سپریم کورٹ کا عمران کی خاطر آئین سے کھلواڑ کیوں؟


معروف صحافی اورتجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ محترمہ فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف تک سب کے لیے ایک قانون ہو اور عمران خان کے لیے کوئی دوسرا قانون گھڑ لیا جائے۔ لیکن افسوس کہ ایسا ہو رہا ہے اوروہ بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے ہاتھوں جو آئین اور قانون سے کھلواڑ پر تلی ہوئی نظر آتی ہے۔ روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ کے حالیہ متنازعہ فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ لاوا جو بہت دنوں سے اندرہی اندر پک رہا تھا، بالآخر اُبل پڑا۔ یہ 12 جنوری 2018 کا واقعہ ہے، سپریم کورٹ آف انڈیا کے چار سینئر ججز نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ پر شدید تنقید کی گئی، مرکزی نقطہ ایک ہی تھا کہ جونیئر ججوں پر مشتمل، مرضی کے بینچ بنائے جاتے ہیں جو سیاسی نوعیت کے تمام اہم کیسز سنتے ہیں۔ چیف جسٹس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج چیل میسور ان چار باغی ججوں کی سربراہی کر رہے تھے، جن کا کہنا تھا کہ انہیں یہ انتہائی قدم اس لیے اٹھانا پڑا کہ عدلیہ کو جس طریقے سے چلایا جا رہا ہے اس سے ہندوستان کی جمہوریت کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ قوموں کی زندگی میں سانحے پلک جھپکتے نہیں ہو جاتے، دہائیاں لگ جاتی ہیں۔یہ فروری 2021کی بات ہے، پاکستان کی سپریم کورٹ کے چار معزز جج صاحبان یعنی اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مشیر عالم نے ایک حکم جاری کیا جس کے تحت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ کسی بھی ایسے بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے جو عمران خان سے متعلق کوئی کیس سن رہا ہو گا، ایسا اس لیے کیا گیا کہ کوئی عدالت پر جانب داری کا شبہ نہ کر سکے اور انصاف کا بول بالا ہو۔ یاد رہے کہ عمران نے عدالت سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا، معزز عدالت نے اپنے تئیں انصاف کے وسیع تر اصولوں کو مدِ نظر رکھ کر یہ مثالی فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ حماد کے بقول حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے کیس میں فل کورٹ بنانے کی درخواست کرنے والوں کے پیشِ نظر غالباً یہی اصول رہا ہو گا۔ ویسے بھی انصاف کا سب سے بڑا اصول بھی یہی کہتا ہے کہ جب کوئی سائل کسی جج پر اظہار عدم اعتماد کر دے تو اسے فوری طور پر بینچ سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔

بقول حماد غزنوی، بات نقطہ نظر کی نہیں ہے، حقائق کی ہے۔ ہماری سپریم کورٹ کے بہت سے ججز کے ناموں سے عوام یکسر ناواقف ہیں کیوں کہ وہ آج تک کسی اہم بینچ پر متمکن نظر نہیں آئے، کیا وجہ ہے؟ اصول کیا ہے، ان میں سنیارٹی کی کمی ہے، یا ان میں لیاقت نہیں ہے؟ یہ ضروری ہے کہ یہ اصول سب کو معلوم ہو تاکہ حاسدین بار بار ہمیں یہ طعنہ نہ دے سکیں کہ ’آپ کی عدلیہ دنیا میں 130 ویں نمبر پر بلا وجہ تو نہیں پھسل گئی‘۔ چند روز پہلے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس بندیال کو ایک خط لکھا ہے، جس میں جونیئر ججز کو سپریم کورٹ میں لانے کی کوشش پر تنقید کی گئی ہے، فائز عیسیٰ سمجھتے ہیں کہ کسی اصول کے بغیر جب تیسرے چوتھے نمبر کے ججز کو عدالتِ عظمیٰ میں لایا جاتا ہے تو پھر کل کو یہی جج آپ کو ہر اہم کیس سنتے نظر آتے ہیں۔ ان کے بقول یہی وہ شکنجہ ہے جس میں عدالتیں دہائیوں سے پھنسی ہوئی ہیں۔

حماد سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم سپریم کورٹ کے اگلے چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی بات کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسا جج جس نے اپنے ساتھیوں کے برعکس آج تک سرکار سے کوئی ’قانونی‘ پلاٹ بھی حاصل نہیں کیا۔ اعلیٰ عدلیہ کی کہانی اکثر دوست مولوی تمیزالدین سے شروع کرتے ہیں، پھر چار مارشل لاز سے گزرتے ہوئے، مقبول لیڈرز کی پھانسیوں، قتل، جلا وطنیوں، نااہلیوں اور غداریوں کے ضمن میں عدالتی فیصلوں کے تذکرے کرتے چلے جاتے ہیں، ایک ہی داستانِ شب، ایک ہی سلسلہ تو ہے۔ اس کہانی میں کوئی موڑ نہیں ہے۔ سو ہماری تاریخ میں بھی کوئی موڑ نہیں ہے، یہ ڈھلان کا سفر ہے، ہم گرتے چلے جا رہے ہیں، تیزی سے، اور تیزی سے۔

حماد غزنوی سوال کرتے ہیں کہ موجودہ آئینی و سیاسی بحران کا نقطہ آغاز کیا عمران خان کی حکومت کو ختم کرنا تھا؟ یا 2017 میں نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنا؟ یہ بحث جاری رہے گی۔ لیکن اس بارے تو کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ مرکزی اور پنجاب حکومت کی مشکیں چند عدالتی فیصلوں نے روزِ اول سے ہی کس دی تھیں، آئین کی دفعہ تریسٹھ اے کی ایک ایسی تشریح کی گئی جسے قانونی ماہرین نے از سرِ نو آئین سازی کے مترادف قرار دیا، یعنی منحرف اراکین اسمبلی کا ووٹ ہی نہیں گنا جائے گا۔ آئین کے اس حصے کے خالق دراصل رضا ربانی ہمارے درمیان موجود ہیں، کوئی ان سے ہی پوچھ لیتا کہ آئین لکھنے والوں کی کیا منشا تھی اور ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے، پھر اس کا اطلاق ماضی سے کیا گیا، جس سے حمزہ شہباز کی پنجاب حکومت مسلسل ڈولتی رہی، مرکزی حکومت کو تعیناتیوں سے روک دیا گیا، اور وزیرِ اعظم کو آئے دن عدالتوں میں گھسیٹا گیا، ملک بے یقینی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا، معیشت مزید تباہ ہوئی اور عدالتیں آئینی اور سیاسی بکھیڑوں کو ’سلجھانے‘ میں محو رہیں۔ حتیٰ کہ ہم یہاں آن پہنچے۔دیر تو بہت ہو چکی ہے مگر اب بھی نیت صاف کر لی جائے تو رستہ نکل سکتا ہے،

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ محترمہ فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف تک سب کے لیے ایک قانون ہو اور عمران خان کے لیے کوئی دوسرا قانون۔ آئین اور قانون سے پچھتر سالہ کھلواڑ کا انجام آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

صاحبانِ بصیرت قوم کو آسمان لال ہونے سے پہلے ہی آنے والے طوفان سے آگاہ کر دیتے ہیں۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ نے مشرقی پاکستان کے جس سانحے کی طرف اشارہ کیا تھا اسے 25 سال لگے تھے، حکیم محمد سعید مرحوم نے جس حادثے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا اسے بھی 25 سال ہونے والے ہیں۔ لہذا آگے آگے دیکھئے اب ہوتا ہے کیا۔

Related Articles

Back to top button