عمران خان احمقوں کی منڈی کے اکیلے آڑھتی کیوں بننا چاہتے ہیں؟

سینئر صحافی شکیل انجم نے کہا ہے کہ عمران خان ایک بارپھر اسی لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ کررہے ہیں جس کے تحت اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے باہمی معاونت سے وقت کے وزیر اعظم کو منظر سے ہٹا کر ان کے لئے میدان ہموار کیا تھا اور انہی قوتوں کے سہارے کپتان نے اقتدار بھی حاصل کیا. تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ احمقوں کی منڈی ہو جس میں صرف عمران خان اکیلا آڑھتی ہو اور اپنی مرضی کی قیمتوں پر مرضی کی سوداگری کرے. اپنے ایک کالم میں شکیل انجم لکھتے ہیں کہ لیول پلیئنگ فیلڈ 2018 سے بہتر چاہئے جس میں بلا بھی عمران خان کا ہو ،گیند بھی عمران خان کی، پچ بھی مرضی کی اور امپائر بھی گھر کے ہوں جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہو اور انگلی مستقل کھڑی رہے۔یہ اس پارٹی کے بانی کا مطالبہ ہے جس نے اپنے اعمال و اطوار سے ثابت کیا کہ نہ وہ سیاسی ہے اور نہ ہی وہ جمہوریت پر ایمان رکھتے ہیں۔ امن پسندی قبول نہ ہی انصاف پر یقین۔نہ مذہبی اقدار سے شناسائی اور نہ تہذیب و احترام کی اہمیت اور نہ بات کی تمیز اور نہ انداز بیان سے آگاہی . عدلیہ کی بعض ذی اثر شخصیات کے ذریعے عمران خان کو عارضی اقتدار ملا جسے غیر فطری ہونے کی وجہ سے مستقل دوام نصیب نہیں ہوا۔لیکن جب اسٹیبلشمنٹ کو اپنے ان احسانات کا بدلہ ملا جو قوم و ملک کی منشاء کے خلاف کئے گئے تھے اور اسٹیبلشمنٹ بھی اس وقت "شر” سے محفوظ نہیں رہ سکی جب وہ خود عمران کے نشانے پر آگئے۔لیکن تب تک پانی سر سے گزر چکا تھا اور ماضی کی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس کا کوئی موثر توڑ نہیں تھا۔ شکیل انجم کا کہنا ہے کہتاریخ گواہ ہے کہ غیر فطری طریقوں سے حاصل کئے گئے اقتدار کو دوام نہیں ملتا اسی نظام قدرت کے تحت عمران خان مدت حکمرانی مکمل نہیں کر سکے اور حکومتی نظام معیشت کو تباہی کے دہانے پر چھوڑ کر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی نذر ہو گیا. حکومتوں کی معاشی مدوجزر پر نظر رکھنے والے ناقدین کا خیال ہے کہ اگر عمران خان مدت حکمرانی مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو ملک ہر شعبہ میں دیوالیہ ہو جاتا، عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں سی پیک منصوبے کے خاتمے کے لیے کام کیا . قومی ائر لاینز پر صرف یہ جھوٹا بیان دے کر کہ پی آئی اے کا کوئی پائلٹ مستند نہیں اور ان کی تعلیمی ڈگریاں جعلی ہیں، عالمی سطح پر پابندیاں لگوا دیں . اس جھوٹ اور پاکستان دشمن بیانیہ کی کسی سطح پر تردید بھی نہیں کی گئی۔ عمران خان جاتے ہوئے قوم کو توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کے علاوہ نئی نسل کی گمراہی، بدتمیزی، غیر مہذب طرز زندگی، گالی کی سیاست اور بے سلیقہ انداز گفتگو کے "گرانقدر” تحائف عطا کر گئے ۔ شکیل انجم کہتے ہیں کہ عمران خان اب نہ جانے کیسے لیول پلیئنگ فیلڈ مانگ رہے ہیں جبکہ خود انہوں نے نواز شریف کے ہاتھ پیچھے باندھ کر انہیں کھیل کا ناہموار گراؤنڈ فراہم کیا۔عمران خان جو خود کے لئے مناسب سمجھتے ہیں اپنے مخالفین کے لئے بھی وہی منتخب کریں لیکن اپنے لئے جیل میں فائیو سٹار ہوٹل کی سہولتیں حاصل کرنے والا ، اپنے دور اقتدار میں اپنے مخالف سیاسی قیدی کے سیل سے شدید گرمی میں بھی پنکھے اور کولر کی سہولت واپس لینے والا عمران خان اپنے لئے کیونکر آٹھ کمروں کا سوئٹ حاصل کر لیتا ہے. عمران نے جیل میں دیسی گھی، دیسی مرغی، مٹن، فائیو سٹار بریک فاسٹ اور بلا تردد مرضی کی ملاقاتوں کی سہولتیں حق سمجھ کر حاصل کیں لیکن اس سے کہیں کم سہولتیں اپنے مخالف سیاستدانوں کے لئے غلط کیوں رہیں۔ خود کو تمام پابندیوں سےمبرا اور اعلیٰ و ارفاء سمجھنا اور اپنے مخالف کو حقیر جاننا بھی رعونت اور تکبر کے زمرے میں آتے ہیں۔ صرف گمراہوں کو مزید گمراہ کرنے اور غفلت کے مارے لوگوں کو اپنے سحر میں مبتلا رکھنے کے لئے لغو بیانئے، تصوراتی اور طلسماتی "اقوال زریں” پیش کر کے انہیں قابو میں رکھنے کی جادوگری جاری ہے جس کے پس پشت کسی نہ کسی طرح اقتدار کی کرسی تک پہنچنا اور "اپنے نصب العین” کی تکمیل کے لئے نئی جدوجہد کا آغاز کرنا ہے۔لیکن اس ناقابل فراموش حقیقت کو فراموش کر کے 9 مئی کی باغیانہ وارداتوں سمیت داغدار ماضی کے ساتھ آگے بڑھنا اب صرف مشکل نہیں ناممکن ہو چکا ہے شکیل انجم کا کہنا ہے کہ عمران خان نے تخریبی طرز سیاست اور باغیانہ سوچ کی صورت میں تمام اقدار کو پیروں تلے روند کر دشمن ممالک کا وہ ایجنڈہ پورا کر دیا جس کا انتظار پاکستان مخالف قوتیں مدتوں سے کر رہی تھیں۔ لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری اور ترجیحات میں شامل ہونا چاہئیے اس کے لئے بلیک میلنگ یا دہشتگردی اور شرانگیزی کا راستہ اختیار کرنا درست نہیں۔اس طفلانہ خواہش کے طلبگار کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ انہوں نے 9 مئی کو دہشتگردی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ کیوں جی-ایچ-کیو کے علاوہ فوجی تنصیبات پر حملے کر کے اعلان بغاوت کیا؟؟ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے ملک کی حفاظت کے اہلکار نہیں!

Related Articles

Back to top button