عمران نے کروڑوں کی نہیں بلکہ اربوں کی ہیرا پھیری کی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے توشہ خانہ سے کروڑوں کی نہیں بلکہ اربوں روپوں کے تحائف کی ہیرا پھیری کی جس سے نہ صرف سفارتی محاذ پر پاکستان کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس کا امیج بھی خراب ہوا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ عجیب ڈھٹائی ہے۔ عمران خان اور ان کے ترجمان کہتے ہیں کہ ان کے تحفے اور ان کی مرضی تھی اور بیچ دئیے تو کیا ہوا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عمران خان نہیں بلکہ وزیراعظم پاکستان کے تحفے تھے، ان کو توشہ خانہ میں جمع کرانے، آکشن کرنے یا اپنے پاس رکھنے کا ایک قانون بھی موجود ہے۔ اس قانون کی رو سے اگر وزیراعظم چاہے تو 50 فی صد ادائیگی کر کے کوئی بھی تحفہ اپنے پاس رکھ سکتا ہے لیکن وہ اسے فروخت نہیں کرسکتا۔ 18 دسمبر 2018 کو وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے ترمیمی قانون سے بھی واضح ہے کہ وہ توشہ خانہ سے حاصل کردہ تحفہ اپنے پاس تو رکھ سکتے ہیں لیکن آگے نہیں بیچ سکتے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میڈیا پر چرچا صرف محمد بن سلمان کی گھڑی کا ہے لیکن معاملہ گھڑی کا نہیں گھڑیوں کا ہے اور درجنوں رولیکس اور اسی نوع کی دیگر گھڑیاں وصول کرکے فروخت کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی قیمتی تحائف ہیں جنہیں غائب کر دیا گیا۔ ان کی کچھ تفصیل الیکشن کمیشن آف پاکستان کے توشہ خانہ کیس کے تفصیلی فیصلے میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس لئے وہ لوگ عمران خان کو رعایت دے رہے ہیں جو اس بحث کو صرف محمد بن سلمان کی گھڑی تک محدود کررہے ہیں۔

اخلاقی لحاظ سے جو سبکی اور رسوائی ہوئی میڈیا میں صرف اس کا تذکرہ ہورہا ہے لیکن اس عمل میں کئی جگہ قانون کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے اور اسی لئے الیکشن کمیشن نے عدالت میں کیس رجسٹرڈ کرنے کی حکومت کو ہدایت کی تھی۔ مثلا توشہ خانہ قوانین کی رو سے تحفے کی قیمت کا تخمینہ نہ صرف ایف بی آر کے متعلقہ سیکٹر کے ماہرین لگائیں گے بلکہ کیبنٹ ڈویژن بیرونی مارکیٹ سے ماہرین کے ذریعے بھی تخمینہ لگائے گی اور اگر دونوں کے تخمینے میں فرق پچیس فی صد سے زائد ہوا تو پھر کیبنٹ سیکرٹری فائنل فیصلہ کریں گے۔ جو تحائف عمران نے توشہ خانہ سے لئے ہیں وہ سینکڑوں میں ہیں، لیکن ان کیلئے اس قانون پر عمل درآمد اور پرائیویٹ اپریزرز سے تخمینہ لگانے کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شاید خان صاحب کے سٹاف نے خود ہی ان سب تحائف کی قیمت مقرر کر لی ہو اور پھر اپنی مرضی سے اپنی مرضی کے لوگوں کو فروخت کر دیے ہوں، حالانکہ قانون کی رو سے وہ صرف اپنے پاس رکھ سکتے تھے لیکن فروخت نہیں کرسکتے ۔

توشہ خانہ قانون کے سیکشن 6 کی شق (i) میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی تحفے کی ویلیو تیس ہزار سے کم ہوتو بغیر کسی قیمت کے وزیراعظم اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں لیکن یہاں بھی بہت سارے ایسے تحائف ہتھیا لئے گئے جن کی قیمت تیس ہزار سے زائد تھی لیکن اس کی ویلیو اس سے کم ظاہر کی گئی۔
صافی کے بقول، اسی قانون کی شق نمبر 7 میں کہا گیا کہ تحفہ پانے والا چار ماہ کے اندر اس کی طے شدہ قیمت ادا کرنے کے بعد ہی اسے اپنے پاس رکھنے کا مجاز ہو گا۔ قانون کے مطابق تحفہ حاصل کرنے والا وزیر اعظم پہلے طے شدہ رقم کا 50 فی صد قومی خزانے میں جمع کروائے گا اور پھر اسے اپنے پاس رکھ سکے گا۔ لیکن یہاں عمران نے تخمینے بھی اپنی مرضی کے لگوائے اور 50 فی صد کی بجائے پرانے قانون کے مطابق صرف 20 فی صد ادائیگی کی۔ اسکے علاوہ موصوف نے ان تحفوں کی ادائیگی اپنے ذاتی بینک اکائونٹس سے نہیں کی بلکہ دوسرے لوگوں سے کیش کی صورت میں کروائی۔ گویا ان تحفوں کی ادائیگی کسی اور نے کی اور فروخت سے آنے والی رقم کا ایک حصہ عمران کے اکائونٹ میں آیا۔ واضح رہے کہ عمران کے اکائونٹ میں ان تحائف کے فروخت سے ملنے والی رقم کا چھ حصوں میں سے صرف ایک حصہ آیا ہے۔ سلیم صافی کے بقول، زیادہ تر رقم دو مشہور خواتین، ایک معاون خصوصی، ایک سینیٹر کے بھائی اور ایک ڈیلر کے ہاں گئی ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ خلاصہ کلام یہ ہے کہ معاملہ ایک گھڑی کا نہیں بلکہ درجنوں گھڑیوں کا ہے۔ گھڑیوں کے علاوہ ایسے قیمتی تحائف بھی ہیں جن کی قیمت گھڑیوں سے بھی زیادہ ہے۔ یوں یہ معاملہ کروڑوں کا نہیں بلکہ اربوں کی ہیرا پھیری کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سفارتی محاذ پر اس سے پاکستان کی بڑی رسوائی ہوئی ۔جب محمد بن سلمان اور دیگر سربراہان حکومت نے اپنے دئیے گئے تحائف کو بازاروں میں بکتا دیکھا ہوگا تو ان کے ذہنوں میں پاکستان کا امیج کتنا خراب ہوا ہوگا۔؟ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کسی بھی حکمراں کو یہ تحائف اپنے پاس رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہئے۔

Related Articles

Back to top button