حمزہ شہباز پنجاب کی کابینہ بنانے میں کب کامیاب ہوں گے؟


آبادی اور وسائل کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی صوبائی کابینہ سے محروم ہے جبکہ دس اپریل کے بعد یہاں عملاً کوئی گورنر بھی موجود نہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب اور حلف کا معاملہ ہو یا صوبے کے نئے گورنر کی تقر ری تحریک انصاف کے حمایتی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی غیر آئینی حرکتوں سے پاکستان مسلم لیگ نواز کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں . کچھ ایسی ہی صورت حال پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی کابینہ کی حلف برداری کے حوالے سے بھی دیکھی جا رہی ہے ۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحب زادے حمزہ شہباز نے تقریباً دو ہفتوں کی قانونی لڑائی کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر 30 اپریل کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلف لیا تھا ۔ حمزہ خود تو حلف لینے میں کامیاب ہو گئے مگر ان کی کابینہ کا حلف کون لے گا یہ ہے وہ مشکل جس میں تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادیوں کو لگ بھگ دو ہفتوں سے پھنسا رکھا ہے ،پہلے گورنر عمر سرفراز چیمہ نے اپنے لیڈر عمران خان کے زیر اثر رہتے ہوئے حمزہ کے بطور وزیر اعلیٰ انتخاب کو مسترد کردیا جب وفاقی حکومت نے اپنے طور پر عمر چیمہ کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا ہے تو اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی بھی قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھالنے کو تیار نہیں جس کے باعث صوبے میں آئینی بحران بدستور برقرار ہے۔ ایسی صورت حال میں پنجاب اب تک صوبائی کابینہ کے بغیر چل رہا ہے کیونکہ آئین کے تحت صوبائی کابینہ سے حلف لینے کا اختیار گورنر کو ہے جس کی غیر موجودگی میں سپیکر پنجاب اسمبلی قائم مقام گورنر بن جاتا ہے۔ گورنر ایک آئینی عہدہ ہے جو خالی نہیں رکھا جا سکتا۔

آئینی ماہرین کے مطابق گورنر اور کابینہ نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب میں آئینی اور انتظامی کام رکے ہوئے ہیں نہ ہی کوئی قانون سازی ہو رہی ہےاور ایک کے بعد دوسرا مسئلہ سر اُٹھا رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کی رُکن پنجاب اسمبلی خدیجہ عمر کے مطابق جس طرح غیر آئینی طریقے سے گورنر کو ہٹایا گیا اور وزیراعلٰی کو لایا گیا، اِس پر خاموش رہنا بھی جرم ہے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کے بطور گورنر حلف نہ لینے کے حوالے سے خدیجہ عمر نے کہا کہ اُن کی جماعت حمزہ شہباز کو وزیراعلٰی نہیں مانتی۔ سب جانتے ہیں کہ وہ غیر آئینی طریقے سے وزیراعلٰی منتخب ہوئے ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی مسرت جمشید چیمہ کہتی ہیں کہ اِب تک برسرِ اقتدار جماعت نے جتنے بھی کام کیے ہیں وہ سب آئین شکنی کے زمرے میں آتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں صدر اور گورنر کے عہدے آئینی ہیں، لیکن آئین سب سے سپریم ہے۔ صدر وزیراعظم کی ہدایت پر گورنر لگا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے آئین کے مطابق دو مرتبہ صدر کو گورنر لگانے سے متعلق لکھا لیکن اُنہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اِسی طرح عمر سرفراز چیمہ نے بطور گورنر آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیراعلٰی پنجاب سے حلف لینے سے انکار کیا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے عمر سرفراز چیمہ چیمہ کو دس مئی کو بطور گورنر ان کے عہدے سے ڈی نوٹی فائی کر دیا گیا تھا ۔ مگر عمر سرفراز چیمہ نے اپنی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ وہ اب بھی پنجاب کے گورنر ہیں۔ انہوں نے مسلسل حمایت پر صدر عارف علوی کا شکریہ ادا کیاتھا کیونکہ صدر مملکت نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ایما پر عمر سرفراز چیمہ کو گورنر کے عہدے سے ہٹانے کا وفاقی حکومت کا فیصلہ تسلیم نہیں کیا ۔

Related Articles

Back to top button