عمران حکومت کو دھمکی دینے والا امریکی ڈونلڈ لو کون ہے؟


وزیراعظم عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اب اس امریکی اہلکار کا نام بتا دیا ہے جس نے مبینہ طور پر دھمکی دی تھی، یہ اور بات کہ دھمکی موصول کرنے والے سابق پاکستانی سفیر اسد مجید خان اسی اہلکار کے ساتھ 16 مارچ تک پیار کی پینگیں بڑھاتے رہے حالانکہ وہ وزیراعظم کو 7 مارچ کے خط میں اس اہلکار کی دھمکی پہنچا چکے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکی اہلکار ڈونلڈ لو 1992 سے 1994 کے دوران پشاور میں امریکی قونصل خانے میں پولیٹیکل افسر کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں اور اردو زبان بھی جانتے ہیں۔
عمران خان کے بقول ان کی حکومت کے خلاف مبینہ امریکی سازش کا اندازہ انہیں مارچ 2022 کے اوائل میں واشنگٹن میں امریکی اور پاکستانی سفارت کاروں کے درمیان ایک ملاقات سے ہوا۔ یہ بھی واضح ہے کہ اس ملاقات کی بنیاد پر جو سفارتی کیبل امریکہ سے بھیجی گئی وہ پاکستان کے سفیر اسد مجید نے تحریر کی تھی جن کے ساتھ شاہ محمود قریشی اور عمران خان کے اچھے تعلقات ہیں۔ یاد رہے کہ اسد مجید خان امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے اور اب ان کی جگہ مسعود احمد خان نے لے لی ہے۔ عمران خان نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی سے وزیراعظم ہاؤس میں اتوار کو ملاقات میں انہیں تفصیل سے اس مکتوب کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات پاکستان کے سفیر اسد مجید کی امریکہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ڈونلڈ لو سے ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں دونوں جانب سے گفتگو نوٹ کرنے والے اہلکار بھی موجود تھے جنہوں نے بعد میں اس گفتگو سے اسلام آباد کو آگاہ کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ ’دھمکیاں دینے والے‘ اور عمران حکومت کے خلاف ’سازش‘ کرنے والے اہلکار کون ہیں؟
انڈپینڈنٹ اردو کی تحقیق کے مطابق ڈونلڈ لو 1992 سے 1994 کے دوران پشاور میں امریکی قونصل خانے میں پولیٹیکل افسر کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں اور اردو زبان بھی جانتے ہیں۔ وہ جنوبی ایشیائی امور کے سینیئر سفارت کار مانے جاتے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ڈونلڈ لو 15 ستمبر 2021 کو جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ بنے۔ اس اسائنمنٹ سے قبل، وہ 2018 سے 2021 تک کرغز جمہوریہ میں اور 18-2015 تک البانیہ میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں۔ البانیہ میں اپنی پوسٹنگ سے پہلے، اسسٹنٹ سیکریٹری لو نے مغربی افریقہ میں ایبولا کے بحران پر محکمہ خارجہ میں ایبولا ریسپانس کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ ڈونلڈ لو ایک فارن سروس آفیسر ہیں جنہوں نے 30 سال سے زیادہ امریکی حکومت کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے بھارت میں ڈپٹی چیف آف مشن، چارج ڈی افیئرز اور آذربائیجان اور کرغزستان میں بھی خدمات انجام دیں۔ اپنے کیریئر کے آغاز میں انہیں دفتر برائے وسطی ایشیائی، بیورو آف یورپین افیئرز میں ڈپٹی ڈائریکٹر سیکرٹری آف اسٹیٹ، نئی دہلی میں پولیٹیکل آفیسر، نئی دہلی میں سفیر کے معاون خصوصی، جارجیا میں قونصلر افسر کے علاوہ پشاور میں پولیٹیکل افسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ وہ سیرا لیون، مغربی افریقہ میں امن کور کے رضاکار کے طور پر کام کرچکے ہیں۔
اسسٹنٹ سیکرٹری لو کا تعلق کیلیفورنیا کے ہنٹنگٹن بیچ سے ہے۔ انہوں نے پرنسٹن سکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز، پرنسٹن یونیورسٹی سے گریجویشن اور پھر پبلک افیئرز میں ماسٹرز کیا۔ وہ البانی، روسی، جارجیائی، آذربائیجانی، اردو، ہندی اور مغربی افریقی زبان کریو بول سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق انہیں بائیک چلانا، فلمیں دیکھنا، سفر کرنا اور اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا پسند ہے۔ جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کا بیورو، اسسٹنٹ سیکرٹری ڈونلڈ لو کی قیادت میں امریکہ کی خارجہ پالیسی اور افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، قازقستان، کرغزستان، مالدیپ، نیپال، پاکستان، سری لنکا اور تاجکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو دیکھتا ہے۔
انہوں نے پاکستانی سفیر کے ساتھ ملاقات میں کیا باتیں کیں، اس کی تفصیل تو میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں لیکن وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی پر اپنی ناپسندیدگی اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ذکر کیا تھا۔ عمران خان اسمبلی کی تحلیل اور عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کی اپنی حکمت عملی میں اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے خلاف یہ سازش بیرون ملک امریکہ میں تیار کی گئی۔ وہ اس سلسلے میں امریکی حکام کے مسلم لیگ ن کی لندن اور پاکستان میں قیادت سے ملاقاتوں کے بھی اشارے دے چکے ہیں۔البتہ امریکی حکومت نے کسی سازش میں شریک ہونے سے انکار کیا ہے۔
ڈونلڈ لو پاکستان حکام کے لیے کوئی نیا نام نہیں ہیں۔ وہ اکثر پاکستانی حکام سے تعاون اور دیگر امور پر ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ وہ تحریک انصاف حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین سے بھی گذشتہ دنوں ملے اور پاکستان کے واشنگٹن میں سفارت خانے کی جانب سے 16 مارچ کو خواتین سے متعلق ایک ورچوئل اجلاس میں اہم مقرر بھی تھے۔
انہوں نے اپنے کلیدی خطاب میں ملالہ یوسف زئی اور دیگر پاکستانی ممتاز خواتین رہنماؤں کے تعاون پر روشنی ڈالی۔ سفیر لو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے کیے گئے مختلف اقدامات اور امریکہ پاکستان خواتین کونسل کے قیمتی تعاون یعنی پاکستان اور امریکہ دونوں میں خواتین کو معاشی بااختیار بنانے کے لیے نجی شعبے، سول سوسائٹی اور حکومتی رہنماؤں کے وعدوں کو عملی جامع پہنانے کے لیے کام کرنے والی سرکاری اور نجی شراکت داری پر بھی روشنی ڈالی تھی۔ عمران خان کے کہنے پر گذشتہ ہفتے بلائی گئی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بظاہر ڈونلڈ لو کی باتوں پر غور ہوا لیکن اجلاس کے بعد جاری بیان میں بھی ان کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ اس سول و ملٹری قیادت کے اجلاس نے ان کی باتوں کو سفارتی آداب کے منافی اور تشویش ناک قرار دیا تھا۔
اب عمران خان نے انہیں پاکستان کا سب سے بڑا ولن بنا کر پیش کیا ہے۔ تاہم سابق پاکستانی سفیر عبدالباسط نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واضح نہیں کہ انہوں نے اس ملاقات میں یہ گفتگو ذاتی حیثیت میں کی یا حکومت کی نمائندگی کے طور پر۔ ’سفارت کار اکثر غلطیاں بھی کرتے ہیں۔‘ دوسری امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید بھی اپنی مدت مکمل کرکے واپس اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور وہ اب نئی تعیناتی کا انتظار کر رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button