خیبر پختونخوا اسمبلی کے انتخابات اکتوبر میں ہونے کا امکان

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختون کی نگراں حکومت کم از کم 8 ماہ چلنے کا امکان بے کیونکہ بے شمار تکنیکی مسائل کے باعث 90 روز میں انتخابات کا انعقاد کروانا ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعلی محمود خان کی جانب سے صوبائی اسمبلی توڑے جانے کے بعد نگراں وزیر اعلیٰ اعظم خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔ لیکن دوسری جانب خیبر پختون صوبائی اسمبلی کیلئے 90 دن میں انتخابات کرانے میں بے شمار تکنیکی مسائل سامنے آگئے ہیں اور اکتوبر 2022 سے قبل الیکشن کے آثار نظر نہیں آرہے۔ انی کے درمیان تلخیاں کم کرانے میں پرویز خٹک اور مشتاق غنی نے اہم کردار ادا کیا۔

باخبر ذرائع کے مطابق یکم فروری سے ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز کیا جارہا ہے اور یہ سلسلہ مارچ کے اختام تک عمل ہوگا، جس کے بعد حلقہ بندیوں کے لئے بھی کم ازکم تین مہینے کاوقت درکار ہوگا۔ قومی اسبملی کی اپنی آئینی مدت بھی رواں برس 16 اگست کو پوری ہونا ہے، اس لئے زیادہ امکان یہی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات بھی دیگر اسمبلیوں کے ساتھ اکتوبر میں ہی ہوں گے جب نئی مردم شاری کے مطابق حلقہ بند یاں بھی مکمل ہو چکی ہوں گی۔

یاد رہے کہ چونکہ دونوں صوبائی اسمبلیوں کو مدت سے قبل فارغ کیا گیا ہے اس وجہ سے انتخابات کیلئے 90 روز کی آئینی مدت اپریل میں مکمل ہوگی۔ یعنی آئینی اور قانونی طور پر اگر خیبر پختون اور پنجاب میں صوبائی انتخابات وقت سے قبل کرائے جاتے ہیں تو یہ پرانی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ہوں گے جبکہ وفاق، سندھ اور بلوچستان میں الیکشن مقررہ مدت یعنی اکتوبر میں ہوں گے۔ ان انتخابات کے لئے ووٹنگ نئی مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ہوگی جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک نیا تنازع پیدا ہونے کا امکان ہے۔ لہذا کسی تنازعے سے بچنے کے لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ اکتوبر سے قبل عام انتخابات نہیں ہوں اور نگراں مدت بھی کم از کم آٹھ مہینے تک قائم رہے۔ لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن نے ہی کرنا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ اعظم خان نے بھی صوبے میں پر امن انتخابات کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہےکہ صوبے میں انتخابات کرانا ایکشن کمیشن کا کام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ماضی میں نگران وزیر داخلہ رہ چکا ہوں اور گزشتہ الیکشن میں الیکشن کمیشن کو مکمل سپورٹ کیا تھا۔ اس مرتبہ بھی ایکشن کمیش کو بھر پور تعاون فراہم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ تمام تر اندازوں کے برعکس خیبر پختون حکومت اور اپوزیشن کے مابین صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے سابق چیف سیکریٹری اعظم خان کے نام پر اتفاق کیا گیا۔ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر کے مابین تلخیاں کم کرانے میں پرویز خٹک اور مشتاق غنی نے اہم کردار ادا کیا۔ کیونکہ اپوزیشن لیڈ را کرم خان درانی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں محمود خان کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا جبکہ محمود خان کی جانب سے بھی اکرم درانی کے خلاف سخت الفاظ کہے گئے تھے اور نگران وزیر اعلیٰ کا معاملہ کمیٹی اور بعد ازاں الیکشن کمیشن کے پاس جانے کا امکان پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم پرویز خٹک اور مشتاق غنی کی کوششوں سے نگران وزیر اعلیٰ کے لئے دونوں رہنما اکھٹے بیٹھے اور ایک نام پر متفق ہو گئے ۔ واضح رہے کہ نگران وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے پانچ ناموں پر مشاورت ہوئی جس کے بعد اعظم خان کا نام اپوزیشن نے تجویز کیا، حکومت نے عمران خان کے ساتھ مشاورت کے بعد اعظم خان کے نام پر اتفاق کر لیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مابین مشاورتی اجلاس اسپیکر باؤس میں منعقد ہوا جس میں محمود خان، اکرم خان درانی، اسپیکر مشتاق غنی اور سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے شرکت کی ۔ ادھر اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اعظم خان بہترین ایڈ منسٹریٹر ہیں اور امید ہے کہ وہ صوبے کا نظام بہترین انداز میں چلائیں گے۔ نواز لیگ کے اختیار ولی نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے تمام جماعتوں کی نمائندگی کی ہے، ہم اس فیصلے سے متفق ہیں۔

Related Articles

Back to top button