حکومت سازی کیلئے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کیسے بلیک میل کریں گی؟

آٹھ فروری کے الیکشن کے نتائج کے بعدبار کامیاب ہونے والے آزاد اُمیدوار دو طرح کے ہیں: ایک پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اور دوسرے غیر حمایت یافتہ اُمیدوار۔ مگر غیر حمایت یافتہ اُمیدواروں کی تعداد شاید ایک درجن سے زیادہ نہیں۔ آزاد ارکان اگر کسی جماعت میں شامل نہیں ہوتے تو اُن کی حیثیت پھر آزاد ہی رہے گی۔ مگر پی ٹی آئی اپنے حمایت یافتہ اُمیدواروں کے حوالے سے یہ نہیں چاہے گی کہ وہ پانچ سال آزاد ہی رہیں، اگر ایسا ہی ہے تو پھر کیا ہوگا؟
دونوں بڑی سیاسی جماعتیں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی زیادہ سے زیادہ آزاد اُمیدواروں کو اپنی اپنی جماعت میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔اب سب کی نظریں منتظر ہیں کہ جوڑ توڑ کی سیاست کیا رُخ اختیار کرے گی اور مخلوط حکومت کے قیام کے لیے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کیسے بلیک میل کریں گی؟ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کی تشکیل کس نوعیت کی ہوگی؟ آزاد اُمیدواروں کی حیثیت کیا ہو گی؟ کیا پی ٹی آئی اپنے حمایت یافتہ اُمیدواروں کے ساتھ کسی چھوٹی سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے گی؟کیا پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اُمیدواروں کو توڑا جا سکے گا؟سیاسی تجزیہ کار پروفیسر فاروق حسنات کہتے ہیں کہ آزاد ارکان کو تین دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہو گی ورنہ اُن کی حیثیت آزاد ہی رہے گی۔ مگر پی ٹی آئی اپنے ارکان کو پانچ سال آزاد رکھنے کی پالیسی اختیار نہیں کرے گی۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ جہاں تک معاملہ ہے کہ پی ٹی آئی کے آزاد اراکین کے دوسری پارٹیوں میں جانے کا تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان امیدواروں کو معلوم ہے کہ اگر انھوں نے وفاداری تبدیل کی تو ان کا حشر بھی وہی ہوگا، جو ان سے پہلے والوں کا ہوا ہے۔ پروفیسر فاروق حسنات کا کہنا ہے کہ دوسری بات یہ ہے کہ آزاد اُمیدوار ہر طرح کی مشکلات دیکھ چکے ہیں۔ اب کسی بھی غیر سیاسی قوت کے سامنے پسپا نہیں ہوں گے۔تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ جو آزاد امیدوار پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نہیں ہیں، وہ خریدے جائیں گے شاید ممکن ھے کہ کچھ حمایت یافتہ بھی وفاداری تبدیل کر جائیں۔ پی ٹی آئی کے حامی اُمیدوار آزاد گروپ کی شکل میں بھی رہ سکتے ہیں اور کسی چھوٹی پارٹی میں بھی جاسکتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر فاروق حسنات کہتے ہیں کہ یہ نظر آرہا تھا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اُمیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہوں گے اور پی ٹی آئی کے نوجوان اور خواتین ووٹرز گھروں سے نکل کر پولنگ سٹیشن کا رُخ کریں گے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اُمیدواروں کی برتری نے وفاقی حکومت کی تشکیل میں دشواری پیدا کردی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی مل کر وفاقی حکومت کی تشکیل کرسکتی ہیں، تاہم دوسری جماعتوں سے اتحاد کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔ مگر ایسی صورت حال میں جوڑ توڑ جہاں ہوگا وہاں ایک دوسرے کو خوب بلیک میل بھی کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری کئی بار مسلم لیگ ن سے اتحاد نہ کرنے کہہ چکے ہیں۔بلاول اپنے مستقبل کی سیاست کو مسلم لیگ ن مخالف بیانیہ کی بنیاد پر فروغ دے کر اُس نسل کے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں جو مسلم لیگ ن سے نالاں ہے۔
مگر آصف علی زرداری کا سیاسی انداز مختلف ہے تاہم یہ بلاول کو اگلا وزیرِ اعظم بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کے مابین ممکنہ طورپر کس طرح معاملات طے پاسکتے ہیں؟ ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ’یقینی طور پر پی ڈیم ایم طرز کی حکومت بنے گی اور پیپلز پارٹی اچھے طریقے سے اقتدار میں اپنا حصہ لے گی۔ صدارت پیپلزپارٹی کے حصہ میں آسکتی ہے۔‘ اس صورتحال میں جے یو آئی ایف اور ایم کیو ایم سمیت تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کو وفاقی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی اتحاد کرنا پڑے گا۔
صوبائی حکومتوں میں خیبر پختونخوا اور سندھ میں تو صورت حال کافی حد تک واضح ہے۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر حکومت بنائے گی، اسی طرح خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو حکومت دینا پڑے گی۔ مگر یہاں تھوڑی کنفیوژن ہے کیوںکہ پی ٹی آئی کے کامیاب اُمیدوار آزاد ہیں۔ کیا آزاد اُمیدواروں کی حکومت بنے گی؟ مخصوص نشستوں کا کیا ہوگا؟ اس سلسلے میں صورتحال مزید آگے جا کر واضح ہوگی۔
بلوچستان میں قومی و صوبائی جماعتیں مل کر ہی حکومت بنائیں گی۔ لیکن اصل معاملہ پنجاب کا ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن نے زیادہ سیٹیں لی ہیں، مگر آزاد اُمیدوار بھی بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ ن ہی حکومت بنائے گی۔ پنجاب میں حکومت بنائے بغیر یہ وفاق میں حکومت نہیں بنائے گی۔

Related Articles

Back to top button