عمران خان عملاً الیکشن کی دوڑ سے باہر کیسے ہوئے؟

عام انتخابات میں عمران خان کے حصہ لینے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عملاً عمران خان الیکشن کی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں۔ یوں تین حلقوں میں ان کے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی بے کار کی مشق ثابت ہونے جارہی ہے۔ روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان کے آئندہ عام انتخابات میں مائنس ہونے کے حوالے سے حقائق پی ٹی آئی کے وکلا بھی جانتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے ووٹرز اور عمران خان کو کھو کھلی تسلیاں دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ عمران خان نے میانوالی ، لاہور اور اسلام آباد کے حلقوں سے الیکشن لڑنے کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرارکھے ہیں۔ حالانکہ تو شہ خانہ فوجداری کیس میں وہ پانچ برس کے لئے نااہل ہیں۔ یہ کاغذات نامزدگی اس امید پر جمع کرائے گئے تھے کہ پارٹی وکلا توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سنائی جانے والی سزا کا فیصلہ معطل کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وکلا کی کوشش تھی کہ کسی طرح تیس دسمبر سے پہلے عدالت سے یہ ریلیف حاصل کر لیں۔ کیونکہ 30 دسمبر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی آخری تاریخ ہے۔ جو ختم ہو چکی ہے۔ڈیڈ لائن اختتام پذیرہونے کے ساتھ ہی الیکشن لڑنے سے متعلق عمران خان کی امیدوں کا چراغ بھی گل ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ تو شہ خانہ فوجداری کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تھی لیکن مکمل فیصلہ معطل نہیں کیا تھا۔ اس لئے ان کی پانچ سالہ نا اہلی اب تک برقرار ہے۔ عمران خان کے الیکشن لڑنے کے لئے ضروری تھا کہ عدالت تیس دسمبر سے پہلے تو شہ خانہ فوجداری کیس کا فیصلہ معطل کر دیتی لیکن ایسانہ ہو سکا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس ان کوششوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے، جس میں انہوں نے کہا کہ ” ہم نے قانون دیکھنا ہے۔ اپیل زیر التوا ہو تو سزا معطل کرنے کی مثال نہیں ملتی۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر بھی دیں تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس سماعت کے موقع پر عمران خان کے وکیل شہباز کھوسہ یہ استدعا کرتے رہ گئے کہ بانی پی ٹی آئی کا کیس تیس دسمبر سے پہلے مقرر کیا جائے۔ تاہم سپریم کورٹ نے یہ استدعا مستر د کر دی۔ عمران خان کے الیکشن عمل سے باہر ہونے سے متعلق اس سارے معاملے کے قانونی پہلوؤں کو سمجھنے کے لئے توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے سے لے کر اب تک کی کارروائی کو سمجھنا ہوگا۔

واضح رہے کہ توشہ خانہ فوجداری کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پانچ اگست دو ہزار تئیس کو عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے اثاثہ جات اور اخراجات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو فارم بی میں غلط ڈیکلریشن فراہم کیا۔ عمران خان قومی زانے سے حاصل کردہ منافع بخش چیزوں کو اراد تا چھپاتے ہوئے کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب قرار پائے گئے ۔  ٹرائل
کورٹ سے تین برس قید کی سزا اور جرمانے کے بعد عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کرلیا گیا تھا اور وہ پانچ برس کے لئے نا اہل بھی ہو گئے۔ بعد ازاں عمران خان نے اس سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس پر ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کر دی تھی۔ تا ہم ٹرائل کورٹ کا مکمل فیصلہ معطل نہیں کیا گیا۔ یہی وہ قانونی نقطہ ہے، جو اب عمران خان کو الیکشن سے باہر کرنے کا سبب بنا ہے۔ کیونکہ صرف سزا معطل ہونے سے ان کی نا اہلی برقرار رہی۔ نا اہلی اس وقت ہی ختم ہو سکتی تھی، جب ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ کے مکمل فیصلے کو معطل کر دیتا۔ ادھر الیکشن نزدیک آتے جا رہے تھے۔ چنانچہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے عمران خان کے وکلا نے رواں برس اکتوبر کے اوائل میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی، جس میں استدعا کی گئی کہ تو شہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی صرف سزا معطل کی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ کا مکمل فیصلہ معطل کرنے کا حکم بھی دے۔ تاہم عمران خان کی یہ اپیل فوری طور پر سماعت کے لئے مقرر نہ ہوسکی۔ جب انتخابات کے لئے اعلان کر دہ آٹھ فروری مزید نزد یک آئی تو پی ٹی آئی کے وکلا کو احساس ہوا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپیل کا فیصلہ فوری ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ چنانچہ انہوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹادیا۔
تو شه خانه فوجداری کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرانے کے لئے عمران خان کے وکلا نے تئیس دسمبر کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس سلسلے میں دائر اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی سزا پہلے ہی معطل ہو چکی ہے، تا ہم ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا مکمل فیصلہ معطل نہیں کیا ہے۔ لہذا سپریم کورٹ یہ مکمل فیصلہ معطل کرنے کا حکم دے تا کہ عمران خان الیکشن لڑ سکیں۔ تاہم اس اپیل کی سماعت کے دوران ستائیس دسمبر کوسپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے یہ کہہ کر چپٹر ہی کلوز کردیا کہ ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ ایک کیس جس کی اپیل ہائیکورٹ میں زیر التوا ہو، سپریم کورٹ اس سزا کو معطل کر دے جبکہ دوران سماعت قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ہائیکورٹ کے دور کنی بینچ نے چونکہ فیصلہ سنایا ہے لہذا سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ہی اس معاملے کوسن سکتا ہے۔ تاہم چھٹیوں کی وجہ سے تین رکنی بینچ دستیاب نہیں۔ اب چھٹیوں کے بعد ہی اس کیس کو سنا جا سکتا ہے۔
چھٹیوں کے بعد کیس سننے کا مطلب ہے کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال سے متعلق تیس دسمبر کی آخری تاریخ گزر چکی ہوگی۔ قانونی ماہرین کے بقول چونکہ عمران خان کی نا اہلی تاحال برقرار ہے لہذا ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو جائیں گے۔ یوں بانی پی ٹی آئی عملا الیکشن کی دوڑ سے باہرہو جائیں گے۔

Related Articles

Back to top button