جنرل باجوہ نے پاکستان کے ساتھ کون کون سا کھلواڑ کیا؟

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے خود کو آرمی چیف بنانے والے وزیر اعظم نواز شریف کیساتھ احسان فراموشی کی اور انہیں غیر آئینی طریقے سے اقتدار سے نکلوایا لیکن پھر مکافات عمل کے قانون کے تحت عمران خان ان سے بھی بڑا محسن کُش نکلا اور جنرل قمر باجوہ کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا، نیازی کہتے ہیں کہ ایسے میں وقت کا پہیہ گھوما تو نواز شریف نے ہی جنرل باجوہ کی ایک اور توسیع کا منصوبہ خاک میں ملایا اور موصوف کو گھر کا راستہ دکھایا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اگرچہ جنرل قمر باجوہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے الوداعی تقریبات میں شرکت کر رہے تھے لیکن دوسری جانب موصوف اپنی مدت ملازمت میں ایک اور توسیع کے لئے بھی سر توڑ کوششوں میں مصروف تھے، ان کی ایوان صدر میں عمران خان سے خفیہ ملاقاتیں بھی اسی مقصد کے لیے تھیں لیکن بالآخر انہیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا جس کی بنیادی وجہ نواز شریف کا سٹینڈ تھا۔

جنرل باجوہ نے توسیع کیلئے آخری ہفتے تک ہمت نہ ہاری، لیکن نواز شریف کو داد کہ وہ ڈٹے رہے اور باجوہ کی ساری تدبیریں الٹا دیں۔ نیازی کہتے ہیں کہ قمر باجوہ دور کے اختتام کے بعد عاصم منیر دور کا آغاز ہو چکا ہے لیکن تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فوج کی سویلین مخالف پالیسی کا تسلسل جاری رہے گا۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ فوج کی لیاقت علی خان سے ٹھنی رہی، ان کے بعد خواجہ ناظم الدین کو برخاست کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، اسکے بعد محمد خان جونیجو کی چھٹی کروائی گئی، پھر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو بار بار اقتدار سے بے دخل کیا گیا۔ پھر بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا اور نواز شریف کو جیل میں ڈال دیا گیا، غرض یہ کہ فوج کے ادارے کی کسی سے بھی نہ بن پائی۔ سارے ہی سویلین حکمران زبردستی نکالے گئے۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ایسے میں یہ کیسے مان لیا جائے کہ عمران خان جیسے بد زبان کو معافی مل جانا تھی۔ اسی اصول کے تحت شہباز شریف حکومت کو بھی فوج سے استثنیٰ ملنے کا کوئی امکان نہیں یے حالانکہ نواز شریف ایک بار پھر اپنی مرضی کا آرمی چیف بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اب عمران خان اور عارف علوی کے پاس کھیلنے کے لیے کچھ باقی نہیں بچا۔ امریکی خط سے لیکر آئی ایم ایف کو لکھے گے خط تک، عمران کے سارے سازشی ہتھکنڈے ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں اور اب 26 مئی کا فیض آباد شو بھی فلاپ ہونے جا رہا ہے۔

جنرل باجوہ کا دور اقتدار بھی اختتام پذیر ہو رہا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ میں ان کو کن الفاظ میں یاد کیا جائے گا؟ انہیں عزت و وقار ملے گا یا رسوائی انکا مقدر بنے گی۔ بد قسمتی یہ ہے کہ جنرل ایوب تا جنرل راحیل، ہمارے تمام آرمی چیف تاریخ میں نشان عبرت کے قرب و جوار میں ہیں۔ آج عسکری ادارہ کسی ایک جرنیل کا دور بھی بھی ایک اچھی مثال کے طور پر تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے سے قاصر ہے۔ کاش اپنے الوداعی خطاب میں بھی جنرل باجوہ بھارتی فیلڈ مارشل جنرل مانک شاہ کی مثال دینے کی بجائے اپنے کسی ہم وطن جرنیل کی مثال لا پاتے۔ اس کے بعد انہوں نے تاریخی حقائق مسخ کرتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کی ذمہ داری بھی فوجی قیادت پر ڈالنے کی بجائے سیاسی لیڈرشپ پر ڈال دی حالانکہ جب یہ سانحہ رونما ہوا تب جنرل یحییٰ خان ہی کمانڈر انچیف تھے، وہی صدر بھی تھے اور وہی ملک کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کیا جنرل باجوہ بھول گئے کہ 1971 میں وطنی سیاست کس کے قبضے میں تھی؟اہنی عیاشیوں لے لیے بدنام جنرل یحییٰ ہی تو سیاست کے مائی باپ تھے۔ یادش بخیر جنرل یحییٰ سے پہلے وطنی سیاست دس سال کس کے قبضہ استبداد میں تھی۔ جنرل ایوب خان ہی تو نظام بستی چلا رہا تھا جس نے 1958 میں طاقت کے بل بوتے پر پاکستان پر قبضہ کیا اور پھر 1300 سیاستدانوں کو کرپشن پر سیاست سے دس سال تک کے لیے باہر کر دیا۔  جنرل باجوہ کو اپنے الوداعی خطاب میں سارے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کا اعتراف گناہ تو کیا لیکن مشرقی پاکستان توڑنے کا گناہ سیاستدانوں کے کھاتے میں ڈالنے کی ناکام کوشش کی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نئی فوجی قیادت بھی توبۃ النصوح اوراعتراف جرم کے لوازمات ذہن نشین کر لے۔ قرآن حکیم، توبۃ النصوح سے پہلے صدق دل سے اعتراف گناہ کا سبق دینا ہے اور صدق دل سے تائب ہونے کی تلقین کرتاہے۔ بائبل کی رو سے بھی اعترافِ جرم کے بعد ہی تویہ ممکن ہے۔ یہودی دیوار گریہ کے ساتھ زار و قطاررو رو کر اعتراف گناہ کرتے ہیں اور تب انہیں معافی ملتی ہے۔

حفیظ اللہ نیازی جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاف کیجئے گا، آپ کا ’’اعتراف گناہ‘‘ تحفظات سے بھر پور تھا۔ کاش آپ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے ریاست مخالف جرائم برملا تسلیم کرتے اور معافی مانگتے۔ یوں آپکی عزت کا خانہ تاریخ کے صفحوں میں خالی نہ رہتا۔ نیازی جنرل باجوہ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اپ کی جانب سے اپنے الوداعی خطاب میں یہ کہنا کافی تھا کہ گزشتہ سال فروری2021 سے’’ فوج نے سیاست میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے‘‘۔ جناب والا، جو بربادی 2021 سے پہلے رقم ہوئی اسکے ذمہ دار بھی تو آپ ہی تھے، آئین کی دھجیاں اڑانا، ریاست کو مفلوج رکھنا، سیاسی عدم استحکام جیسے جرائم نے مملکت پاکستان کو جس حال تک پہنچایا، اس نقصان کو کون پورا کرے گا۔ آپ نے اپنے خطاب میں مذید فرمایا کہ فوج کی ملکی سیاست میں مداخلت غیر آئینی ہے، اور اب فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔ لیکن دودھ کی جلی پاکستانی قوم یہ دیکھنے کے لئے منتظر ہے کہ اس عزم پر کب عمل درآمد ہوگا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ نے اپنے گناہوں کا جھوٹا سچا اعتراف کرنے میں اتنی زیادہ دیر کر دی کے انکے ہاتھوں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا اب کافی مشکل ہوگا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسی جھوٹے بیانیے کے زور پر عمران خان سیاسی میدان میں اپنے جھنڈے گاڑ چکا ہے۔ ایسے میں جنرل عاصم منیر کا بوجھ دُگنا ہو گیا ہے۔ 72 سال سے مادر وطن کے ساتھ مجرمانہ فعل کرنے والوں کا ماضی میں کوئی حساب کتاب ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ہو گا۔ اسی طرح 7 دہائیوں کے قومی مجرموں اور ملکی سالمیت سے کھیلنے والوں کا قانون کے کٹہرے میں آنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ لیکن ایک بات حتمی ہے کہ اگر فوج کا ادارہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کھلے دل و دماغ سے نہیں کرتا اور کڑی خود احتسابی سے پرہیز جاری رکھتا ہے تو جنرل قمر باجوہ کے جانے اور جنرل عاصم منیر کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کاش! نیا دور پاکستان کیلئے سب اچھا کی رپورٹ لکھے اور دشمنوں پر بھاری گزرے۔

Related Articles

Back to top button