عمران کو پنجاب اور کے پی کے میں بھی سرپرائز دیں گے

پیپلزپارٹی  کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف  زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں صوبائی حکومت تبدیل کرنے کے لیے ان کے پاس نمبرز ہیں اور اگر اسمبلیاں نہ توڑی گئیں تو ہر جگہ عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے، عمران خان کو پنجاب اور کے پی کے میں بھی سرپرائز دیں گے۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو میں ایک سوال پر سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پنجاب میں حکومت تبدیل ہونی چاہیے، میرے پاس نمبرز ہیں اور نمبرز بھی بڑھاسکتا ہوں، چوہدری پرویز الہٰی سے کیا بات کریں گے اور بڑی چوائسز ہیں،چوہدری پرویز الہٰی سے ناراضی نہیں بلکہ دوریاں ہیں جن کو ختم کیا جاسکتا ہے، پہلے بھی ختم کیا تھا اور ان کو ڈپٹی وزیراعظم بنایا تھا جو پوسٹ ہی نہیں تھی اور ان کو 17 وزارتیں دی تھیں اب انہوں نے خود دوری اختیار کی ہے تو دیکھیں گے، پنجاب میں بہت چوائسز ہیں ان سے بہتر چوائسز ہیں کیونکہ اب وہ دوریوں میں ہیں۔

انہوں نےقبل از انتخابات کے حوالے سے سوال پر کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ پہلے انتخابات ہمیں یا جمہوریت کے لیے سودمند ہوں گے، عمران خان اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دیتے ہیں تو انتخابات ہوں گے جس کے جواب  انکا کہناتھاتھا کہ پھر انتخابات ہوں گے لیکن دیکھتا ہوں وہ کتنے اراکین بناتا ہے، اگر وہ اسمبلیاں توڑیں گے تو ہم انتخابات لڑیں گے اور اگر نہیں توڑیں گے تو اپوزیشن کریں گے،اگر اسمبلیاں نہیں توڑی گئیں تو ہر جگہ عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی لائیں گے۔

انٹرویو کے دوران آصف زرداری سے سوال کیا  گیاکہ وہاں تو آپ کے پاس اتنی سیٹیں نہیں ہیں تو ان کا جواب تھا کہ سیٹیں ہیں، تھوڑے دوست گمراہ ہیں، ان کو واپس لانا ہے، کوئی ایسا طریقہ کریں گے جس میں ان کو استعفیٰ بھی نہ دینا پڑے اور اسمبلی بھی چلے اور حکومتیں بھی چلیں، ہم نے پہلے کون سے اراکین خریدے ہیں بلکہ گفتگو ہوتی ہے کہ اگلے انتخابات میں ساتھ چلیں گے، ایسا نہیں ہوتا کہ 50 کروڑ لے لیں اور اسمبلیاں گرادیں،میں نے کوئی بندہ نہیں خریدا اور ضرورت ہی نہیں پڑتی اور ہی فارمولا دوبارہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بھی انتخابات سے پہلے ہوگا، انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہیئں، نئی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی دباؤ نہیں آئے گا اور میرے خیال میں انہوں نے بات کی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست سے الگ ہوگئے تو میں اس کو سراہتا ہوں۔

سابق صدر نے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے سوال پر  کہا کہ میں ان کو نہیں جانتا، میں صرف جنرل عامر کو جانتا ہوں لیکن وہ چھٹے نمبر پر تھے اگر دوسرے نمبر پر بھی ہوتے تو کچھ کرتا، میں چاہتا تھا لیکن وہ بہت نچلے نمبر پر تھے، آرمی چیف کی تعیناتی ادارے کی طرف سے ہوئی ہے اور سینئر ترین جنرل کو آرمی چیف بنایا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ آئینی حق استعمال کریں، ہم آپ کے اتحادی ہیں اور ہم آپ کو آئینی حق استعمال کرنے کی اتھارٹی دیتے ہیں،جنرل قمر جاوید باجوہ نے توسیع کے لیے مجھ سے کبھی بات نہیں کی، اگر وزیراعظم سے کی ہو تو پتا نہیں۔

Related Articles

Back to top button