شرح سود میں 1.25 پوائنٹس کا اضافہ،15 فیصد ہوگئی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود 1.25 بیسز پوائنٹس بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ، جس کے بعد پاکستان میں شرح سود 15 فیصد ہوگئی ہے۔

قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود میں 1.25 فیصد اضافہ کرکے 15 فیصد کردیا گیا ہے، کوشش کریں گے کہ اس سے زیادہ نہ بڑھے، مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ، مہنگائی ایک سال تک زیادہ رہے گی ، شرح سود نہ بڑھاتے صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ تھا۔

انکا کہنا تھا کہ جس طرح گزشتہ سال عالمی وباء کورونا کا مقا بلہ کیا تھا بلکل ااسی طرح بفراط زر کا بھی مقابلہ ڈٹ کر کریں گے ، معاشی شرح نمو 6 فیصد تھی جس کا اثر مہنگائی پر آیا ، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں کو مانیٹری پالیسی سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، پچھلے دو سال میں معاشی ترقی میں تیزی سے اضافہ ہوا،کھانے پینے کی اشیا بہ مہنگی ہوگئی ہیں، پھر حکومت نے ابھی مشکل فیصلہ کیا ہے جو صحیح فیصلہ تھا کہ بجلی اور پیٹرول کی سبسڈی ختم کردی جائے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید کاکہنا تھا کہ اس کی وجہ سے عام آدمی پر بہت دباؤ آرہا ہے، اسٹیٹ بینک اور زری پالیسی کمیٹی اس چیز پر بہت زیادہ زور دے رہی ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرنا ہے کیونکہ یہ ہمارے عام آدمی کے لیے بہت مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ مہنگائی کنٹرول کرنا اب ہمارا سب سے اہم مقصد ہے تاکہ ہمارے عام آدمی کو ریلیف مل سکے، اور اس کےلیے ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی۔

قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی مہنگائی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ پوری دنیا میں مہنگائی کاطوفن برپا ہوا ہے ،1970 کے بعد مارکیٹ میں اتنی زیادہ مہنگائی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ۔ کووڈ کے بعد جب معشتیں بحال ہونے لگیں تو طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا اور شپنگ اور دیگر مد میں لاگت میں اضافہ ہونے لگا، یہ ساری مہنگائی عالمی وباء کورونا کی وجہ سے ہوئی اور دوسری اہم وجہ روس اور یوکرین کی جنگ ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ خیال تھا کہ قیمتیں بتدریج نیچے آنا شروع ہوں گی لیکن فروی میں روس یوکرین جنگ کے بعد اشیا کی چیزیں اور بھی اوپر چلی گئیں اور عالمی مسئلہ بھی ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button