صلح صفائی یا این آر او،PTIنےمصالحانہ رویہ کیوں اپنایا؟

اقتدار سے بے دخلی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی سخت مخالف سمجھی جانے والی پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے جی ایچ کیو کے لیے مصالحانہ پیغام ملک کے طول و عرض میں زیر بحث ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر نائب صدر شیر افضل خان مروت نے جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کا پیغام ہے کہ کارکنان ان عناصر سے دوری اختیار کریں، جو فوج اور پی ٹی آئی میں فاصلے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بیان کے بعد کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ پارٹی فوج سے صلح صفائی چاہتی ہے جبکہ نون لیگ کا دعویٰ ہے کہ عمران خان این آر او چاہتے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کہتی ہے کہ اس نے یہ بیان حب الوطنی کے جذبے کے تحت دیا ہے۔

واضح رہے کہ جب سے عمران خان اقتدار سے باہر ہوئے ہیں انہوں نے فوج کے خلاف ایک سخت نقطہ نظر اپنایا ہے۔ ماضی میں انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے سینیئر عہدے دار فیصل نصیر کو عوامی جلسوں میں ہدف تنقید بنایا جبکہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد بھی عمران خان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس کشیدہ صورتحال کو برقرار رکھتے ہوئے نئے آرمی چیف کو بھی ہدف تنقید بنایا۔

خیال رہے کہ عمران خان  کی جانب سے تازہ مصالحتی بیان ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب عمران خان کو مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔ تاہم اس بیان کی ٹائمنگ کے حوالے سے شیر افضل خان مروت کا کہنا تھا، ”ہمیں خدشہ تھا کہ کچھ عناصر عوام میں حب الوطنی کے جذبات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم فوج کے مخالف نہیں ہیں لیکن کچھ عناصر ہیں جو سابق اراکین اسمبلی کو اغوا کر رہے ہیں اور ان سے وفاداریاں تبدیل کرا رہے ہیں۔ ہم ان کے خلاف ہیں۔‘‘

پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان نے فوج کے حوالے سے سخت موقف اپنایا ہوا ہے اور اس میں لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ تاہم عمران خان کے ایک معتمد خاص فیصل شیرجان اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا، ”عمران خان نے یہ بات کھلے عام کہی تھی کہ وہ جنرل عاصم منیر سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن آرمی چیف خود اس طرح کی بات چیت کرنا نہیں چاہتے تھے۔ ہم اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہم صرف چند عناصر کے مخالف ہیں، فوج کے نہیں۔‘‘فیصل شیر جان کا کہنا تھا کہ پارٹی بالکل واضح موقف رکھتی ہے کہ اس ملک کے منتخب وزیراعظم کے پاس صرف کرسی اقتدار نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے پاس مکمل اختیار بھی ہونا چاہیے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ کچھ عناصر جی ایچ کیو اور عمران خان میں دوریاں پیدا کررہے ہیں۔ تاہم معروف صحافی و تجزیہ نگار غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خود اپنے رویے اور بیانات سے اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دوریاں پیدا کیں۔ ”تحریک عدم اعتماد سے لے کر نو مئی اور اس کے بعد بھی عمران خان کے بیانات جنرل باجوہ، جنرل عاصم منیر اور دوسرے افراد کے خلاف جاری رہے۔ ان بیانات کی وجہ سے ان کا اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں مثبت تاثر نہیں ہے۔‘‘

پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعتیں ہمیشہ سے عوام میں مقبول رہی ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کی ایک وجہ اس کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ ہے۔ تاہم غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے کارکنان ان پر اس حد تک اندھا اعتماد کرتے ہیں کہ وہ اس پالیسی کو بھی خان کی سیاسی دانشمندی قرار دیں گے۔ تجزیہ نگار حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ تحریک انصاف کی مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کی مقبولیت کی اصل وجہ خود عمران خان ہیں اور پھر عمران خان اس بیان کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کا بغل بچہ بننے نہیں جا رہے جیسے کہ اس وقت نواز شریف ہیں۔‘‘

حبیب اکرم کے مطابق عمران خان کا رویہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف ایک سیاسی نوعیت کا ہے۔ ”لہذا مجھے نہیں لگتا کہ اس سے پی ٹی آئی کا ووٹ بینک متاثر ہوگا۔‘‘

پاکستان میں ماضی میں جب بھی سیاست دانوں پہ برا وقت آیا، تو انہوں نے فوج سے صلح صفائی کرنے کی کوشش کی۔ مسلم لیگ نون کے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار احمد چیمہ کا کہنا ہے کہ عمران خان این آر او چاہتے ہیں۔ عمران خان پر کرپشن کے کیسز میں بہت وزن ہے اور نظر آ رہا ہے کہ انہیں طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑے گا۔ عمران خان مقدمات سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور فوج سے این آر او لینا چاہتے ہیں۔‘‘

تاہم فیصل شیر جان کا کہنا ہے کہ پارٹی کسی این آر او کے چکر میں نہیں ہے۔ ”ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت ہوگا کیونکہ پنجاب میں دو سو ستانوے ٹکٹ ہولڈرز، اراکین پنجاب اسمبلی اور رہنماؤں میں سے صرف ستر نے پارٹی چھوڑی ہے۔‘‘فیصل شیر جان کے مطابق یہی صورت حال کے پی میں بھی ہے۔ ”تو این آر او تو دور کی بات ہے۔ ہمارے خلاف تو سختیاں بڑھیں گی لیکن پارٹی ہر طرح کے حالات کے لیے تیارہیں۔‘‘

Related Articles

Back to top button