عمران پرحملہ ،مرضی کی FIRکیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

تحریک انصاف نے چیئرمین عمران خان قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر مرضی کے مطابق درج نہ ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پی ٹی آئی نےنے ایف آئی آر میں خواہش کے مطابق تین نامزد افراد کے خلاف مقدمہ اندراج کیلیے تمام صوبوں کی سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیر کو سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کریں، اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی وکلاء ٹیم کے ہمراہ سپریم کورٹ جائیں گے۔

باخبر ذرائع کے مطابق رٹ پٹیشن تمام صوبوں میں موجود سپریم کورٹ رجسڑیوں میں بھی جمع کروائی جائیں گے، ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے ایم این اے کو متعلقہ صوبے کی سپریم کورٹ کورٹ رجسٹری پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے،اراکین قومی اسمبلی صبح دس بجے لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں قائم سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ کر درخواست دائر کریں گے اور ایف آئی آر میں تین لوگوں کے نام درج کرنے کی استدعا کریں گے،پارٹی کی جانب سے ارکان قومی اسمبلی کو سپریم کورٹ اور رجسڑیوں میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ اور پنجاب حکومت کے ترجمان مسرت جمشید چیمہ نے تصدیق کی کہ تحریک انصاف کے تمام اراکین اسمبلی پیر کو سپریم کورٹ رجسٹریز میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر کیلئے درخواست دائر کریں گے۔ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی اور سینئر قیادت صبح 10 بجے لاہور رجسٹری میں پیش ہو گی۔

مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر پر قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر درج کروانے کیلئے سپریم کورٹ سے استدعا کریں گے اور درخواست کے ذریعے معزز عدلیہ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے گی۔ مسرت جمشید کا کہنا تھا کہ ‏ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی ملک کے سابق وزیر اعظم پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی، ‏اس وقت عوام کا قانون اور اداروں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ چئیرمین پر قاتلانہ حملہ کی شفاف تحقیقات ہوں، ارشد شریف کی شہادت اور اعظم سواتی کے خلاف ہونے والے ٹارچر اور سائفر کی تحقیقات کی جائیں۔

Related Articles

Back to top button