عمران خان نے دوبارہ اسٹیبلشمنٹ کوغدارقراردے دیا

تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیراعظم عمران خان نے دوبارہ اسٹیبلشمنٹ کوغدارقراردیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم ان ’غداروں‘ کو نہیں بھولے گی جنہوں نے یہ ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ ان پرمسلط کی اورلگایا۔

چکوال میں جلسے سے خطاب کے دوران عمران خان نے موجودہ حکمرانوں پرملکی معیشت کو تباہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ میں ان چوروں کو قبول نہیں کروں گا اورجب تک میں زندہ ہوں ان سے اوران کے پشت پناہی کرنے والوں سے مقابلہ کرتا رہوں گا،ان کے دور حکومت میں معیشت کے تمام شعبے ترقی کر رہے تھے اور اس وقت کی اپوزیشن نے ’’سازشیوں‘‘ کے ساتھ مل کران کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جس کے بعد ملک میں معاشی بحران نے جنم لیا۔
انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اوران کے اتھادیوں نے اپنے اجرتی میڈیا ہاؤسز کی مدد سے میری حکومت کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلائی کہ میرے دور میں ملکی معیشت ڈوب رہی ہے، اس سال کے آغاز میں جب سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں حکومت آئی ہے بجلی کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے زور دیا کہ لوگ مہنگائی میں پسے ہوئے ہیں، میرے دور میں ملک کی معیشت 17 برس میں بلند ترین شرح سے ترقی کی، موجودہ حکومت نے کسانوں کا معاشی قتل کیا، برآمدات گر رہی ہیں، صنعت بند ہو رہی ہے اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ’’غداروں‘‘ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چوروں کو عوام پر مسلط کرکے ملک کو ظلم کا نشانہ بنانے پر قوم اور اللہ آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ ان کی حکومت نے 16 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھوڑا لیکن ملکی آمدنی کو 63 ارب ڈالر تک بڑھا دیا۔

خطاب میں انہوں نے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے برعکس ان کی اسٹیبلشمنٹ کی نرسری میں پرورش نہیں ہوئی اور وہ 22 سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئے، کوئی بھی ملک میرٹ کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، آپ کا کوئی مستقبل نہیں جب کابینہ کے 60 فیصد ارکان ضمانت پر باہرہوں اورکرپٹ نوازشریف اورآصف زرداری قائد بن جائیں۔

عمران خان نے اپنے متنازع ریمارکس کو بھی دہرایا جس پر فوج اور اتحادی حکومت کی طرف سے تردید کی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف کا تقرر میرٹ پر ہونا چاہیے اور میرا یقین ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو میرٹ پر چلتی ہیں،آصف علی زرداری اور نواز شریف کو کبھی بھی اگلا آرمی چیف مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ وہ اپنے خاندان کے افراد سے بڑھ کر کوئی نہیں دیکھتے۔

انہوں نے کہا اگران کی پارٹی میں میرٹ ہوتا توآصف علی زرداری اوربلاول بھٹوزرداری اپنی پارٹی کے لیڈر نہ ہوتے، اسی طرح حمزہ وزیر اعلیٰ نہ بنتے اگر مسلم لیگ (ن) میرٹ پرعمل کرتی۔

عمران خان نے آرمی سے متعلق اپنے منتازع بیان کے تناظر میں کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر، آپ کو مجھے (آرمی چیف کی تقرری کے تبصروں) کے بارے میں درست سمجھنا چاہیے تھا۔

Related Articles

Back to top button