شوکت ترین: سیاست کا ایک اور مکروہ کردار بے نقاب


حکومت دشمنی میں ملک دشمنی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے عمران خان کے قریبی ساتھی شوکت ترین کی جانب سے آئی ایم ایف اور پاکستان کی قرض ڈیل سبوتاژ کرنے کا منصوبہ تو ناکام ہوا ہی یے لیکن ملکی سیاست میں شوکت ترین جیسے مکروہ کردار کو بھی بے نقاب کر گیا ہے۔ ملکی تاریخ میں تین مرتبہ ناکام ترین وزیرخزانہ کا اعزاز حاصل کرنے والے شوکت ترین نے پاکستان کے خلاف سازش کرتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میری گھر میں کی گئی گفتگو کو ٹیپ کرنا اور پھر اس کے ذریعے ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کرنا مناسب نہیں ہے۔ اب کوئی اس بےشرم شخص سے پوچھے کہ کیا تم اگر گھر میں بیٹھ کر پاکستان کو برباد کرنے کی سازش کر رہے ہو تو تمہیں بے نقاب نہیں کرنا چاہئے۔یاد رہے کہ 29 اپریل کو میڈیا پر دو فون کالز کی آڈیو نشر کی گئی جن میں شوکت ترین کو محسن لغاری اور تیمور جھگڑا سے الگ الگ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تناظر میں وفاقی حکومت کو جواب دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
اس آڈیو میں بڑے منہ والے بد ذات شوکت ترین کو محسن لغاری سے یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپ نے آئی ایم ایف کو 750 ارب روپوں کی جو کی کمٹمنٹ دی ہے، اس سے پھرنے کا وقت آ گیا ہے۔ آپ نے آئی ایم ایف کو ایک خط لکھتے ہوئے یہ کہنا ہے کہ کہ ہم نے جو کمٹمنٹ دی تھی وہ سیلاب سے پہلے دی تھی لیکن سیلاب کی وجہ سے ہمیں بہت پیسا خرچ کرنا پڑے گا۔اس لیے اب ہم یہ کمٹمینٹ پوری نہیں کر پائیں گے، یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم سب چاہتے ہیں ان پر دباؤ پڑے، یہ ہمیں اندر کرا رہے ہیں اور ہم پر دہشتگردی کے الزامات لگا رہے ہیں، یہ بالکل ’سکاٹ فری‘ جا رہے ہیں یہ نہیں ہونے دینا ہے۔ دوران گفتگو وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری نے جب یہ سوال کیا کہ کیا اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہوگا تو ترین نے بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت ڈھٹائی سے کہا کہ یہ جس طرح عمران خان کو ٹریٹ کر رہے ہیں، اس سے کیا ریاست کو نقصان نہیں ہو رہا؟ یہ ہمیں مس ٹریٹ کر رہے ہیں اور ہم ان کی مدد کرتے جائیں یہ تو نہیں ہو سکتا۔
اس کے بعد ایک اور آڈیو بھی سامنے آگئی جس میں شوکت ترین خیبر پختونخواہ کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کو بھی وہی بات کرتے سنائی دیتے ہیں جو انہوں نے محسن لغاری سے کی، شوکت ترین خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ کو بتاتے ہیں کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں یہی فیصلہ ہوا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کو خط لازمی لکھنے ہیں تاکہ حکومت انتقامی کاروائیاں ختم کرے اور جلد الیکشن کا راستہ ہموار ہو سکے۔لیکن دوسری جانب بڑے منہ والے بے شرم ترین شوکت ترین نے اپنی گھٹیا حرکت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘سب سے پہلے تو میں اس آڈیو ٹیپنگ کی مذمت کرتا ہوں، میری گفتگو کو ٹیپ کرنا اور پھر اس کے ذریعے دیوار سے لگانے کی کوشش کرنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔
چول ترین سوکت ترین نے مزید بکواس کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو کلپس کے ذریعے ہم پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ ہم نے یہ خط ملک کے مفاد میں لکھے ہیں۔ بے غیرتی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ ہم نے اگلوں کو پیغام پہنچانا تھا کہ جو معاہدہ وہ کرنے جا رہے ہیں، اسکے لیے اس سیلابی صورت حال میں پیسے کہاں سے آئیں گے، لہٰذا ہم نے پیغام پہنچا دیا۔ تاہم شوکت ترین اور عمران خان کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ان کی مکروہ ترین سازش کے باوجود آئی ایم ایف نے سرسوں کے تیل میں بھیگے ہوئے چھتر اسی روز دونوں کے منہ پر دے مارے اور پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط جاری کرنے کا اعلان کر دیا۔
پنجاب کے وزیِرِ خزانہ محسن لغاری سے ہونے والی گفتگو بارے بات کرتے ہوئے بدذات ترین شوکت ترین کا کہنا تھا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کہا اور میری گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا۔ اس نے کہا کہ ‘پنجاب کی طرف سے تو خط نہیں گیا، کیونکہ ہم نے ان سے کہا تھا کہ وہ خط نہ بھیجیں، ورنہ ہم پنجاب کے ذریعے بھی خط بھجوا سکتے تھے۔ ہمارا مقصد صوبوں کی طرف سے وفاق کو پیغام پہنچانا تھا تاکہ وہ آئی ایم ایف سے دوبارہ شرائط طے کر سکیں اور یہ ہم نے خیبرپختونخوا کے ذریعے پہنچا دیا۔
تاہم یاد رہے کہ شوکت ترین کا یہ موقف جھوٹ اور بکواس پر مبنی ہے چونکہ پرویز الہٰی کی پنجاب حکومت نے عمران خان کے تمام تر دبائو کے باوجود آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے انکار کر دیا تھا، شوکت ترین کی طرح جنرل عمر کے بیٹے اسد عمر نے بھی بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی ایم ایف کو لکھے جانے والے خط کا دفاع کیا اور کہا کہ اس میں کچھ غلط نہیں تھا۔ دوسری جانب وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے خط لکھ کر ڈیل سبوتاژ کرنے کی کوشش کو گرے ہوئے لوگوں کی ایک ’گری ہوئی حرکت قرار دیا۔

Related Articles

Back to top button