ملک قرضوں میں جکڑا، ملکرچیلنجز کا مقابلہ کریں گے

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک قرضوں میں جکڑا ہے مل کرچیلنجز کا مقابلہ کریں گے،عوام کو جلد مہنگائی سے نجات ملے گی، عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے ،ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتیں مزید کم ہوں تاکہ عوام کو مہنگائی سے کچھ ریلیف ملے، امید ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں کم ہونے سے عوام کو کچھ ریلیف ملے گا۔

اسلام آباد میں گرین اور بلیو لائن بس سروس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نےایک ماہ تک مفت سروس فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے لوگ سفری سہولت سے فیضیاب ہونے والے ہیں، گرین لائن اور بلیو لائن میں عوام ایک ماہ تک مفت سفر کریں گے، منصوبے پر کام کرنے والے لوگوں کے شکر گزار ہیں، 4 سال کی تاخیر پر قوم جواب مانگتی ہے، چیئرمین سی ڈی اے کو ماضی کی تاخیر اور کوتاہیوں کا ازالہ کرنا چاہیے،ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اس منصوبے سے فیض یاب ہوں گے، ماضی کی تاخیر کے ازالے کے لیے سب مل کر کام کریں، تمام ادارے دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے محنت کریں۔

انہوں نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتیں کچھ کم ہوئی ہیں ورنہ عالمی سطح پر ان کی قیمتوں کی وجہ سے لاکھوں، کروڑوں لوگ پریشان تھے، تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں نے دنیا کو پریشان کر رکھا ہے،ملک میں مہنگائی کا سلسلہ گزشتہ 4 سال سے جاری ہے، عام آدمی اپنی گزر اوقات کے لیے دن رات محنت کرتا ہے اور بڑی مشکل سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتیں مزید کم ہوں تاکہ عوام کو مہنگائی سے کچھ ریلیف ملے، امید ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں کم ہونے سے عوام کو کچھ ریلیف ملے گا۔
شہباز شریف نے کہاآج میری ایک بہت اہم میٹنگ ہے جس میں شمسی توانائی سمیت سستی بجلی کی فراہمی سے متعلق اہم فیصلوں اور اقدامات پر غور ہوگا، شمسی توانائی کے منصوبوں سے عوام کی مہنگی بجلی سے جان چھوٹ جائے گی،ہم وفاقی سطح پر پورے پاکستان کے لیے ویسے ہی اقدامات کرنا چاہتے ہیں جسا کہ اقدام وزیر اعلیٰ پنجاب نے فری بجلی فراہمی کے حوالے سے کیا، سستی شمسی توانائی کا جال پورے ملک میں بچھائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا 75 برسوں میں سیاسی جماعتوں اور آمروں نے ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، محنت سے ترقی کی منازل طے کریں گے، عوامی فلاح کے منصوبے حکومت کی ترجیح ہیں، سالانہ 20 ارب ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں، ماضی کی حکومت نے انتہائی ناقص منصوبہ بندی کی،منصوبوں کی تکمیل کے لیے محنت کرنے والوں کا مشکور ہوں، آئندہ منصوبوں میں غیرمعیاری ٹینڈرنگ ہوئی تو خیر نہیں، ملک قرضوں میں جکڑا ہے مل کر چیلنجز کا مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہاترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت یقینی بنا رہے ہیں، عوامی منصوبوں کی ایسے نگرانی کریں جسے اپنے بچوں کی کرتے ہیں،ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے لیکن ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ مل کر کریں گے، ہماری حکومت معیشت کی بہتری کے لیے کوشاں ہے، عوامی فلاح کے منصوبے حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

Related Articles

Back to top button