عمران خان کی نئی ATM، سردار تنویر الیاس خان


سردارعبدالقیوم نیازی کی جگہ آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم بننے والے سردار تنویر الیاس خان بنیادی طور پر ایک ارب پتی بزنس مین ہیں جو اسلام آباد کے سنٹورس ٹاور کے مالک بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ عمران خان نے کیا جس کا بنیادی مقصد تحریک انصاف کو درپیش فنڈنگ کے مسائل سے نبرد آزما ہونا ہے، خصوصا ًجب ان کی جماعت اقتدار سے باہر ہو چکی ہے اور فنڈنگ کے ذرائع محدود ہو گئے ہیں۔ یعنی جہانگیر ترین اور علیم خان کے بعد اب تنویر الیاس عمران خان کی اے ٹی ایم بنیں گے۔
18 اپریل کو آزاد کشمیر کی اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگاتے ہوئے قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا چنانچہ تنویر الیاس کے مقابلے میں کوئی امیدوار سامنے نہ آیا اور وہ بلامقابلہ وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں سردارعبدالقیوم نیازی کے خلاف ان کی اپنی جماعت اور کابینہ کے ارکان نے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی۔ یہ فیصلہ عمران خان نے کیا تھا لیکن سردار عبدالقیوم نیازی کا کہنا تھا کہ ’مجھے پتا چلا راتوں رات پیسہ تقسیم ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایک وزیر نے کہا کہ مجھے 20 لاکھ روپے آئے ہیں۔ اگر ایک کو 20 لاکھ ملے ہیں تو اندازہ کریں کہ اس کھیل میں کتنے پیسے لگے ہوں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ نئے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کون ہیں؟ وہ انتخابی سیاست میں بالکل نووارد ہیں۔ 2021 میں انہوں نے پہلی مرتبہ عملی سیاست میں قدم رکھا اور ایل اے 15 باغ ون سے کامیاب ہوئے۔ سردار تنویر الیاس کا شمار پاکستان کے بڑے سرمایہ داروں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے ہے۔ ان کا تمام تر کاروبار ریاست سے باہر ہے۔
تنویر الیاس سردار گروپ آف کمپنیز کے صدر ہیں۔ اسلام آباد میں ایک بڑے کاروباری مرکز دی سینٹورس اور ایک رہائشی سوسائٹی کے مالک بھی ہیں۔ مینوفیکچرنگ، آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر سمیت مختلف شعبہ جات میں اس گروپ کی 13 کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ اس گروپ نے دیگر کاروباروں سمیت اب میڈیا انڈسٹری کی طرف بھی پیش قدمی کی ہے۔ سردار میڈیا گروپ نے چار ٹی وی چینلز کے لائسنس حاصل کر رکھے ہیں جو گذشتہ سال 64 کروڑ روپے کی بولی لگا کر پیمرا سے خریدے گئے تھے۔ ان میں نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز، انٹرٹینمنٹ، ریجنل لینگویجز اور سپورٹس شامل ہیں، جبکہ سردار میڈیا گروپ کے پاس ایف ایم ریڈیو کے چار لائسنس بھی موجود ہیں اور ایشین نیوز کے نام سے اخبار کے ملک کے پانچ بڑے شہروں سے اجرا کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جاری ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والی زیبا حسین بتاتی ہیں کہ کشمیر کی سیاست کی راہداریوں میں ایک موڑ ایسا بھی آیا جب اچانک ہر طرف ایک نام گونجنے لگا، بیشتر لوگوں کے لئے یہ نام بالکل اجنبی تھا اور یہ نام تھا سردار تنویر الیاس۔ سردار تنویر کی سیاست میں آمد بالکل ایسے ہی ہے جیسے بالی ووڈ کی فلموں اور ڈراموں میں اچانک سے کوئی پراسرار کردار وارد ہو کر کہانی کا رخ یکسر بدل کر رکھ دیتا ہے، ایسے میں کہانی یا تو بہت دلچسپ ہو جاتی ہے یا پھر اتنی فضول کے ناظرین کو ناگواریت اور اکتاہٹ کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ابتداء میں عوامی رجحان اور اپنی سیاسی طاقت کا اندازہ لگانے کے لئے تنویر الیاس نے منقسم ریاست کے مختلف شہروں میں سیاسی جلسے بھی کیے جو کہ بالکل بھی متاثر کن نہیں تھے۔ ابتدائی ”وارم اپ میچز“ کے بعد تنویر الیاس کے ترجمان یہاں تک دعوے کرنے لگے کے آزاد کشمیر کے اگلے وزیراعظم تنویر الیاس ہوں گے۔ اس پر بہت ساروں کا ماتھا ٹھنکا کہ یہ تو جان نہ پہچان میں تیرا مہمان والی بات ہو گئی؟ تنویر الیاس کو مقامی سطح پر زیادہ لوگ نہیں جانتے، نہ وہ یہاں رہتے ہیں، نہ وہ یہاں کسی سیاسی جماعت کے سرگرم کارکن رہے، نہ وہ یہاں کوئی فلاحی ادارا ہ چلا رہے ہیں، نہ کبھی عالمی منظرنامے میں کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور حالات کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر سامنے آیا، وہ تو کشمیر کے اندر کبھی کسی حوالے سے بھی متحرک نظر نہیں آئے، پھر ایک ایسا شخص وزیراعظم کی دوڑ میں کیسے شامل ہو سکتا ہے؟
بقول زیبا حسین، اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ تنویر الیاس کے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے کہ جسے گھما کر وہ اچانک وزیر اعظم بن گئے۔ اسکا جواب یہ ہے کہ تنویر الیاس کے پاس بالکل جادو کی چھڑی موجود ہے جسکا نام ”دولت“ ہے۔ اب ساری دنیا میں یہی تو ہو رہا ہے کہ سیاست سرمایہ داروں کا کھیل بن کر رہ گئی ہے، ایک ایسا خطرناک کھیل جس میں عوام گھن کی طرح پس رہے ہیں۔ یہ سردار تنویر الیاس کی دولت ہے جس کی بنا پر وہ عمران کے قریب تر ہوتے گئے اور بالآخر آزاد کشمیر کے وزیراعظم بن گئے۔ تنویر الیاس کے سیاسی مخالفین شد و مد سے اس بات کا پرچار کرتے ہیں کہ وہ محض اپنے سرمائے کے بل بوتے پر وزیر اعظم آزاد کشمیر بن گیا ہے۔ یہ بات تو درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں سیلف میڈ سیاستدان یا لیڈر کتنے ہوں گے؟ بیشر تو سرمائے اور موروثیت کے بل بوتے پر ہی آتے ہیں اور اگر وہ بطور سرمایہ دار نہ بھی آئیں تو سیاست میں آنے کے بعد اچھے خاصے سرمایہ دار بن جاتے ہیں اور باقی کی زندگی عیش و عشرت میں گزارتے ہیں، یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا ہے۔

Related Articles

Back to top button