عمران کا مشن معیشت کمزور کر کے خود کو مضبوط کرنا تھا


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار شاہزیب خانزادہ نے کہا ہے کہ عمران خان ملکی معیشت کی مضبوطی کو اپنی سیاست کی موت سمجھتے ہیں اور اسی لیے پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکیج ڈیل خراب کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے خزانہ کیساتھ شرمناک ٹیلیفونک گفتگو لیک ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران اور ان کی تحریک انصاف کی سوچ یہ ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام آ گیا تو ان کی سیاست کو زد پہنچے گی کیونکہ موجودہ حکومت مضبوط ہو جائے گی۔ اسی لئے وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے ملکی معیشت کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے یعنی عمران خان حکومت دشمنی میں پاکستان کا نقصان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
جیو نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ عمران خان نے اپنی حکومت جانے سے پہلے آئی ایم ایف کا پروگرام ڈی ریل کیا، انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے اپنی ہی حکومت کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے کمی کر دی اور پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچا دیا جس کے عوامی ردعمل کا سامنا موجودہ حکومت نے کیا، اس کے بعد عمران نے جاتے جاتے اپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام امریکا پر لگا کر مغرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی داؤ پر لگا دیئے، دوسری جانب ایجنسیوں اور فوجی ترجمان نے بار بار کہا کہ ان کی حکومت کے کوئی سازش نہیں ہوئی تھی، اور نہ ہی وہ اس حوالے سے کوئی ثبوت دے پائے لیکن اسکے باوجود عمران اپنے اس الزام کو مسلسل دہراتے رہتے ہیں تاکہ اپنا سیاسی فائدہ کر سکیں لیکن اس سے پاکستان کا عالمی سطح پر نقصان ہو رہا ہے۔
شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک جانب عمران امریکہ پر اپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگاتے ہیں تو دوسری جانب امریکی انتظامیہ سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کیلئے امریکی پی آر فرمز کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے دنوں عمران خان نے پاکستان میں امریکی سفیر کے ساتھ خفیہ گفتگو بھی کی تھی اور گلے شکوے بھی کر ڈالے تھے۔ یعنی وہ اپنی ذات کی حد تک تو امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں لیکن دوسری جانب وہ جھوٹے الزامات کی بارش سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تباہ کر رہے ہیں تاکہ موجودہ حکومت معاشی اور سیاسی طور پر کمزور ہو۔
شازیب خانزادہ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کیلئے بہت کچھ کرتی ہیں مگر جو کچھ عمران کر رہے ہیں وہ ہر حد کو پار کرنے کے مترادف ہے، ان کا کہنا تھا کہ عمران نے اقتدار سے رخصت ہوتے وقت آئی ایم ایف کے ساتھ کی گئی ڈیل توڑ کر ملک کی خارجہ اور معاشی پالیسی کو وہاں لا کھڑا کیا تھا کہ وہ ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہوچکا تھا۔ لیکن اب جب موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی تمام شرائط پر سمجھوتا کر کے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کے قریب پہنچی تو خان صاحب نے دوبارہ سے واردات ڈال دی۔
اللہ کا شکر ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ڈیل فائنل کر دی ہے اور تمام سازشیں ناکام ہوگئی ہیں، شاہزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف پر امریکہ کا کتنا زیادہ اثر و رسوخ ہے لیکن پھر بھی عمران خان نے بے جا الزامات لگا کر نہ صرف اپنی ساکھ خراب کی ہے بلکہ بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے، لیکن شاید وہ سیاست بھی جنگ سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنی جیت کی خاطر ہر حرکت کو جائز سمجھتے ہیں۔ شاہزیب نے کہا کہ شوکت ترین کو خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وزراء خزانہ کو وفاقی حکومت کے خلاف بھڑکانے کی بجائے عمران کو سمجھانا چاہئے تھا کہ اس موقع پر آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل خراب کرنے کی کوشش کا نقصان حکومت کو نہیں بلکہ ملک اور اس کے عوام کو ہوگا لیکن افسوس کہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان میں معاشی اور سیاسی استحکام آئے گا تو اس سے حکومت مضبوط ہوگی لہٰذا وہ حکومت دشمنی میں پاکستان کا نقصان کرنے سے بھی باز نہیں آتے، لیکن یہ اور بات ہے کہ پاکستان ایک بڑی سازش کا شکار ہونے سے بچ گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button