غیر سیاسی ہو جانے والی فوج کا فیض سیاسی کیوں ہے؟


فوجی ترجمان میجر جنرل افتخار بابر کے اس بیان کے باوجود کہ ’جلد الیکشن کا فیصلہ سیاست دانوں نے کرنا ہے اور فوج کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے، حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ایک تگڑا گروہ عمران خان کے ساتھ مل کر فوری الیکشن کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے لہذا اگر فوج اپنے غیر سیاسی اور نیوٹرل ہو جانے کے دعوے پر قائم ہے تو اس پر عمل درآمد یقینی بنائے اور سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کو بھی سیاست سے دوری اختیار کرنے پر مجبور کرے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2021 میں بطور آئی ایس آئی سربراہ عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پوری طرح سیاست میں ملوث ہیں اور خود کو نیا آرمی چیف بنوانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ سیاسی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ عمران خان کو نومبر 2022 سے پہلے اقتدار سے اس لیے نکالا گیا تاکہ وہ فیض حمید کو نیا آرمی چیف نہ بنا پائیں۔ فیض حمید کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ عمران کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں ان کے لیے سیاسی انجینئرنگ کرتے رہے۔ اسی لیے فیض حمید کے ہٹتے ہی عمران حکومت دھڑام سے نیچے آ گری۔ لیکن عمومی تاثر یہی ہے کہ اس وقت فوج میں دو دھڑے ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں اور فیض حمید کا دھڑا عمران خان کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کو فوری الیکشن پر مجبور کر رہا ہے۔ تاہم تازہ خبر یہ ہے کہ لندن میں نواز شریف کی زیر صدارت لیگی قیادت نے فوری الیکشن نہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیض حمید کی جانب سے عمران کے ایما پر حکومت کے خلاف کی جانے والی سازشں اب زبان زد عام ہے اور اسی لیے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور مریم نواز نے بھی ان پر تنقید کی ہے۔ حیرت انگیز طور پر فوجی ترجمان نے اس تنقید کا دفاع کیا ہے حالانکہ عمومی تاثر یہی تھا کہ فیض حمید اور جنرل باجوہ دو متحارب دھڑوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج پر تنقید نہ کی جائے اور جرنیلوں کو موضوع بحث نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دان خود بیٹھ کر بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔جب بھی فوج کو کسی سیاسی معاملے میں بلایا گیا تو وہ معاملہ متنازع ہو جاتا ہے۔ سیاست دان الیکشن کا فیصلہ خود کریں سکتے ہیں۔ اگر الیکشن کے دوران سیاست دان فوج کو سیکیورٹی کے لیے بلائیں گے تواپنی خدمات پیش کریں گے۔ انکا کہنا تھا کہ فوج کبھی بھی سیاست دانوں کو ملاقات کے لیے نہیں بلاتی۔ جب فوج کو درخواست کی جاتی ہے تو پھر آرمی چیف کو ملنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ساری کی ساری ذمہ داری سیاست دانوں پر ہوتی ہے۔ افتخار بابر کے مطابق ’پاکستان کے عوام اپنی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں۔ مسلح افواج کا کردار عوام کے لیے ہمیشہ اچھا رہے گا۔

افتخار بابر کہنا تھا کہ پچھلے چند دنوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ نے مسلح افواج کی لیڈرشپ کے خلاف بیانات دیئے۔ ہم نے بار بار درخواست کی ہے مسلح افواج کو سیاسی گفتگو سے باہر رکھیں۔ ہمارے سیکیورٹی چیلنجز اتنے بڑے ہیں کہ ہم ملک کی سیاست میں شامل نہیں ہوسکتے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کی حفاظت کے اندر کوئی بھول چوک ہوئی تو معافی کی گنجائش نہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ فوج کے اندر تقسیم ہوسکتی ہے تو اس کو فوج کے بارے پتا ہی نہیں۔ پوری فوج ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ فوج اپنے آرمی چیف کی طرف دیکھتی ہے۔ کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی فوج کے اندر تقسیم پیدا کرسکتا ہے۔ واضح کر دوں جائز تنقید سے پرابلم نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اس موقع پر افتخار بابر نے آصف زرداری، بلاول بھٹو اور مریم نواز کی جانب سے سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے دیئے گئے بیانات پر بھی تبصرہ کیا اور انہیں افسوسناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پشاور کور کمانڈر کے بارے میں سیاست دانوں کے بیانات انتہائی نامناسب ہیں۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ پشاور کور کی قیادت بہترین پروفیشنل ہاتھوں میں ہے اور ایسے بیانات کے فوج اور اسکی قیادت کے مورال اور وقار پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن حکومتی اتحاد کی قیادت اس موقف سے اتفاق نہیں کرتی کہ فیض حمید ایک پروفیشنل سولجر ہے اور اسکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کی فیض حمید پاکستانی فوجی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل ہیں جنہوں نے پہلے آئی ایس آئی کے پلیٹ فارم کو غلط استعمال کیا اور اب بطور کور کمانڈر پشاور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے حکومت مخالف عمران خان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔

Related Articles

Back to top button