آرمی ایکٹ میں تبدیلی سے اداروں کو نقصان ہوگا

تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت آرمی ایکٹ میں تبدیلی لیکر آرہی ہے، حکمران اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایک دو دن راولپنڈی جانے کا پلان دوں گا۔

جہلم، سرگودھا، مردان سمیت دیگر جگہوں پر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا قوم کوبتانا چاہتا ہوں حقیقی آزادی مارچ کیوں کر رہے ہیں، ہم مارچ اس لیے کر رہے ہیں چوروں کوسازش کے تحت مسلط کیا گیا، 60 فیصد کابینہ ضمانت پر ہے، شہبازشریف اوراس کے بیٹے کو 16 ارب کیس میں سزا ہونے والی تھی، شہبازشریف کے خلاف 8 ارب ٹی ٹیز کا بھی کیس تھا، انہوں نے اسمبلی میں قانون پاس کر کے 1100ارب کے کیس معاف کرائے، ہم اس لیے احتجاج کررہے ہیں انسان ہے کوئی بھیڑ،بکریاں نہیں، ہم قوم کوبتارہے ہیں ظلم اورناانصافی کوتسلیم نہیں کرتے۔

انکا کہناتھا جب چور اپنے آپ کواین آراودیں گے تو مطلب جنگل کا قانون ہے، اگر انصاف نہیں ہوگا تو ملک میں حقیقی جمہوریت اور خوشحالی نہیں آسکتی، خوشحال ملکوں میں 90 فیصد قانون کی حکمرانی ہے، نائیجیریا میں تیل ہے لیکن وہاں کرپشن ہو رہی ہے، خوشحال ملکوں میں اگر کوئی چوری کرتا ہے تو کوئی این آر او نہیں لے سکتا، ہم چوروں کے خلاف امربالمعروف پرچل رہے ہیں، جب سے یہ اقتدارمیں آئے ملک کا معاشی قتل ہوچکا ہے، دونوں جماعتیں30سال سے حکمرانی کررہے ہیں، ڈاکٹرعشرت نے اپنی کتاب میں لکھا جب سے یہ دوخاندان اقتدارمیں آئے بنگلادیش، بھارت ہم سے آگے نکل گئے، یہ دوخاندان امیراورعوام غریب ہوتے گئے، ہم صاف اورشفاف الیکشن چاہتے ہیں تاکہ معاشی استحکام آئے۔

انہوں نے کہا ہمارے دور میں قرضوں کی قسطوں کو واپس کرنے کا رسک 5 فیصد آج 75 فیصد پر پہنچ گیا ہے، بیرونی دنیا سمجھ رہی ہے پاکستان قرض واپس نہیں کرسکے گا ڈیفالٹ کر جائے گا، ایسے رسک کی وجہ سے کوئی بھی ملک پاکستان کو قرض نہیں دے گا، اگرہم قرضوں کی قسطیں واپس نہیں کریں گے تو بیرون ملک سے ڈالر آنا بند ہو جائیں گے، جب ڈالرنہیں آئیں گے تو روپے کی قدر گرے گی تو ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ پاکستان کی معیشت ڈوبتی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا ملک کو بحران سے نکالنے کا ایک ہی راستہ الیکشن ہے، نواز شریف، زرداری الیکشن کی شکست کی وجہ سے ڈرے ہوئے ہیں، ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن، اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے باوجود ہار گئے تھے، یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے اس لیے ملک کو تباہی کی طرف لیکر جا رہے ہیں، نواز شریف کے مفادات پاکستان سے نہیں ملتے، نوازشریف کا سب کچھ باہرہے، بچوں کے پاس برطانیہ کے پاسپورٹ ہیں، نوازشریف نے زندگی میں کبھی میرٹ پرفیصلے نہیں کیے، خاص طور پر آرمی چیف کا میرٹ پر فیصلہ ہونا چاہیے، ان کی بات نہیں کر رہا جنہوں نے آرمی چیف لگنا ہے، میں تو ان کی بات کر رہا ہوں جنہوں نے آج تک کوئی شفاف کام نہیں کیا، آرمی ایکٹ میں یہ چینج لیکرآرہے ہیں، یہ اداروں کونقصان پہنچارہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف جو بھی تعینات ہو میرٹ پر ہو تاکہ ادارے مضبوط ہوں، میرے خلاف ن لیگ اور نجی میڈیا گروپ کمپین کر رہے ہیں، فارن فنڈنگ کیس میں ہم نے 40 ہزار ڈونزز کا ریکارڈ دیا، کسی طرح ثابت کرنے میں لگے ہیں کوئی غلط چیز ثابت ہوجائے، زرداری، نوازشریف، یوسف رضا گیلانی کا 10 سال سے توشہ خانہ میں کیس ہے کوئی نہیں سن رہا، عمرفاروق کے الزامات فراڈ ہیں، عمرفاروق کے فراڈ کا سوشل میڈیا نے بھانڈہ پھوڑدیا، ان کی عقل پر حیران ہوں، توشہ خانہ میں سارا ریکارڈ موجود ہے، نقل مارنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے، افسوس سے کہنا پڑرہا ہے مجھے انصاف کے نظام سے کوئی امید نظر نہیں آ رہی، نجی میڈیا گروپ کے خلاف لندن میں کیس کروں گا، کردارکشی کی گئی، اس میڈیا گروپ اور عمر فاروق کے خلاف دبئی اور لندن میں کیس کروں گا، ہم عدالت میں ثابت کریں گے میڈیا گروپ پروپیگنڈا کرتا ہے، جیو کو اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، عمرفاروق کی کوئی حیثیت ہی نہیں، برطانیہ کی عدالتوں میں پہلے بھی ایک کیس لڑا ہوا ہے۔

دریں اثنالاہور میں سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے ملاقات میں عمران خان نے کہا کہ نواز شریف چاہتا ہے کہ کوئی ایسا آرمی چیف آئے جو ان کے معاملات اور کیسز کا خیال رکھے۔انہوں نے کہا کہ کوئی آرمی چیف ایسا نہیں آئے گا جو ادارے، ریاست اور عوام کی آواز کے خلاف جائے۔ ہم آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے میں پیچھے ہٹ گئے ہیں، پیچھے بیٹھ کر سب دیکھ رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا توشہ خانہ کیس میں الزامات سے متعلق کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس پر دبئی، لندن اور پاکستان میں متعلقہ افراد کے خلاف کیس کریں گے۔توشہ خانہ کیس میں جو سامان فروخت کیا وہ اسلام آباد میں فروخت کیا، رسیدیں اور تاریخ توشہ خانہ میں موجود ہیں۔ توشہ خانہ سے متعلق جب گواہی میں جائیں گے، کیس ختم ہوجائے گا۔

عمران خان کاامریکا سے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکا سے لڑائی نہیں، مثبت اور بہتر تعلقات چاہتا ہوں۔ امریکا کے معاملے میں ذاتی مفاد پر قومی ترجیحات کو فوقیت دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں رول آف لا نہیں ہوتا وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔ رول آف لا سے آزاد قوم بنتی ہے، جو ملک کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کا پیغام بھیجا جا رہا ہے مگر ہم نے کہا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دیں۔ صاف شفاف الیکشن ہی تمام بحران کا حل ہے۔ امریکا کے معاملے پر بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ امریکا نے میری حکومت گرائی تھی مگر ملکی مفاد کی وجہ سے ان سے اچھے تعلقات رہیں گے۔

Related Articles

Back to top button