عمران کو اپنے ہوتے ہوئے کسی دشمن کی ضرورت کیوں نہیں؟

سینیئر صحافی اور میڈیا ٹائیکون محسن نقوی کی بطور نگران وزیر اعلی تقرری کے بعد عمران خان پر واضح ہو چکا ہے کہ انہیں 2018 کے الیکشن کی طرح نہ تو من مرضی کی نگران حکومتیں ملیں گی اور نہ ہی الیکشن جتوانے کے لیے ان کی خاطر سہولت کاری کی جائے گی۔ اب نہ تو ادارے ان کی خواہش کے مطابق فیصلے کریں گے اور نہ ہی وہ خود انہیں ڈکٹیشن دینے کی پوزیشن میں ہیں۔ ایسے میں عمران خان کو چاہیے تھا کہ محسن نقوی کی تعیناتی کو خاموشی سے قبول کر لیتے کیونکہ وہ جتنا بھی شور مچائیں گے، اپنا ہی نقصان کریں گے۔ خان صاحب کے بے بنیاد الزامات سے محسن نقوی کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ جتنا نقصان ہوگا چوہدری پرویز الٰہی اور عمران خان کا اہنا ہی ہوگا۔ انھیں اس بات کا اندازہ جلد ہو جائے گا۔ یہی سیاست ہے لیکن خان صاحب کو تب تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک ان نقصان نہ ہو جائے۔ اس کی تازہ مثال ان کی قومی اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ تھا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف صحافی مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ پنجاب اور کے پی میں نگران وزراء اعلیٰ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ کے پی میں تو کوئی خاص شور نہیں مچا لیکن پنجاب میں محسن نقوی کے نگران وزیر اعلیٰ بننے پر تحریک انصاف اور ق لیگ بہت شور مچا رہے ہیں۔ محسن نقوی کی تعیناتی کی سب سے زیادہ تکلیف عمران خان اور پرویز الہی کو ہوئی ہے۔ بہر حال آئین کے تحت اگر حکمران جماعت اور اپوزیشن کسی ایک نام پر متفق نہ ہوں تو الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تجویز کردہ ناموں میں سے کسی ایک کو نامزد کر دے۔ الیکشن کمیشن اپنی طرف سے کوئی نام شامل نہیں کر سکتا۔ اس لیے الیکشن کمیشن نے محسن نقوی کو نامزد کر دیا اور انھوں نے اپنے عہدہ کا حلف بھی اٹھا لیا۔ تاہم عمران خان نے اس تعیناتی کو مسترد کرتے ہوئے محسن نقوی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہی لیکن مجھے نہیں لگتا کہ عدالت اس معاملہ میں کچھ کر سکتی ہے۔ آئین میں صاف لکھا ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کا اختیار اور اس کا فیصلہ حتمی قرار دیا گیا ہے اور اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیا، کسی عدالت کو مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

مزمل سہر وردی کہتے ہیں کہ محسن نقوی پنجاب کے تیسرے صحافی نگران وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس سے پہلے نجم سیٹھی اور حسن عسکری بھی نگران وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں۔ محسن نقوی کا نام بھی اپوزیشن نے تجویز کیا تھا جب کہ حسن عسکری اور نجم سیٹھی کا نام بھی تب کی اپوزیشن نے ہی تجویز کیا تھا۔ اس لیے الیکشن کمیشن نے کوئی نیا اور انوکھا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ پنجاب میں اپوزیشن کی جانب سے تجویز کردہ صحافیوں کو پہلے بھی نگران وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔ اب بھی اپوزیشن کی جانب سے تجویز کردہ ایک صحافی کو ہی نگران وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔ حسن عسکری بھی نگران وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے روز ٹی وی پر بیٹھ کر تحریک انصاف کی حمایت کرتے تھے اور تحریک انصاف کے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ اسی لیے عمران خان نے انھیں نگران وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد کیا تھا کیونکہ وہ تحریک انصاف اور عمران کے لیے نرم گوشہ ہی نہیں بلکہ ان کی کھلی حمایت بھی کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں محسن نقوی تو روزانہ کسی ٹاک شو میں بیٹھ کر کسی سیاسی جماعت کی نہ تو حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کی زیر ادارت چلنے والے اداروں کی پالیسی پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ لیکن انھوں نے اپنے ذاتی خیالات کا کبھی کہیں اظہار نہیں کیا جب کہ اس سے پہلے نجم سیٹھی اور حسن عسکری تو کھلے عام اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ اس طرح ان دونوں کے مقابلے میں محسن نقوی کو کافی حد تک غیر جانبدار کہا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی عمران خان کے نزدیک صرف ان کے حامی کو ہی زندہ رہنے کا حق ہے۔ ان کے مخالفین کو ملک میں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جو صحافی ان کے ہمدرد ہیں وہ نیک ہیں جو ان کے مخالف ہیں وہ بد ہیں۔ وہ ایک خاص حکمت عملی کے تحت ملک میں یہ کلچر پروان چڑھا رہے ہیں اور ان کے حامی اب اس رنگ میں ڈھل گئے ہیں۔ وہ مخالف نظریہ سننے کی ہمت نہیں رکھتے اور ذاتی الزامات اور کردار کشی پر آجاتے ہیں۔ محسن نقوی کے ساتھ بھی یہی کیا جا رہا ہے۔

مزمل سہر وردی کہتے ہیں کہ میری رائے میں محسن نقوی کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ تحریک انصاف ایک خاص حکمت عملی کے تحت ہر چیز کو متنازعہ بنانے کی خاص صلاحیت رکھتی ہے۔ اپنی اس خاص صلاحیت کی وجہ سے وہ ہر ایک کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش رکھتے ہیں۔ آپ آرمی چیف کی تعیناتی کو ہی دیکھ لیں، انھوں نے آخری لمحہ تک اس کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی تا کہ وہ نئے آرمی چیف کو ایک خاص دباؤ میں رکھ سکیں۔ موصوف نے اداروں کے ذمے داران کے نام رکھے، کسی کو مسٹر ایکس اور کسی کو مسٹر وائی کہا تا کہ ذمے داروں کو دباؤ میں رکھا جا سکے۔ ان کی حکمت عملی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ بلا وجہ ہی شور مچا دیا جائے چاہے کچھ بھی نہ ہو تا کہ ایک خاص ماحول بن جائے اور پھر اس کا مخصوص فائدہ اٹھایا جا سکے۔ حال ہی میں اعتماد کا ووٹ اسکی بہترین مثال ہے۔ پی ٹی آئی نے ایسے ہی شور مچا دیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ہمارے لوگوں کو توڑ رہی ہے۔ گمنام نمبروں سے فون آرہے ہیں۔ پھر جب نمبر پورے ہو گئے تو جیت کا جشن منا لیا۔ کسی نے خان صاھب سے نہیں پوچھا کہ ان کے الزامات کا کیا ہوا۔ اسی لیے عمران خان محسن نقوی کے ساتھ بھی وہی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔

مزمل سہر وردی کہتے ہیں کہ دوسری جانب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتراض ہے کہ وہ ان کے رشتے دار ہیں حالانکہ محسن نقوی جس گھرانے کے داماد ہیں وہ سیاست میں نہیں ہے اور ان کا سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں۔ اس طرح تو پنجاب میں کسی نہ کسی کی کہیں نہ کہیں رشتے داری نکل ہی آئے گی۔ لوگ برادریوں سے دور کی رشتہ داری نکال لیتے ہیں۔ محسن نقوی نے خود کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑا ہے۔ان کے بھائی بہن نے کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑا۔ محسن نقوی کو آئین پاکستان کے تحت ایک منصب ملا ہے۔ انھیں بلا خوف اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کرنی چاہیے۔ سیاسی دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔ ویسے جو لوگ محسن نقوی کو جانتے ہیں انھیں اندازہ ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا سیاسی و غیر سیاسی دباؤ نہیں لیتے۔ ان کا چینل کئی دفعہ بند ہوا ہے۔ انھیں لوگوں کو نکالنے کے لیے کہا گیا۔ نجم سیٹھی کو جب کوئی چینل رکھنے کے لیے تیار نہیں تھا تو محسن نقوی نے انھیں رکھا۔ اسکے رد عمل میں عمران خان کی حکومت نے ان کا چینل بند بھی کیا لیکن انھوں نے نجم سیٹھی کا پروگرام بند نہیں کیا۔ اس لیے جو لوگ محسن نقوی کو جانتے ہیں ان کو اندازہ ہے کہ محسن نقوی اس طرح دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ وہ گجرات کی سیاست میں بطور نگران وزیر اعلیٰ کسی کی بالادستی قائم نہیں ہونے دیں گے۔ سب کو الیکشن لڑنے کا برابر موقع ہوگا، اگر کسی ایک فریق کا یہ خیال تھا کہ وہ دوسرے فریق کو الیکشن لڑنے ہی نہیں دے گا تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔ محسن نقوی ٹھنڈے مزاج کے انسان ہیں۔ ہنستے رہتے ہیں۔ انھیں کم ہی غصہ میں دیکھا گیا ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اپنے خلاف رد عمل میں وہ غصہ میں نہیں آئیں گے اور کوئی کام بھی غصہ میں نہیں کریں گے۔ لیکن انھیں اپنے مخالفین کو راضی کرنے کے لیے خوش کرنے کی حکمت عملی بھی نہیں اپنانی چاہیے۔ وہ رعایت ہی تو چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے یہی ہیں کہ محسن نقوی کو دباؤ میں لائیں اور اپنا کام نکلوائیں۔ لہازا اس کوشش کو ناکام بنانا ہی محسن نقوی کا پہلا امتحان ہوگا۔ ان کی شخصیت کو جانتے ہوئے کہا جا سکتا یے کہ یہ ان کے لیے کوئی امتحان نہیں ہے۔

مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل عمران خان کی جانب سے ایک سیاسی خود کشی ہے۔ آہستہ آہستہ انھیں اس کا احساس ہونا شروع ہو گیا ہوگا۔ قومی اسمبلی سے استعفی دینا بھی ان کی سیاسی غلطی کے طور پر تسلیم ہو چکا ہے اور اسی لئے انہوں نے آخری لمحات میں اس فیصلے کو واپس لینے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اس لیے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔

Related Articles

Back to top button