عمران خان سوشل ورکر کی بجائے جیل کا قیدی کیوں بن گیا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی نے کہا ھے کہ ہمارے لوگ اقتدار کی نہ صرف تگ و دو میں رہتے ہیں بلکہ اس کی خاطر ہر چیز قربان کردیتے ہیں ۔عمران خان اگر صرف سوشل ورکر رہتے اور شوکت خانم جیسے ہسپتال یا یونیورسٹیاں بناتے تو ملک بھر کے لوگ ان سے محبت کرتے ۔ مجھ سمیت کوئی بھی ان سے اختلاف نہ کرتا اور ان پر محبتیں نچھاور کرتا لیکن انہیں سیاست اور اقتدار کی کشش اپنی طرف کھینچ لائی چنانچہ وزیراعظم ہائوس سے ہوتے ہوئے آج جیل میں ہیں۔

اپنے ایک کالم میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ بات سورج کی طرح ظاہر ہے کہ روزِجزا ان لوگوں کا حساب عام آدمی کےنسبت کئی گنا زیادہ سخت ہوگا جو اس دنیا میں اقتدار کی کسی پوزیشن پر فائز رہے ہیں۔ اس کے باوجود اقتدار کے پیچھے ہمارے سیاستدان تو کیا غیر سیاسی لوگ بھی مرے جارہے ہیں۔ ان دنوں الیکشن کا مرحلہ ہے اور جہاں بڑے لیڈر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بننے کیلئے دن رات ایک کئے ھوئےہیں، وہاں نچلی سطح کے لیڈر ایم این اے اور ایم پی اے بننے کیلئےہر حد پار کررہے ہیں۔ حالانکہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اس تالاب سے بہت کم لوگ عریاں ہوئے بغیر نکلتے ہیں۔ دور مت جائیے ۔ ماضی قریب میں دیکھ لیجئے ۔ صدام حسین کے لہجے میں کیا تمکنت تھی۔ وہ تنہا عراق کے سیاہ و سفید کے مالک تھے ۔ ان سے معمولی اختلاف کرنے والا زندہ نہیں رہ سکتا تھا ۔ وہ اس اقتدار کی طوالت کیلئے لمبے عرصے تک امریکیوں کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا لیکن پھر وہ وقت آیا کہ انہی امریکیوں کے ہاتھوں بے سروسامانی میں پھانسی چڑھ گیا۔ کرنل قذافی ہمارے سامنے ایک اور مثال ہے ۔ لیبیا کے مطلق العنان حکمران تھے اور ہمارے بعض دینی لیڈر بھی انکے خزانے سے استفادے کیلئے وقتاً فوقتاً حاضری لگایا کرتے تھے ۔ اپنی حفاظت پر سینکڑوں مردو خواتین کو مامور کررکھا تھا۔ ملک کے اندر اپنے خلاف کوئی اختلافی آواز نہیں چھوڑی لیکن بالآخر وہ بھی امریکیوں کے ہاتھوں اقتدار سے محروم اور پھر انہی کے ہاتھوں مارے گئے ۔ اپنے پڑوس میں افغانستان کو دیکھ لیجئے ۔ ڈاکٹراشرف غنی امریکیوں کی حمایت سے اقتدار میں آئے تھے ۔ اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے وہ آخری حدوں تک گئے لیکن طالبان کے ہاتھوں انہیں ملک سے فرار ہونا پڑا اور امریکیوں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی

سلیم صافی لکھتے ہیں کہ پاکستان کو دیکھ لیں ،میاں نواز شریف ایک نہیں بلکہ دو بار فوج کے ہاتھوں اقتدار سے محروم کیےگئے ۔ بھائی ، بھتیجوں اور بیٹی سمیت قیدوبند اور جلاوطنی کی صعوبتیں کاٹیں لیکن پھر بھی سیاست سےباز نہیں آرہے ہیں ۔اندراگاندھی انڈیا کی ایک طاقتور وزیراعظم تھیں لیکن انہیں انکے ایک سکھ سیکورٹی گارڈ نے موت کی نیند سلا دیا ۔ ان کے بیٹے راجیو گاندھی کو ایک تامل نے مار ڈالا جبکہ ایک اور بیٹا سنجے گاندھی جسے انہوں نے اپنی جانشینی کیلئے تیار کیا تھا ، طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوا ۔ یونان کےسکندر اعظم کی مثال لے لیجئے ۔ اس نے دنیا کے بیشتر حصے کو فتح کیا ۔ مصر کا شہر سکندریہ آج بھی اسکے نام سے منسوب ہے لیکن وہ بابل کی ایک جھونپڑی میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں مر گیا ۔ اس کا اکلوتا بیٹا اس کی زندگی میں قتل کیا جاچکا تھا جبکہ اس کی موت کے بعد اسکی سلطنت اسکے تین جرنیلوں میں تقسیم ہوگئی۔زندگی کے آخری وقت میں فتوحات کیلئے مشہور سکندر اعظم نے کہا کہ افسوس میں دنیا کو فتح کر نا چاہتا تھا لیکن موت نے مجھے فتح کر لیا اور افسوس کہ مجھے زندگی میں وہ سکون بھی نہ مل سکا جو ایک عام آدمی کو میسر ہوتا ہے ۔بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاالرحمان نے بڑی مشقتوں کے ساتھ وزیراعظم کا مقام حاصل کیا لیکن ایک فوجی افسر میجر جنرل منظور نے یہ سوچ کر انہیں قتل کر وادیا کہ انکی جگہ وہ ملک کے چیف ایگزیکٹیو کی منزل حاصل کر لے ۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ نپولین بوناپارٹ بنیادی طور پر فوجی تھا اس نے پہلے فرانس کے اقتدار پر قبضہ کرلیاپھر دوسرے ممالک میں دراندازی شروع کی اور ایک وقت ایسا آیا کہ پورے یورپ پر قابض ہوگیا ۔پہلے فرانس کی ایک حسینہ سے شادی کی اور پھر اس سے علیحدگی اختیار کرکے آسٹریا کے بادشاہ کی بیٹی کو بیوی بنا لیا لیکن اس سب کچھ کے باوجود نپولین بوناپارٹ زندگی کے آخری ایام میں کہا کرتا تھا کہ مایوسی میرے نزدیک جرم تھی مگر آج مجھ سے زیادہ مایوس انسان کوئی اور نہیں۔میں حکومت اور محبت کا بھوکا تھا۔ حکومت مجھے ملی لیکن ساتھ نہیں نبھایا جبکہ بے تحاشا تلاش کے باوجود محبت مجھے مل ہی نہ سکی ۔ اللہ کی اصل نعمت خوشی، سکون اور قناعت ہے لیکن سیاست اور اقتدار ان سب کو چھین لیتا ہے ان دنوں الیکشن کا میدان گرم ہے ۔ ہر کسی نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نہیں بننا ۔ صرف ایک وزیراعظم اور چار وزرا اعلیٰ بنیں گے لیکن ہر سیاستدان دوڑ میں ہے ۔ ہر اصول کو قربان کر رہا ہے ۔خونی رشتے تک قربان کررہا ہے ۔ دینی اقدار قربان کررہا ہے، خوشامد اور چاپلوسی کررہا ہے، پانی کی طرح پیسہ بہارہا ہے، حالانکہ خوشی اور سکون اقتدار میں نہیں اور کوئی سکندر اعظم بن جائے تو بھی اسے زندگی کے آخری اوقات میں یہ کہنا پڑے گا کہ میں دنیا کو فتح کرنا چاہ رہا تھا لیکن افسوس کہ موت نے مجھے فتح کرلیا اور افسوس کہ مجھے وہ سکون بھی نہ مل سکا جو ایک عام آدمی کو میسر ہوتا ہے۔

Related Articles

Back to top button