طالبان سے خوفزدہ سیاحوں کی وادی سوات میں واپسی


سیاحوں کی جنت کہلانے والی وادی سوات میں حالیہ ہفتوں میں پاکستانی طالبان کی واپسی کی اطلاعات سے خوف و ہراس کی جو فضا پیدا ہوئی تھی اس میں اب بہتری آنی شروع ہو گئی ہے اور چند ہفتوں کے تعطل کے بعد سیاحوں نے دوبارہ سے سوات کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر سوات اور مٹہ کی کچھ ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جن میں طالبان کی کارروائیاں دکھائی گئی تھیں جسکے بعد سے سیاحوں نے محتاط ہو کر سوات کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا۔

خیال رہے کہ وادی سوات کو پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے۔ سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں کا شمار پاکستان کے بہترین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔ ہر سال ملک بھر سے لوگ وادی سوات کا رخ کرتے ہیں جس سے وہاں کی مقامی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ خیبر پختونخوا ٹورزم کاپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2022 میں دو لاکھ گیارہ ہزار سیاحوں نے مالم جبہ کا رخ کیا تھا جس کے بعد کے چند ہفتوں میں طالبان کی واپسی کی خبروں کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی تھی۔ تاہم اب سوات اور مٹہ کے مختلف علاقوں میں پولیس اور فوج کی چیک پوسٹس قائم ہونے کے بعد عوام کا اعتماد کافی حد تک بحال ہوا ہے اور سیاحوں نے بھی دوبارہ وادی کا رُخ کر لیا ہے۔

اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک خاتون سیاح ڈاکٹر آسیہ نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ یہاں آئی ہیں لیکن ان کو کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر آسیہ نے کہا کہ ’یہاں آنے سے پہلے ہمیں بہت زیادہ خبریں مل رہی تھیں کہ یہاں پر دوبارہ طالبان آگئے ہیں۔ یہاں کا ماحول بالکل اچھا نہیں رہا۔ لاہور سے یہاں کا سفر دس گھنٹے کا ہے اور اگر ہم یہاں آئے تو ہمیں کوئی پریشانی ہو گی تو کیا فائدہ۔لیکن میں نے یہاں کا ماحول بالکل الٹ پایا، یہاں کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔ ویسی کوئی بات نہیں ہے جیسے سنا تھا۔ یہاں میں خود کو بہت محفوظ محسوس کر رہی ہوں۔‘ ایک اور سیاح ضیا شاہد نے سوات آنے کا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طالبان کی واپسی کے حوالے سے افواہیں سنی تھیں کے وہ دوبارہ آ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہاں آتے ہوئے راستے میں سات پولیس کی چوکیاں ملی ہیں جہاں پر ہر طرح کی چیکنگ کی جا رہی تھی۔ جس سے ہمیں مزید تسلی ہو گئی کہ یہاں سکیورٹی وغیرہ کی صورت حال کافی بہتر ہے۔ ایک رات پہلے بارہ بجے بھی ہم چائے پینے کے لیے باہر نکلے تھے۔ اس وقت بھی پولیس کی گاڑیاں گشت کر رہی تھیں۔ لہٰذا یہاں پر امن ہے اور مزید سیاح بھی یہاں آرہے ہیں۔

لاہور سے آئی ایک اور خاتون سیاح کوثر طارق نے بتایا کہ ہم یہاں پر ایسے ہی گھوم رہے ہیں جیسے لاہور میں گھومتے ہیں۔ سوات کا علاقہ ماضی میں تقریباً چار سال تک طالبان کے قبضے میں رہا اور یہاں پر دہشت گردی سے سیاحت کے شعبے کو خاصا نقصان پہنچا تھا۔ نہ صرف سیاح بلکہ ان کی آمد سے منسوب سوات کے ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبے بھی متاثر ہوئے تھے۔

حال ہی میں سوات کے علاقے میں طالبان کی موجودگی کی خبروں نے جہاں ایک طرف سوشل میڈیا کے ذریعے سیاحوں میں خوف و ہراس پھیلایا ہے، وہیں دوسری طرف ہوٹل مالکان کا بھی نقصان ہوا ہے۔ اس حوالے سے سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر زاہد خان نے بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق طالبان سوات میں موجود ہیں اور اس سے سیاحت پر منفی اثرات پڑ رہا ہے۔ سیاح سوات آنے کے اپنے پروگرام منسوخ کر رہے ہیں۔ لیکن میں ان سیاحوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ سوات مہمان نوازوں کا علاقہ ہے۔ سیاح گھبرائیں نہ اور سوات کا بے فکری سے رخ کریں۔

سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفس کے مطابق: اس وقت سوات میں کوئی طالبان موجود نہیں جبکہ سکیورٹی ٹیمیں سوات اور گردونواح کے علاقوں میں مسلسل گشت کرنے میں مصروف ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر سوات میں طالبان موجود نہیں تو پھر فوج اور پولیس کے دستے وہاں گشت کیوں کر رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button