عمران اب بھی جی ایچ کیو سے اشارے کے انتظار میں

اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے سابق وزیراعظم عمران خان اپنے زخموں کو سہلاتے ہوئے رحم طلب نظروں سے مسلسل جی ایچ کیو کی جانب دیکھ رہے ہیں، صورتحال یہ ہے کہ اگر انہیں راولپنڈی سے کوئی ہلکا سا اشارہ بھی ملے تو خان صاحب زخمی ٹانگ سمیت راولپنڈی کے لیے رخت سفر باندھ لیں گے، وجہ یہ ہے کہ ان کا فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف کسی اصول یا نظریے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی ذات کی خاطر ہے چنانچہ اگر انہیں دوبارہ قبولیت مل جائے تو وہ اپنی بوٹ چاٹ سیاست کی جانب لوٹ جائیں گے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عمران خان کو ’’شہنشاہِ بیانیہ‘‘ کہاجاتا ہے، لیکن یہ جانے بغیر کہ بیانیہ کیا ہوتا ہے؟ اِس کے اَجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ یہ کس طرح تشکیل پاتا ہے؟ اِس میں تجربے، تدبّر، حکمت اور دانش کا کس قدر رچائو ہوتا ہے؟ ’’بیانیہ‘‘ بڑا توانا تشخّص رکھتا ہے۔ ہماری تاریخ میں اِس کی سب سے بڑی نظیر ’’دوقومی نظریہ‘‘ ہے جس کا پرچم قائدِاعظم محمد علی جناح نے اٹھایا۔

جداگانہ قومیت کی علامت اِس بیانیے نے مسلمانانِ ہند کے دلوں کو ایک ولولہِ تازہ دیا اور اپنی قوت کے بَل پر خطے کی تاریخ ہی نہیں جغرافیہ بھی بدل ڈالا۔ لیکن افسوس کہ ہمہ پہلو زوال کے اِن بے مہر موسموں میں جُز وقتی مفاد کے لئے سطحی اور بے معنی سے سیاسی بیانات کو بھی ’’بیانیہ‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اِسی معیار پر پرکھتے ہوئے عمران خان عصرحاضر کے سب سے بڑے ’’بیانیہ تراش‘‘ سمجھے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے اسٹیبلشمنٹ مخالف اِنقلابی کے طور پر اُن کا ’’بیانیہ‘‘ اُبھارا، اُچھالا اور اُجالا جارہا ہے حالانکہ موصوف خود فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آئے تھے اور اب بھی جھگڑا اقتدار کا ہی ہے۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اصولوں کی سیاست، نیا پاکستان، تبدیلی، بے لاگ احتساب، کرپشن کا خاتمہ، قانون کی بالادستی، انصاف کی کارفرمائی، خودی کی سربلندی، میرٹ کی پاسداری، مانگنے کی بجائے خودکشی، ریاستِ مدینہ، امربالمعروف، جدی پشتی سیاستدانوں سے دوری، لوٹوں کی نفی، کسی دبائو کے بغیر حکمرانی، سائیکل پر سفر، وزیراعظم ہائوس کی کالونی کے ایک گھر میں دفتر، صرف دوملازمین ، وزیراعظم ہائوس کا یونیورسٹی بننا، گورنر ہائوسز جیسی سامراجی نشانیوں کا خاتمہ، کروڑوں ملازمتیں، لاکھوں گھر، اَن گنت ڈیم اور جانے کیاکیا کچھ ’’بیانیوں‘‘ کے اس خس وخاشاک کا حصہ ہے۔ خان صاھب گزشتہ 9 ماہ سے اسٹیبلشمنٹ جسے میں نے ’تیسرا‘ کانام دیا ہے، پر تیر برسا رہے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ تائثر دینا چاہتے ہیں کہ میں سول بالا دستی، آئین کی عمل داری اور جمہوریت کی پاسداری کا علم بردار ہوں۔ میں اُن عناصر کے سخت خلاف ہوں جو آئینی حدود سے تجاوز کرتے اور سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث ہوتے ہیں۔

خان صاحب کے خطبات سے قطعِ نظر، عشروں پر محیط اُن کا کردار اور پسِ چلمن سے جھانکتی کہانیاں، اُن کے نام نہاد ’بیانیے‘ کی نفی کرتی ہیں۔ 1999کا مارشل لا اُن کے فلسفہِ سیاست کی پہلی آزمائش تھی، وہ آئین، عوام اور جمہوریت کی بجائے فوجی آمر مشرف کا دست وبازو بن گئے، موصوف تب تک دربارِ آمریت میں جھُومر ڈالتے رہے جب تک خود آمر نے منہ نہیں پھر لیا۔ اس کے بعد آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور اُن کے جانشین اَبرکرم بن کر خان کی کِشتِ ویراں پر برستے رہے۔

عرفان صدیقی یاد دلاتے ہیں کہ ہر آنے والا جرنیل اُن کی بلائیں لیتا رہا۔ اَب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ اُن کے دھرنوں اور جلسوں کو کس نے رونق بخشی؟ کروڑوں کا خرچہ کس نے اٹھایا؟ میڈیا کی مُشکیں کس نے کسیں؟ ججوں کو کس نے دھمکایا اور لُبھایا؟ پانامہ سے اقامہ کس نے کشید کیا ؟ انتخابی امیدوار کس نے چُنے ؟ ٹِکٹیں کس نے بانٹیں؟ ’آرٹی ایس‘ کی گردن کِس نے دبوچی؟ بے مہار بھیڑ بکریوں کے گَلّے کون ہانک کر پی۔ٹی۔آئی کے باڑے میں لایا؟ اور کون چار برس تک، خان کے، نَک چڑھی دُلہن جیسے ناز نخرے اٹھاتا رہا؟ عمران خان کے دل ودماغ میں دہکتا آتش فشاں اُس دِن پھٹا، جس دن تحریک عدم اعتماد نے انگڑائی لی اور اُنہیں اقتدار سے۔محروم ہونا پڑا۔ گِلہ یہ ہے کہ برس ہا برس سے اُن کے سر پر دستِ شفقت رکھنے والے ’تیسرے‘ نے اُنہیں تنہا کیوں چھوڑ دیا۔ اُن کا تحفظ اُسی والہانہ پن کے ساتھ کیوں نہ کیا جس کا مظاہرہ 2011 کے لاہوری جلسے سے ہوتا چلا آرہا تھا۔ جس کے تابندہ نمونے خان صاحب کے سفرِ سیاست کے ہر موڑ پر نصب تھے۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ خود خان صاحب کے دِل میں جرنیلی عشق کی یہ کیفیت تھی کہ 2019 میں نئے آرمی چیف کی تقرری کا وقت آیا تو وہ جنرل باجوہ کی دہلیز پر ڈھیر ہوگئے اور تین سال کی توسیع دے کر ’’سول بالادستی‘‘ کا بھرم رکھ لیا۔ لیکن جب 2022 میں انکے اقتدار کی نائو ہچکولے کھانے لگی تو جنرل باجوہ کو دہائی دی، ’’جتنی چاہو توسیع لے لو ، بس میری حکومت بچالو۔‘‘ باجوہ اپنے چھ سالہ دستورالعمل پر چلتے رہنے کا عہد کرتے ہوئے خان صاحب کی سرپرستی جاری رکھتے تو آج بھی موصوف کی حکومت ہوتی اور جنرل باجوہ چیف آف آرمی اسٹاف کے منصب جلیلہ پر فائز ہوتے۔ لیکن پاکستانی عوام کی خوش قسمتی کہ ایسا نہ ہوا۔ وہ جنرل عاصم منیر کا راستہ روکنے کے لئے انگاروں پر لوٹتے رہے۔

زخمی ہونے کے باوجود ایک لشکرِجرار کی توقع لئے اسلام آباد کی طرف لپکے لیکن عوام نے ساتھ نہ دیا اور انہیں اپنے عزائم میں شکست ہوگئی۔ اَب وہ اپنے زخموں کو سہلاتے ہوئے رحم طلب نگاہوں سے ایک بار پھر راولپنڈی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آج بھی انہیں جی ایچ کیو کی جانب سے کوئی ہلکا سا اشارہ بھی کرے تو خان صاحب، زخمی ٹانگ کے باوجود، راولپنڈی کے لئے رختِ سفر باندھ لیں گے اور اُن کے لبوں پر وہی وسیع وعریض مسکراہٹ رقصاں ہوگی جو 28 اگست 2014 کی شب، جنرل راحیل شریف کے بلاوے پر راولپنڈی روانہ ہوتے ہوئے اُن کے چہرے پر کھِل اٹھی تھی۔ وجہ یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اُن کی خفگی، کسی اصول، نظریے یا سیاسی مَسلک کی وجہ سے نہیں، بلکہ ’’یک جان دوقالب‘‘ کا رشتہ ٹوٹ جانے کے سبب ہے۔ اُن کا دُکھ اصولی نہیں، بلکہ خانہ بدر کردی جانے والی اُس خاتون جیسا ہے جو گلی گلی سیاپا کرتی ہے کہ ’’چلو مجھے تو نکالا مگر میری سوکن کو کیوں لا بسایا‘‘۔

Related Articles

Back to top button