عدالتی وزیراعلیٰ پرویز الٰہی سے صدر علوی نے حلف لے لیا

سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ رد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی کو نیا وزیراعلیٰ قرار دیے جانے کےبعد گزشتہ شب مسلم لیگ (ق) کے رہنما نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔

گزشتہ روز چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا جس کے سیاسی مبصرین، میڈیا اور کیس میں شامل تمام فریقین منتظر تھے۔

فیصلے میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب ہیں اور چیف سیکریٹری پرویز الہٰی کی وزیراعلیٰ تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ حمزہ شہباز کی بنائی گئی کابینہ تحلیل کردی گئی ہے اور پرویز الہیٰ رات ساڑھے گیارہ بجے حلف اٹھائیں۔

فیصلے میں ہدایت کی گئی کہ عدالتی فیصلے کی کاپی گورنر پنجاب کو ارسال کی جائے، گورنر اگر حلف لینے سے انکار کرے تو صدر مملکت حلف لیں۔

بعد ازاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے حلف لینے سے معذرت کے بعد چوہدری پرویز الہٰی، چودھری وجاہت حسین، موسیٰ الٰہی، میاں محمودالرشید، زین قریشی اور مراد راس کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے جہاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان صدر میں نامزد وزیراعلیٰ پرویز الٰہی سے حلف لیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ حمزہ شہباز کے لگائے گئے تمام مشیران، معاونین کو بھی فارغ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، کیس کی سماعت گزشتہ روز صبح 11:30 بجے شروع ہوئی تھی اور 2 وقفوں کے ساتھ رات 9:15 بجے تک جاری رہی۔

قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے مختصر فیصلہ سنائے جانے کے وقت درخواست گزار پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کو مبارکباد دینے کے لیے کمرہ عدالت نمبر ایک میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے حامیوں اور وکلا نے گھیر لیا۔

اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چوہدری سمیت پی ٹی آئی کے سینئر رہنما بھی مونس الہٰی کے ہمراہ تھے۔

فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کے جھنڈے تھامے پرجوش ہجوم سمیت احاطے میں موجود متعدد حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور نعرے لگائے۔

پولیس کی بھاری نفری کی جانب سے عدالت عظمیٰ کی عمارت کی جانب جانے والی سڑکوں کو بند کرنے کے باوجود حامیوں کی بڑی تعداد پنڈال تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی اور جو نہ پہنچ سکے انہوں نے راستے میں مختلف مقامات پر جشن منانا شروع کر دیا۔

واضح رہے کہ کیس کی سماعت میں پرویز الٰہی کی نمائندگی بیرسٹر سید علی ظفر، امتیاز رشید صدیقی اور فیصل فرید نے کی جبکہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے عرفان قادر، حمزہ شہباز کی جانب سے منصور عثمان اعوان پیش ہوئے، فاروق ایچ نائیک پیپلزپارٹی کی جانب سے اور صلاح الدین احمد چوہدری شجاعت کی جانب سے پیش ہوئے۔

Related Articles

Back to top button