یہ گھڑیاں مشرق وسطیٰ کے اعلیٰ معزز، خلیجی جزیرے کے شاہی خاندان کے فرد اور اسی خلیجی جزیرے کے ایک معزز شخص نے وزیراعظم عمران خان کو تحفے میں دی تھیں۔ ان  گھڑیوں کی مالیت 15 کروڑ 40 لاکھ روپے تھی۔ سرکاری ریکارڈ میں ان قیمتی گھڑیوں کی فوٹوز کے ساتھ فروخت کی رسیدیں بھی موجود ہیں۔

عمران خان نے یہ گھڑیاں توشہ خانے سے اپنی جیب سے نہیں خریدیں بلکہ ان کو پہلے اوپن مارکیٹ میں بیچا گیا۔ بعد ازاں ان کی فروخت سے ملنے والی رقم میں سے صرف 20 فیصد قومی خزانے میں جمع کرایا۔ عمران خان نے یہ گھڑیاں توشہ خانے سے پندرہ کروڑ چالیس لاکھ میں اسلام آباد کے ڈیلر کو بیچ کر لگ بھگ 4 کروڑ روپے کمائے۔
ان میں سے ایک گھڑی خلیجی جزیرے سے تعلق رکھنے والے ایک معزز شخص کی جانب سے تحفے میں دی گئی۔ قیمتی گھڑی سابق وزیراعظم نے اٹھارہ لاکھ روپے میں فروخت کی۔ اس گھڑی کی سرکاری قیمت 15 لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق وزیراعظم نے دو لاکھ چورانوے ہزار روپے ادا کئے، اس سے مزید پندرہ لاکھ روپے کا فائدہ ہوا۔

خلیج کے شاہی خاندان کے اہم رکن کی طرف سے تحفے میں دی گئی ایک اور قیمتی گھڑی عمران خان نے 52 لاکھ روپے میں فروخت کی۔ توشہ خانہ کے قواعد کے مطابق اس مہنگے تحفے کا تخمینہ سرکاری جائزہ کاروں نے 38 لاکھ روپے لگایا۔ عمران خان نے سات لاکھ 54 ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع کرایا۔ حالانکہ گھڑی بازار میں 52 لاکھ روپے میں بیچی گئی تھی۔ اس طرح اس گھڑی کو بیچ کر تقریباً 45 لاکھ روپے کا منافع کمایا گیا۔ یہ گھڑی انہیں تحفے میں دیے جانے کے دو ماہ بعد نومبر 2018 میں فروخت کی گئی۔

سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان تحفے میں دی گئی گھڑی کی سرکاری قیمت 10 کروڑ 10 لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق وزیر اعظم نے اسے تقریباً آدھی قیمت پر پانچ کروڑ 10 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا اعلان کیا اور قیمت کے بیس فیصد کے طور پر 2 کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے۔ اس طرح صرف اس ایک گھڑی کی فروخت سے مجموعی طور پر 3 کروڑ 10 لاکھ روپے کا منافع کمایا گیا۔ یہ گھڑی 22 جنوری 2019 کو فروخت ہوئی۔

دوسری جانب رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے توشہ خانہ میں جمع کرائے بغیر گھڑیاں بیچنے کو سابق وزیراعظم عمران خان کا حق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کو رکھیں، پھینکیں، بیچیں یا تحفہ دے دیں، کوئی ہوتا کون ہے پوچھنے والا۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ میری گھڑی ہے میں چاہے پھینک دوں، آپ کون ہوتے ہیں اس بارے میں پوچھنے والے۔ عمران خان پر تو تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے گھڑی بیچ دی لیکن زرداری صاحب اور گیلانی صاحب نے جو گاڑیاں لی تھیں، ان کا حساب بھی تو ہونا چاہیے۔ سب کا توشہ خانہ نکال لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ زیادہ بری بات یہ ہے کہ وزیراعظم منی لانڈرنگ میں ملوث ہو اور اس کے اربوں کے اثاثے باہر پڑے ہوں۔

Related Articles

Back to top button