جی ایچ کیو کا چوکیدار کہلوانے والا بھی فوج مخالف ہو گیا


جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کا چوکیدار کہلوانے پر فخر محسوس کرنے والے تانگہ پارٹی کے سربراہ شیخ رشید احمد نے بھی اپنے کپتان عمران خان سے متاثر ہوتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ پر سوالات کھڑے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے حالات اتنے پریشان کُن ہوگئے ہیں کہ جس ادارے کا احترام پوری قوم پر لازم ہے وہ بھی اب سوالیہ نشان بنتے جارہے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ ملک کے حالات تشویش ناک، پریشان کُن اور گھمبیرہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے حکومتی عہدیداروں پر تنقید کی اور کہا کہ جن لوگوں کو جیلوں میں ہونا چاہیے انہیں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پریشان کن بات یہ ہے جن اداروں کا احترام پورے ملک اور قوم پر لازم ہے وہ بھی سوالیہ نشان بنتے جارہے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ سامراج کے ایجنٹوں نے اپنے مفاد کے لیے گندی نالی کے کیڑوں کو تاج محل میں بٹھا دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے اپنی تقاریر میں سابق وزیراعظم عمران خان بھی بالواسطہ اور بلاواسطہ فوجی اسٹیبلشمنٹ پر الزامات کی بارش کر چکے ہیں اور اس کی ساکھ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ عمران یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جن لوگوں نے مجھے اقتدار سے نکالنے کی غلطی کی ہے وہ اسے درست کریں اور فوری طور پر نئے الیکشن کروائیں۔
اب اپنے کپتان کی پیروی کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ قوم میری بات یاد رکھے، عمران خان کی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دنیا کو حیران کر دے گی اور ایسا زناٹے کا رن پڑے گا کہ موجودہ حکومت کی عمر پاکستان کی تاریخ میں سب سے کم ثابت ہوگی۔ اس سے قبل 13 اپریل کو ایک پریس کانفرنس میں سابق وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ عمران خان اسلام آباد کی کال سے انکی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا اور انہیں جیل میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جیلوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شیخ چلی کہلانے والے گیٹ نمبر 4 کے چوکیدار نے کہا کہ فوج کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگنا چاہیے، گالیاں دینے والے فوج کے ساتھ صلح کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی فوجی قیادت کے ساتھ پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کرنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے لندن اور گجرانوالہ سے فوج کو گالیاں دیں اگر وہ اپنے مطلب کے لیے فوجی جوتے پالش کر سکتے ہیں اور شہباز شریف چیری بلاسم بن سکتا ہے تو ہمیں بھی غلط فہمیاں دور کرکے فوج کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ نیا الیکشن چاہتے ہیں، موجودہ حکومت پوری کوشش کرے گی کہ ان کا دور حکومت لمبا ہو، پہلے یہ کہتے تھے کہ یہ سلیکٹڈ حکومت ہے اس لیے فوری الیکشن کراؤ، اب ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ امپورٹڈ حکومت ہے الیکشن کراؤ، لیکن شہباز شریف اور ان کی اتحادی جماعتیں نئے الیکشن سے راہ فرار حاصل کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ شیخ رشید پچھلی کئی دہائیوں سے خود کو فوج کا ترجمان قرار دیتے رہے۔ موصوف پاکستانیوں کو جی ایچ کیو کے مختلف گیٹ نمبرز بتا کر ثابت کرتے رہے ہیں کہ قوم کے پاس اپنی بات گیٹ کے اندر تک پہنچانے کا سب سے موثر ذریعہ وہی ہیں۔ لیکن فرزندِ پاکستان کو پاکستان سے اتنا ڈر لگتا ہے کہ جس دن نواز شریف حکومت نے ایٹمی دھماکے کرنا تھے اسی دن وہ دبئی بھاگ گئے، اپنے فرار کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے ٹی وی پر کہا تھا کہ ان کو ڈر تھا کہ اگر ہمارا کوئی پٹاخہ اِدھر اُدھر ہو گیا تو ہم سب ہی نہ مارے جائیں۔ لہذا وہ دبئی کی فلائٹ بک کروا کر ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

Related Articles

Back to top button