عمران پر حملے کی تحقیقاتی ٹیم کا تیسرا سربراہ مقرر


سابق وزیراعظم عمران خان پر وزیرآباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی تفتیش میں رتی بھر پیش رفت نہیں ہو پائی جس کی بنیادی وجہ خود خان صاحب کی جانب سے بار بار حکومت پنجاب کی تشکیل کردہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ تبدیل کروانا ہے۔ قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی 5 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو 15 نومبر کو تیسری مرتبہ تبدیل کر دیا گیا اور پنجاب پولیس کے بدنام زمانہ اور وفاق کے باغی کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور غلام محمود ڈوگر کو جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔ جے آئی ٹی کے دیگر ارکان میں ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس افسر سید خرم علی، اے آئی جی مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان، سپرٹنڈنٹ آف پولیس پوٹھوہار ڈویژن راولپنڈی ملک طارق محبوب اور محکمہ انسداد دہشت گردی پنجاب کے ایس پی لاہور نصیب اللہ خان شامل ہیں۔
یاد رہے کہ 11 نومبر 2022 کو پنجاب حکومت نے عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔

اس جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی (اسٹیبلشمنٹ II ) اور سی پی او لاہور طارق رستم چوہان کر رہے تھے جبکہ اس کے 4 ارکان تھے جن میں ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس افسر سید خرم علی، اے آئی جی/مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان، انویسٹی گیشن برانچ وہاڑی کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر محمد ظفر بزدار اور سی ٹی ڈی لاہور کے ایس پی نصیب اللہ خان شامل تھے۔ بعد ازاں، 12 نومبر کو پنجاب حکومت نے عمران پر قاتلانہ حملے اور وزیر آباد پولیس کی جانب سے مقدمے میں مرضی کی ایف آئی آر کے اندراج کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی 5 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی 24 گھنٹے کے اندر ہی تشکیل نو کردی تھی۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے بنائی گئی دوسری جے آئی ٹی کے سربراہ ڈی آر پی او ڈیرہ غازی خان سید خرم علی تھے، دیگر ارکان میں ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ طارق رستم چوہان، اے آئی جی مانیٹرنگ انویسٹی گیشن برانچ کے احسان اللہ چوہان، ایس پی پوٹھوہار ڈویژن راولپنڈی ملک طارق محبوب اور ایس پی سی ٹی ڈی لاہور نصیب اللہ خان شامل تھے۔ واضح رہے کہ 3 نومبر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے سابق وزیر اعظم عمران خان اور سینیٹر فیصل جاوید سمیت متعدد رہنما زخمی اور ایک شہری جاں بحق ہوگیا تھا۔

یاد رہے کہ اب عمران خان کے اصرار پر چودھری پرویز الہی نے جس غلام محمد ڈوگر کو تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ بنایا ہے اسے وفاقی حکومت نے حال ہی میں معطل کر دی اس تھا۔ لیکن فیڈرل سروس ٹریبونل اسلام آباد نے ڈوگر کی معطلی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا اور انہیں عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس سے قبل لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے 2 سینیئر رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج ہونے کے فوراً بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے غلام محمود ڈوگر کی خدمات واپس لے لی تھیں۔

بعدازاں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایک انتباہ جاری کیا تھا اور غلام محمود ڈوگر کو تیسرے اور آخری خط میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی سابقہ ہدایات کی تعمیل نہ کرنے پر سخت سزا کی تنبیہ کی گئی تھی، اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے غلام محمود ڈوگر کو ملازمت سے معطل کر دیا تھا اور یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ان کے خلاف عہدے سے برطرفی کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ غلام محمود ڈوگر نے اپنے تبادلے اور معطلی کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفیکیشن میں قانونی اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی کی تھی، انہوں نے فیڈرل سروس ٹریبونل سے درخواست کی تھی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے سول سروس کے قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔

پنجاب حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بار بار تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ تبدیل کیے جانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان پولیس پر اعتماد ہی نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے قاتلانہ حملے کے مرکزی ملزم نوید احمد کو ابھی تک عدالت میں بھی پیش نہیں کیا جا سکا۔

Related Articles

Back to top button