سول بالادستی کمزور، اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہوتی جارہی ہے

پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے سربراہ اور جمعیت علمااسلام آباد کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم جمہوریت کی جنگ لڑتے ہیں لیکن جمہوریت کمزور ہوتی چلی جارہی ہے، ہم اسٹیبلشمنٹ کی کمزوری اور سول بالادستی کی بات کرتے ہیں لیکن سول بالادستی کمزور اور اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہوتی جارہی ہے، ایسا کیوں ہے، یہ بہت اہم سوال ہے اور میں خود یہ سوال اٹھانا چاہتا ہوں اور میں نے ہر فورم پر یہ سوال اٹھایا بھی ہے لیکن اس وقت جو صورتحال ہے جو مسئلہ درپیش ہے اس پر ہم بات بھی کر رہے ہیں اور اس سے نکلنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

سکھر میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ملک میں مہنگائی میں اضافے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے ملک کی معیشت کو معاہدے کرکے آئی ایم ایف کے حوالے کیا،سیلاب کی صورتحال اور آزمائش کے ماحول میں کسی شخص یا جماعت پر تنقید یا پارٹی پالیسی کے حوالے سے بات کرنے سے اجتناب کر رہا ہوں، میں نے گزشتہ روز سندھ کے 6 اضلاع کا فضائی دورہ کیا جہاں مجھے ہر جگہ پانی ہی پانی نظر آیا، کوئی ایسا علاقہ نظر نہیں آیا جہاں پانی نہ ہو۔

انکا کہنا تھا سندھ میں سمندر کی طرح پانی کھڑا ہے، اس وقت جو صورتحال درپیش ہے اس کو سنبھالنا ایک حکومت تو کیا کئی حکومتوں کے بھی بس کی بات نہیں ہے، ابھی صرف لوگوں کو ریسکیو کیا جارہا ہے، چاہے ان کو پانی سے نکالنے کا عمل ہو، چاہے انہیں خیمے مہیا کرنے کا عمل ہو، لوگ جس طرح اس شدید گرم موسم میں بغیر چھت کے، درختوں اور پتلی چادروں کے تلے زندگی گزار رہے ہیں، وہ کوئی زندگی کی علامت نہیں ہے، انسانی زندگی مکمل طور پر معطل ہے، اس کو بحال کرنے کے لیے قومی جذبے سے کام کرنا ہوگا۔

پی ڈی ایم سربراہ نے کہا جو امدادی سامان آرہا ہے، اس امداد کو پوری دیانتداری کے ساتھ لوگوں تک پہنچانا فلاحی تنظیموں کی طرح حکومت کا بھی فرض ہے، سامان لوگوں تک پہنچتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، لوگوں کی شکایات کا ازالہ ہونا چاہیے، امداد کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ حکومتوں کے پاس این جی اوز کے مقابلے میں زیادہ وسائل ہوتے ہیں، اس پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی، ہم نے کہا تھا کہ ہم خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ بھی سیلاب کی تباہ کاریوں میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکوں سے متعلق انفرااسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، تاحال پانی موجود ہے، جہاں رابطے منقطع ہیں ان کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی ہے، این ایچ اے اپنے وسائل کے ساتھ سڑکوں کی بحالی کے لیے کام کرے گی، سڑکوں کو اپنی حالت میں واپس لانے کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ فنڈز مختص کرنے ہوں گے، اس میں وقت لگے گا، یہ معمولی نہیں بہت بڑا کام ہے،سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں سندھ حکومت کی کارکردگی سے متعلق میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، اس پر سندھ کے لوگ خود تبصرہ کریں، جو لوگ اس سے متعلق شکایات کریں گے، ہم ان کو سنجیدہ لیں گے، جو امداد آرہی ہے اس کی تقسیم نظر آنی چاہیے اور مقامی رہنماؤں، میڈیا اور دیگر لوگوں کو اس پر بات کرنی چاہیے تاکہ یہ معاملات اجاگر ہوں۔

انہوں نے کہا ملک میں مہنگائی کی صورتحال کا اندازہ ہے، جہاں تک مہنگائی پر تنقید کا سوال ہے، اس کا تعلق پالیسیوں کے ساتھ ہے، جن پالیسیوں کے ساتھ ہم نے اپنے ملک کی معیشت کو معاہدے کرکے آئی ایم ایف کے حوالے کیا، جن پالیسیوں کے تحت ہم نے اپنے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کیا، وہ پارٹی آج آزادی کی بات کرتی ہے، کس سے آزادی کی بات کرتے ہیں، آئی ایم ایف کے حوالے تو آپ نے کیا ہے، آپ کے اپنے لوگوں نے کہا کہ ہم نے سب کچھ ان کو لکھ کر دے دیا ہے، اصل میں پالیسیاں کسی چیز کی حمایت یا مذمت کی بنیاد ہوتی ہیں، ان پالیسیوں کے اثرات حکومت کی تبدیلی سے فوری طور پر ختم نہیں ہوتے، ایک حد تک ان کے انتہائی منفی اثرات بڑھتے ہیں، ساڑھے 3 برسوں کی وہ ناکام پالیسیاں جنہوں نے یہ معاشی بدحالی کی صورتحال پیدا کی، ان کو تین سے چار ماہ میں ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔

امیر جے یو آئی ف نے تسلیم کیا کہ ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، اس سلسلے میں ہم حکومت اور وزیراعظم پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے اقدامات کریں، وہ لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح سے معیشت کو سنبھال سکیں، مہنگائی کو قابو کرسکیں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قوت کو بڑھا سکیں، یہ تمام چیزیں پالیسی سازی سے تعلق رکھتی ہیں، یہ پالیسیاں سابقہ حکومت نے بنائی لیکن بھگت ہم رہے ہیں ان چیزوں کو، تنقید کا نشانہ بھی ہم بن رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک پی ٹی آئی اور عمران خان کا تعلق ہے، جس طرح اپنے دور حکومت میں وہ ایک نااہل جماعت اور نااہل قیادت ثابت ہوئی، اسی طرح آج سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران بھی وہ اسی طرح نااہل ثابت ہو رہی ہے،حکومت جانے کے بعد وہ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، سیلاب سے بڑی آزمائش قوم پر نہیں آسکتی، اس میں ان کا کردار زیرو اور نمائشی ہے، جس ضلع میں وہ 25 ٹرک لے کر جاتے ہیں، اس میں صرف 2 ٹرک کا سامان ہو تو اس طرح کے ڈرامے کیوں کیے جاتے ہیں، ناخن کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوانا بڑی آسان بات ہے، یہ حکومت کرتے ہوئے بھی نااہل تھے، یہ اپوزیشن کرتے اور سیلاب کی تباہ کاریوں میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے بھی نااہل ثابت ہو رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا ملک کو بنے 75 سال ہوگئے، آج تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ پاکستان میں حکومت کس کی ہو، ہم پریشان ہیں کہ ملک میں حکومت کس کی ہے عدلیہ کی ہے، سیاست دانوں کی ہے یا کسی اور کی ہے، 75 سال بعد بھی ہم اس بحران کے دوران بھیک مانگ رہے ہیں، لوگ ترپ رہے ہیں تو یہ پالیسی کون تبدیل کرے گا، کب ہوگا، کوئی گرینڈ ڈائیلاگ ہوگا یا عوام اسی طرح پٹتے رہیں گے، سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ اس سوال میں آپ کے ساتھ ہوں، سنجیدہ اور قابل غور سوال ہے کہ گزشتہ 75 سال سے ہم ترقی کی بات کرتے ہیں لیکن تنزلی کی جانب جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کی جنگ لڑتے ہیں لیکن جمہوریت کمزور ہوتی چلی جارہی ہے، ہم اسٹیبلشمنٹ کی کمزوری اور سول بالادستی کی بات کرتے ہیں لیکن سول بالادستی کمزور اور اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہوتی جارہی ہے، ایسا کیوں ہے، یہ بہت اہم سوال ہے اور میں خود یہ سوال اٹھانا چاہتا ہوں اور میں نے ہر فورم پر یہ سوال اٹھایا بھی ہے لیکن اس وقت جو صورتحال ہے جو مسئلہ درپیش ہے اس پر ہم بات بھی کر رہے ہیں اور اس سے نکلنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

سربراہ پی ڈی ایم نے پی ٹی آئی کی جانب سے آرمی چیف کے تقرر سے متعلق عدالت جانے کے سوال پرکہا کہ عدالت آئین کے مطابق فیصلہ کرے گی، تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک عالمی مجرم اور امپورٹڈ چور وہ پاکستان کی حکومت اور سیاستدانوں کی بات کرتا ہے، اداروں کی بات کرتا ہے، سیاسی طور پر ہماری نظر میں مجرم شخص جو امپورٹڈ چور ہے، فارن فنڈنگ کیس سے اس کی پوزیشن واضح ہوگئی ہے، فرد جرم اس پر عائد ہونے والی ہے، اب وہ درحقیقت سیاسی لیڈر بننا چاہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ‘اداروں پر تنقید کرو، فوج پر تنقید کرو، عدالت اور پالیمنٹ پر تنقید کرو اور جمہوریت پر تنقید کرو تاکہ جب اس پر ہاتھ پڑے تو وہ کہے کہ شاید سیاستدان پر حق گوئی کی پاداش میں ہاتھ ڈالا گیا ہے، یہ نہیں ہوگا، مجرم پر ہاتھ ڈالا جائےگا، ملزم پر ہاتھ ڈالا جائے گا، قومی مجرم اور امپورٹڈ چور پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔

امیر جے یوآئی ف نے کہا عمران خان کو نہ کوئی ساست دان تسلیم کرتا ہے، نہ وہ سیاسی تھا نہ وہ سیاسی ہے اور نہ ان کی آئندہ کوئی سیاست موجود ہے، وہ گر چکا ہے اور وہ اب ایشو بیس سیاست کر رہا ہے، ایشو بیس سیاست بلبلے کی طرح ہوتی ہے، کچھ وقت کے لیے ہے پھر اس کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ آرمی چیف کے تقرر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بیان دے کر سیاسی بننے کی کوشش کر رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے ٹرانس جینڈر بل کی منظوری کی مخالفت سے متعلق سوال پر کہا کہ ایسے بل کی منظوری میں جے یو آئی (ف) کا کیا فائدہ ہے، جے یو آئی کی ضرورت تو نہیں ہے، ٹرانس جینڈر جے یو آئی کی ضرورت نہیں ہے یہ پی ٹی آئی کی ضرورت ہے۔

Related Articles

Back to top button