عمران خان نےتحریک انصاف عملاً وکلاء کے حوالے کیوں کی؟ 

سانحہ 9 مئی کے بعد عمرانڈوز کے زیر عتاب آنے اور یوتھیے  لیڈرز کے چوہوں کی طرح بلوں میں چھپ جانے اور وفا کے بلندوبانگ دعوے کرنے اور ہر طرح کی قربانی دینے کے دعویداروں کے نئے گھونسلوں میں پناہ لینے کے بعدحقیقی آزادی کے نام نہاد علمبردار عمران خان نے اپنی جماعت عملاً وکلاء کے حوالے کر دی ہےروزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ جیل میں قید پارٹی چیئرمین اپنی اہلیہ اور بہنوں کو بھی آگاہ کر چکے ہیں کہ فی الحال پارٹی کو پی ٹی آئی کے وکلا چلائیں گے۔ کیونکہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ وکلا پر حکومت کا ہاتھ ڈالنا مشکل ہے، ان کے پیچھے بارز کھڑی ہوتی ہیں۔

ذرائع کے بقول خاص طور پر ان حالات میں جب پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما گرفتار یا بھاگے ہوئے ہیں، جبکہ کور کمیٹی کے ایک دو ارکان کو چھوڑ کر باقی سب بھی انڈر گراؤنڈ ہیں۔ ایسے میں وکلا ہی ان کی پارٹی کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ کور کمیٹی کے خوف کا یہ عالم ہے کہ کسی کو نہیں بتایا جاتا کہ کمیٹی کا اجلاس کہاں ہوتا ہے، بس پریس ریلیز جاری کر دی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق کور کمیٹی کی کوئی باقاعدہ میٹنگ نہیں ہوتی۔ صرف واٹس ایپ پر مشاورت کر کے بیان جاری کر دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت عمر ایوب نے بطور مرکزی سیکریٹری جنرل، بظاہر پارٹی کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔ لیکن وہ بھی پولیس کو مطلوب ہیں۔ ان کے وارنٹ گرفتاری گزشتہ ماہ جاری ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کے موجودہ اندرونی معاملات سے آگاہ ایک ذریعے کے بقول ’’عمران خان نے وکلا کو اپنا فرنٹ لائن سولجر بنانے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ ان کے خیال میں حکومت وکلا پر ہاتھ نہیں ڈالے گی ، یوں ان کا بیانیہ اور پارٹی کا وجود برقرار رہے گا۔‘‘

دوسری جانب عمران خان کے اردگرد آج کل دکھائی دینے والے وکلا میں سے اکثر نے اپنی آنکھوں میں اقتدار اور بڑے عہدوں کے خواب سجا رکھے ہیں۔ اس وقت عمران خان، ان کی اہلیہ اور بہنوں کے مقدمات لڑنے والے وکلا کی ایک فوج ظفر موج ہے۔ ان میں حامد خان، سلمان صفدر، عمیر نیازی، نعیم پنچوتا، شیر افضل مروت، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، شیراز احمد رانجھا، آفتاب باجوہ، شعیب شاہین اور آفتاب باجوہ سمیت ایک طویل فہرست ہے۔ بیشتر نے آئندہ عام انتخابات اور سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹوں کی امید لگا رکھی ہے۔ ان میں ایک حامد خان واحد قانون دان ہیں جو پی ٹی آئی کے بانی رہنماؤں میں شامل ہیں جبکہ لطیف کھوسہ پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابی سیاست کرتے رہے ہیں، لیکن انہیں پارٹی قیادت کی طرف سے سائیڈ کر دیا گیا ہے تو اب ان کی امیدوں کا مرکز پی ٹی آئی بن چکی ہے۔ بابر اعوان بھی وکالت کے ساتھ سیاست کرتے رہے ہیں۔ تاہم وہ بھی پیپلز پارٹی اور دیگر کشتیوں کے سوار رہے ہیں اور اب فی الحال تحریک انصاف ہی ان کے بڑھاپے کا سہارا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے اردگرد نظر آنے والے باقی وکیلوں میں سے بیشتر کو عمران خان کی گرفتاری یا ان پر مقدمات درج ہونے سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔ اب ان میں سے اکثر پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف ٹی وی ٹاک شو یا پریس کانفرنسوں میں دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے عام انتخابات میں اپنی لاٹری کھلنے کی آس لگا رکھی ہے۔

جیل سے عمران خان کے زیادہ تر پیغامات بھی ان وکلا کے ذریعے ہی میڈیا تک پہنچ رہے ہیں۔ لیکن وفاقی دارالحکومت میں موجود بعض باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی اس حکمت عملی کوناکام بنانے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں بعض وکلا کی گرفتاریاں بھی عمل میں آسکتی ہیں۔ خاص طور پر ان وکلا کی جو جیل سے عمران خان کا جھوٹا بیانیہ پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

چند روز پہلے عمران خان سے جیل میں ملاقات کر کے آنے والے ان کے ایک وکیل آفتاب باجوہ نے یہ بے پر کی اڑا دی تھی کہ اڈیالہ جیل میں عمران کو زہر دیا جارہا ہے۔ اس پر ایک ہلچل مچ گئی تھی۔ تاہم اگلے دن ہی غالباً پیچ کسے جانے پر آفتاب باجوہ نے یو ٹرن لے لیا اور اس حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ’’عمران خان کو سلو پائزن دیئے جانے سے متعلق میرا بیان غلط تھا۔ دراصل عمران خان نے وکلاء سے ملاقات کے دوران 4 سے 5 مرتبہ سلو پوائزنگ کی بات کی اور مجھے سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ وہ (عمران خان) یہ کہہ رہے تھے کہ مجھے سلو پوائزنگ دی جا سکتی ہے اور اس کی کوشش بھی ہو رہی ہے۔ میں سمجھا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے سلو پوائزن دیا جارہا ہے۔ لہٰذا میں اپنے پہلے بیان کو درست کر رہا ہوں۔‘‘

پی ٹی آئی کے اسلام آباد سیکریٹریٹ میں موجود ایک بیزار ذمہ دار کے بقول عمران خان تقریباً ہر ملاقات میں اپنے وکلا اور اہل خانہ سے نہ صرف اس خوف کا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں سلوپوائزن دیا جاسکتا ہے۔ بلکہ وہ یہ اصرار بھی کرتے ہیں کہ باہر جاکر زیادہ سے زیادہ اس بات کو میڈیا میں پھیلایا جائے۔ اس بے زار ذمہ دار کے مطابق عمران خان ’’زہر فوبیا‘‘ کا شکار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے ایسی کچھ چیزوں کو ہوتے دیکھا ہو اور اب مکافات عمل کا خوف انہیں ستا رہا ہو۔ اپنی گرفتاری سے قبل خود عمران خان نے بھی اپنے ویڈیو خطابات میں متعدد بار اس خوف کا اظہار کیا تھا کہ اگر انہیں جیل میں ڈال دیا گیا تو زہر دے کر مار دیا جائے گا۔

اس کے بعد ان کے ماضی کے بھونپو شیخ رشید نے ایک سے زائد بار ان خدشات کا اظہار کیا تھا۔ جب عمران خان گرفتار ہو گئے اور انہیں اٹک جیل میں ڈالا گیا تو ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے باقاعدہ پنجاب حکومت کو خط لکھ کر اس خدشہ کا اظہار کیا تھا۔ پھر جب عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، تب بھی اس پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری رہا۔ لطیف کھوسہ سمیت عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے والے تقریباً ہر وکیل نے یہ بے سروپا مدعا اٹھایا۔ حتی کہ سائفرکیس کی سماعت کے دوران ایک بار خود عمران خان جج ا بوالحسنات ذوالقرنین کے سامنے گھگھیا نے لگے کہ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا لانے کی اجازت دی جائے۔ کیونکہ انہیں جیل میں دیے جانے والے کھانے میں زہر ملائے جانے کا خدشہ ہے۔حالانکہ اس معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو کھانا دینے سے پہلے کئی سیکورٹی چیک ہیں۔ کوئی گڑبڑ اس لئے بھی ممکن نہیں کہ ایک مقبول سیاسی رہنما کو زہر دے کر مارنا ریاست افورڈ نہیں کرسکتی۔ لیکن زہر کے خوف کا بھوت عمران خان کے ذہن سے اترنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button