عمران نے 45 ماہ میں 49 ارب ڈالرز کا ریکارڈ قرض لیا


سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپنے 45 مہینے کے دور حکومت میں تقریباً 50 ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضہ لینے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
وزارت اقتصادی امور اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق سابق حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں یعنی جولائی تا مارچ میں تقریباً 15.4 ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضے لیے، جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران حاصل کیے گئے غیر ملکی قرضوں سے 70 فیصد زیادہ ہے۔
غیر ملکی اقتصادی امداد پر اپنی ماہانہ رپورٹ میں اقتصادی امور کی وزارت نے کہا کہ انہوں نے رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں یعنی جولائی تا مارچ میں تقریباً 12.77 ارب ڈالرز کی غیر ملکی امداد حاصل کی، جو گزشتہ سال اس کے مقابلے میں حاصل کیے گئے غیر ملکی قرضوں سے تقریباً 72 فیصد زیادہ ہے۔
وزارت اقتصادی امور کی غیر ملکی رقم کی آمد کے بارے میں ماہانہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ عمران حکومت نے پورے مالی سال کے لیے مقررہ غیرملکی امداد کے ہدف کے تقریباً 89 فیصد کو عبور کیا۔ کپتان حکومت نے اپنے آخری 9 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 15 ارب ڈالرز کے غیرملکی قرضے حاصل کیے اور یہ بھی ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نئے پاکستان سرٹیفکیٹس میں 1.6 ارب ڈالرز سے زیادہ کا غیر ملکی قرض شامل نہیں ہے کیونکہ اس کی اطلاع وزارت اقتصادی امور کے ذریعے نہیں دی گئی تھی، اس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے حاصل کردہ 1 ارب ڈالرز سے زیادہ کی رقم بھی شامل نہیں ہے جو فروری میں ملی تھی، یہ دونوں قرضے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے الگ الگ رپورٹ کیے ہیں۔
پی ٹی آئی کے 45 ماہ کے دور حکومت میں کل غیر ملکی قرضے 49.295 ارب ڈالرز تک پہنچے، اگر 45 ماہ میں 1.4 ارب ڈالرز کے ہنگامی قرضوں کے ساتھ ساتھ 3 ارب ڈالرز سے زائد کے آئی ایم ایف فنڈز کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے تو کل غیر ملکی قرضے 54.767 ارب ڈالرز تک پہنچ جاتے ہیں۔ وزارت اقتصادی امور کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کا حجم پچھلے ساڑھے تین سالوں میں بتدریج بڑھتا رہا ہے جہاں 19-2018 میں 10.59 ارب ڈالرز سے 20-2019 میں 10.662 ارب ڈالرز اور پھر 21-2020 میں 14.28 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا اور اس کے بعد پہلے کے ابتدائی 9 ماہ میں 12.77 ارب ڈالر رہا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے، زیادہ درآمدات اور پہلے کے قرضوں کی مالی اعانت کے سلسلے میں ضروری زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کا غیر ملکی قرضوں پر بہت زیادہ انحصار تھا۔ یہ یوں واضح ہوا کہ وفاقی بجٹ 22-2021 میں غیر ملکی قرضوں کے لیے سالانہ بجٹ کا ہدف 14.088 ارب ڈالرز مقرر کیا گیا تھا اور حکومت نے پہلے نو مہینوں میں 12.77 ارب ڈالرز کا قرضہ لیا، کپتان حکومت نے پورے 21-2020 میں کل 14.3 ارب ڈالرز کا قرضہ لیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی رقم کے چار بڑے ذرائع تھے جن میں کثیر جہتی قرض دہندگان کے 3.95 ارب ڈالر کے بعد سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹس، نجی بینکوں سے تقریباً 2.623 ارب ڈالر کے تجارتی قرضے اور 2.041 ارب ڈالر مالیت کے بین الاقوامی بانڈز شامل ہیں۔ سابقہ حکومت کو بجٹ سپورٹ کے لیے 8.88ارب ڈالر مالیت کی آمدن ملی جس میں 1.2ارب ڈالر کا مختصر مدتی کریڈٹ بھی شامل ہے۔ اس سے نو مہینوں میں کل غیر پیداواری امداد 12.16 ارب ڈالرز کے پورے سال کے ہدف کے مقابلے میں 10.114 ارب ڈالرز ہو گئی جس کا مطلب یہ ہے کہ کل قرضوں کا 80 فیصد سے زیادہ تیل کی درآمدات، بجٹ فنانسنگ اور زرمبادلہ کے لیے ریزرو پر حاصل کیا گیا۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان حکومت نے 3.5 ارب ڈالرز کے پورے سال کے بجٹ کے ہدف کے مقابلے میں بین الاقوامی بانڈز کے ذریعے 2.04 ارب ڈالرز حاصل کیے۔ اس کے علاوہ حکومت نے 4.87 ارب ڈالر کے پورے سال کے بجٹ کے ہدف کے مقابلے میں بین الاقوامی بینکوں سے تجارتی قرضوں کی مد میں 2.623 ارب ڈالرز بھی حاصل کیے، اس میں دبئی بینک کو سب سے من پسند فنانسر پایا گیا جس نے 2.6 ارب ڈالر میں سے 1.14 ارب ڈالرز سے زیادہ کے قلیل مدتی قرضے فراہم کیے تھے۔

Related Articles

Back to top button