عسکریت پسند ایران و پاکستان میں کیسے آپریٹ کرتے ہیں؟

پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے طویل عرصہ سے بدامنی کا شکار ہیں، ایرانی صوبے سیستان اور پاکستانی صوبے بلوچستان میں کافی عرصہ سے شورش برپا ہے۔ماضی میں دونوں ممالک اپنے اپنے ملک میں ہونے والی تخریبی کارروائیوں کے بعد ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے اور ایک دوسرے کے سفارتی عملے کی طلبی جیسے اقدامات کرنے پر انحصار کرتے رہے لیکن ایسا پہلی بار ہوا کہ دونوں ممالک کی سیکیورٹی فورسز نے ایک دوسرے کی علاقائی حدود میں حملے کیے ہیں۔ایران کی جانب سے منگل کی شب جیش العدل نامی شدت پسند تنظیم کے پنجگور میں مبینہ ٹھکانوں پر حملہ کیا گیا جبکہ اس کے 36 گھنٹوں کے اندر پاکستان کی جانب سے ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں کاروائی کی گئی۔پاکستان کی جانب سے یہ کارروائی ایران میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کی گئی تاہم دونوں کالعدم تنظیموں نے ایران میں اپنے ٹھکانوں کی موجودگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران میں پاکستان نے عام بلوچوں کو نشانہ بنایا۔پاکستان اور ایران کے درمیان اس وقت جو سرحد ہے اس کا تعین برطانوی دورِ حکومت میں کیا گیا تھا، 1871 میں اس علاقے میں سرحد کا تعین ایک انگریز افسر گولڈ سمتھ کی سربراہی میں کیا گیا جس کے باعث قیامِ پاکستان سے قبل یہ سرحد ’گولڈ سمتھ لائن‘ کے نام سے مشہور تھی۔قیامِ پاکستان کے بعد ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی حدود میں تھوڑی تبدیلی کی گئی جس کے باعث گولڈ سمتھ لائن کے متعدد حصے ایران کی حدود میں چلے گئے جن میں میرجاوہ کا علاقہ بھی شامل تھا۔ پاکستان اور ایران کی سرحدوں کے دونوں جانب بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد 900 کلو میٹر سے بھی زیادہ طویل ہے جس پر پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے پانچ اضلاع واقع ہیں۔ ان اضلاع میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور ساحلی ضلع گوادر شامل ہیں، ایران میں سیستان و بلوچستان کا ہیڈکوارٹر زاہدان ہے جبکہ اس کے دیگر معروف علاقوں میں سراوان اور چاہ بہار شامل ہیں۔سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں حالات کی خرابی کے بعد سے بلوچستان میں کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کی کاروائیوں کے مراکز بلوچستان کے وسطی اور مشرقی علاقے تھے لیکن 2010 کے بعد جنوب میں مکران ڈویژن میں ان تنظیموں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔تاہم سرکاری حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سی پیک سے بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔سابق صدر پرویز مشرف اس حوالے سے تین قوم پرست رہنماؤں نواب خیربخش مری، نواب اکبر بگٹی اور سردار عطااللہ مینگل کا نام لے کر اُن کو مورد الزام ٹھہراتے تھے۔سینیئر تجزیہ نگار انور ساجدی مکران ڈویژن میں عسکریت پسند تنظیموں کی مضبوطی کی ایک وجہ بلوچوں کی قیادت میں تبدیلی کو قرار دیتے ہیں جو قبائلی سرداروں سے عام پڑھے لکھے نوجوانوں میں منتقل ہوئی۔اس کے علاوہ جنوری 2023 میں ضلع پنجگور کے علاقے چوگاب، ضلع کیچ میں اپریل 2023 اور جون 2023 کے دوران سنگوان میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ حملے ایرانی حدود سے کیے گئے۔ان حملوں کی ذمہ داریاں تسلسل کے ساتھ کالعدم بی ایل ایف اور بی ایل اے کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔تقریباً 20 سال قبل ایران میں شدت پسندی کی کارروائیوں کی ذمہ داری جنداللہ نامی تنظیم کی جانب سے قبول کی جاتی تھی۔ایران کی جانب سے ماضی میں یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی بلوچ بلوچستان میں مقیم تھے اور ایران حکام کی جانب سے ان کی حوالگی کا مطالبہ ہوتا تھا۔بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ میرسرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ماضی میں نہ صرف سفارتی سطح پر ایرانی حدود سے پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کی کارروائیوں پر ایران سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا جاتا رہا ہے بلکہ ایرانی حکام سے ان کے وہاں ٹھکانوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔سابق نگراں وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے پاس تنظیموں کی ایران میں موجودگی کے حوالے سے شواہد موجود ہیں جس کے مطابق بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ ایک حملے میں زخمی ہوئے اور ان کا علاج ایران میں ہوا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر اس کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو اس سے یہ لگتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی لڑائی اب بلوچستان بھی پہنچ گئی ہے جہاں تک سب سے زیادہ نقصان کی بات ہے تو وہ تو سرحد کے دونوں اطراف آباد بلوچوں کا ہوگا۔

Related Articles

Back to top button